بجلی کا نیا ٹیرف لاگو تحریر عبد الستار سپرا۔

بجلی کا نیا ٹیرف لاگو کرنا عوام کو جیتے جی مارنے کے مترادف ہے:
حکومت بجلی9سے 29روپے فی یونٹ کرکے دومہینوں کی رعایت سود سمیت واپس لی رہی ہے:
مستقبل پاکستان عوامی ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گی،مسائل کے حل کی ہر ممکن کوشش کریں گے:
رہی سہی کسر بجلی کے بلوں کے جرمانوں پر 5سے 10فیصد سرچارج لگا کر پوری کی جارہی ہے:
عوامی خوشحالی کے بغیر پاکستان کسی طوربھی خوشحال نہیں ہوپائے گا،حکومت قوم کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرے
حکومت نے بجلی کا 9 سے 29 روپے فی یونٹ تک کا نیا ٹیرف لاگو کر کے عوام پر ایک اور بجلی بم گرا دیا ہے،قوم پہلے ہی ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہے تو اوپر سے بجلی کے ٹیرف میں اضافے کر کے جو دو مہینے رعایت دی گئی تھی اُس کو سود سمیت واپس لیا جارہا ہے اس کے ساتھ صارفین پر بجلی بلوں پر جرمانوں کی پالیسی بھی تبدیل کردی گئی جس پر اب مقررہ تاریخ کے 3 دن بعد ادائیگی پر 5 فیصد جبکہ زیادہ روز گزرنے پر 10 فیصد سرچارج لگایا جائے گا ایسے میں پاکستان کے عوام کس سے فریاد اور منصفی چاہیے انہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا کیونکہ حکومت سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہی ہے تو اپوزیشن کو اپنے آپ کی پڑی ہوئی ہے،مستقبل پاکستان عوامی ظلم و ستم پر کسی طور بھی خاموش نہیں بیٹھے گی بلکہ عوام کو درپیش مسائل کی آواز بلند کرتے ہوئے انہیں حل کرانے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔ ایک تو حکومت توانائی کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات نہیں اٹھا رہی دوسرا اپنی ناقص حکمت عملیوں اور ناکام پالیسیوں کا بوجھ قوم پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوششوں میں مگن ہے اگر اس طرح کا طرز عمل نہ بدلا گیا تو آنے والے دنوں میں ملک کے معاشی حالات ٹھیک ہونے کی بجائے مزید خراب ہوجائیں گے عوامی خوشحالی کے بغیر پاکستان کسی طور خوشحال نہیں ہوپائے گا تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اتحادی حکومت ہوا میں تیر چلانے کی بجائے زمینی حقائق مد نظر رکھ کر عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کے تاکہ اُن کو درپیش مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکیں۔