قبض کیا ہے؟ وجوہات ، علاج
اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے یا آئے تو پاخانہ تھوڑا تھوڑا کئی بار آئے یا روزانہ حاجت ہونے کے بجائے دوسرے تیسرے روز آئے
دونوں صورتوں کو قبض کہتے ہیں
باقاعدہ اجابت نہ ہونے سے طبیعت مضمحل رہتی ہے جسم کا تھکا تھکا زبان میلی اور بھوک روز بروز کم ہونے لگتی ہے
جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہو تو ان میں نئی غذا کا داخل کرنا ممکن نہیں رہتا اور جب غذا اندر نہ جائے تو توانائی میں کمی ایک لازمی نتیجہ ہے
آنتوں میں خوراک جب معمول سے زیادہ ٹھہرتی ہے تو وہاں پر سٹراند پیدا ہوکر بدبو دار ریاح پیدا ہوتی ہے
اگر رکاوٹ زیادہ ہوتو ان ریاح کا اخراج نہیں ہوتا ۔اس طرح پیٹ بوجھ کے ساتھ ڈھولک کی طرح تن جاتا ہے
پیٹ میں ریاح کی کثرت کی وجہ سے دماغ پر بوجھ چکر بے خوابی لازمی نتائج ہیں
پیٹ میں جب بوجھ محسوس ہو رہا ہوتو آسانی سے نیند نہیں آتی
ڈکار مارنے کی کوشش بذات خود ایک بیماری ہے جس سے اور مسائل پیدا ہوتے ہیں
علاوہ ازیں اطباء کا قول ہے قبض عام بیماریوں کی ماں ہے
وجوہات ، علاج
قبض کے علاج کے سلسلہ میں ابتدائی اہم بات غذا ہے پرانی قبض میں مبتلا لوگوں کو کھانا وقت پر کھانا چاہئیے
کھانا جو بھی ہو اس میں پھوک یا ریشہ کی معقول مقدار ہونی چاہئیے
گوشت کے ساتھ اگر سبزیاں شامل نہ ہوں تو ان کی کمی پھلوں سے دور ہو سکتی ہے
لیکن پھلوں کا جوس یا عرق ہرگز اس ضرورت کو پورا نہیں کرتے آٹا ان چھنا ہو
پانی کی زیادہ مقدار بھی قبض کشاء ہے
لیکن کھانے کے ساتھ اس کی مقدار بہرحال کم ہونی چاہئیے رفع حاجت کے لئے کموڈ کی نسبت پیروں پر بیٹھنا زیادہ مفید ہے
اس شکل میں مریض اپنے بائیں گھٹنے کو جوکہ پیٹ کے ساتھ لگا ہوتا ہے
اگر اندر کی طرف دباکر رکھیں تو یہ بڑی آنت کے آخری حصے پر دباؤ ڈال کر اس میں موجود اشیاء کو اپنے دباؤ کی مدد سے آگے کو دھکیل کر باہر نکلنے پر مجبور کر دیتا ھے۔
قبض کا دوسرا اہم علاج غذا اور حاجت کے اوقات کا تعین ہے
اس طرح وقت پر حاجت ہونے کی عادت بن جاتی ہے مگر اس کے لئے تین اہم لوازمات ہیں
خالی پیٹ بیت الخلاء نہ جائیں ضرور کچھ کھاکر جائیں۔
رات کو کھانے اور سونے کے درمیان کم از کم تین گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہئیے اور اس وقفہ کے درمیان 500 قدم چلنا بھی ضروری ھے۔
جو کا دلیہ پیٹ کو اس طرح صاف کر دیتا ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر اس سے غلاظت کو اتار دیتا ہےیہ ایک بڑی خوبصورت مثال ہے کیونکہ جَو میں باریک ریشہ کثیر مقدار میں ہوتا ہے
یہ پیٹ میں جاکر پھولتا ہے اور آنتوں میں بوجھ کی کیفیت پیدا کرکے اجابت کے عمل کو تیز کرتا ہے۔
ہم جانتے ہیں بواسیر پُرانی قبض جگر کی خرابیاں اور پیٹ تک آخری حصہ میں خون کی نالیوں میں دوران خون سست پڑ جانے سے پیدا ہوتی ہے
جب یہ ان کا علاج ہے تو مطلب یہ ہوا کہ انجیر قبض کو دور کرتی ہے۔
کھانا وقت پر کھایا جائے
رات کے کھانے کے بعد جلد نہ سویا جائے اور پیدل چلا جائے
کھانے سے پہلے تربوز یا خربوزہ پیٹ کو صاف کرتا ہے
ناشتہ میں جو کا دلیا آنتوں کو صاف کرتا ہے جا سکتا ہے جس کے لئے خود علاج کرنے کی بجائے کسی مستند معالج سے رجوع کرنا چاہئیے کہ یہ بیماری خطرناک ہو سکتی ہے
ریشے دار غذائیں کھائی جائیں جیسا کہ سبزیاں یا پھل
آٹا چھان کر نہ پکایا جائے کیونکہ اس کی بھوسی قبض اور دل کا علاج ہے
خشک انجیر کے 3۔ 2 دانے ہر کھانے کے بعد کھانے سے نہ صرف قبض ختم ہو جاتی ہے بلکہ یہ بواسیر کا علاج بھی ہے.
تحریر ڈاکٹر محمد اقبال ندیم ملانہ(گولڈمیڈلسٹ)
ڈاکٹرمحمد عبدالسمیع ملانہ(ہربلسٹ)
03013968589













