سولہ نومبر یوم وفات
مولانا لقمان علی پوری

یوم وفات16نومبر2000یادگاراسلاف رفیق امیرشریعت
پروانہ جمیعت مجاھد اسلام نڈر بہادر عالم دین محبوب العلماءوالصلحاءحضرت مولانامحمد لقمان علی پوری رحمۃ اللہ علیہ اللہ رب العزت درجات بلندفرمائے آمین ثم آمین
حضرتہکاتعارف حالات وقعات دینی اسفار دینی خدمات
وفات16نومبر2000ءشعبان 1415ھ نومبر 2000ء کی درمیانی شب‘ رفیق امیر شریعت ؒ‘ مجاہد اسلام‘ خطیب شعلہ نوائ‘ مقرر خوش بیان‘ یاد گار اسلاف‘ حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریؒ نشتر ہسپتال ملتان میں دل کے دورہ کے ہاتھوں آخرت سدھار گئے۔ اناﷲ وانا الیہ راجعون!
حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری ضلع مظفر گڑھ کی بستی رنوجہ کے رہائشی تھے۔ ابتدائی تعلیم حضرت مولانا نظام الدین ؒ فاضل دیو بند سے بستی تھیم والا میں حاصل کی دورہ حدیث شریف شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی ؒ کے ہاں کیا۔
*پاکستان بننے کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دار المبلغین میں سب سے پہلی جماعت جس نے ردقادیانیت پر فاتح قادیان مولانا محمد حیات ؒ سے تربیت حاصل کی اس میں مولانا محمد لقمان علی پوری ؒ بھی شامل تھے۔* مناظرہ کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت امیر شریعت ؒ کی ہدایت پر آپ کو ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ میں مبلغ لگا دیا گیا۔ آپ نے دن رات ایک کرکے پورے علاقہ میں قادیانیت کے خلاف کلمہ حق بلند کیا۔ آپ کی شعلہ نوائی سے قادیانیت بوکھلا گئی۔ اور زخمی سانپ کی طرح بل کھانے لگی۔ آپ پر مقدمات قائم ہوئے۔ جیلوں میں گئے۔ لیکن ہر میدان کے فاتح رہے۔ آپ کی للکار سے کفر کے ایوانوں پر زلزلہ برپا ہو جاتا تھا۔
*گوجرانوالہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ رہے*۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ نے اپنے ضلع مظفر گڑھ سے گرفتاری دی۔ آپ کی آواز میں قدرت نے ترنم کا رس گھول دیا تھا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو فضائوں میں سکوت طاری ہوجاتا۔ آپ حق کی آواز تھے۔ مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے آپ نے وہ گراں قدر خدمات سر انجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھری ؒ کے آپ شاگرد تھے۔ ان پر دل وجان سے فدا تھے۔ حضرت جالندھری ؒ بھی بیٹوں کی طرح آپ سے محبت فرماتے تھے۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ‘ خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ کی رفاقت نے قومی دینی راہنما کی صلاحیتوں کا آپ کو امین بنا دیا تھا۔ مولانا محمد شریف بہاولپوری ؒ‘ مولانا تاج محمود ؒ ‘ مولانا محمد شریف جالندھری ؒ‘ مولانا عبدالرحمان میانوی ؒ‘ مولانا عبدالرحیم اشعرؒ سے آپ کے دوستانہ مراسم تھے۔ آپ پر اللہ تعالیٰ کادنیوی طور پر بھی فضل تھا۔ آپ کا شمار علاقہ کے متوسط زمینداروں میں ہوتا تھا۔ سیاست میں دلچسپی کے باعث مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنمائوں سے اجازت لے کر آپ نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ‘ مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی ؒ‘ مفکر اسلام مولانا مفتی محمود ؒ‘ مولانا عبید اللہ انور ؒ‘ مولانا عبدالحکیم ؒ‘ مولانا گل بادشاہ ؒ‘ مولانا عبدالکریم بیر شریف ؒ والوں کی آنکھوں کا تارا ہو گئے۔
کئی دفعہ قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا۔ اس سے ضلع و تحصیل میں آپ کی شخصیت نے جادو کے اثر کی مثال قائم کی۔ حکمران و سیاست دان آپ کے نام سے خم کھانے لگے۔ سرائیکی اور اردو کے آپ صاحب طرز خطیب تھے۔ سندھ اور پنجاب میں مدتوں آپ کی خطابت کی گرج دار گونج کی داستانیں دہرائی جائیں گی۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام اور ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے وہ کارہائے نمایاں سر انجام دیئے جس سے اکابر کی یاد تازہ ہو گئی۔ مولانا مرحوم کے دل میں سوائے اللہ رب العزت کے اور کسی کا خوف نہ تھا۔ بڑے بہادر اور جی دار مجاہد عالم تھے۔ آپ اپنے علاقہ کے غریبوں کے لئے رحمت پرورد گار کا پر تو تھے۔ ہر غریب کی مشکل میں اس کا سہارا بننا آپ کا معمول تھا ،
غریبوں کا کام کر کے خوش ہوتے تھے،خانقاہ دین پور شریف سے آپ کا جندجان کا رشتہ تھا،
حضرت مولانا میاں عبد الہادی اور مولانا میاں سراج احمد سے آپ کو عشق سا لگاؤ تھا،ان کے اشاروں پر فدا تھے، یہ حضرات بھی اپنی بھرپور شفقتوں سے ان کو نوازتے،
مولانا مرحوم دوست پرور عالم دین تھے آپ کے دوستوں کا کراچی سے خیبر تک حلقہ پھیلا ہوا ہے,
*جمیعت علماء اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف ایک لفظ سننا گوارا نہ تھا قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے دست راست شمار ہوتے تھے مولانا بھی مرحوم کی خدمات کے معترف تھے، قائدجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کو مولانا مرحوم اکابر کی روایات کا امین سمجھتے تھے اور وہ ان کے موقف کے ملک میں بہترین مناد تھے*
مولانامحمد لقمان علی پوری کی وفات نے بزرگوں کی وفات کے صدموں کو تازہ کر دیا کراچی سے خیبر تک جس کی للکار تھی جس نے قریہ قریہ گلی گلی اسلام کا فریضہ سرانجام دیا ،
وہ جلال پور کے ایک دینی جلسہ میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے دل کا دورہ پڑا،ملتان لایا گیا،
رات گئے دوبارہ تکلیف ہوئی اور اللہ العزت کے حضور حاضر ہو گئے،
بستی رنوجہ علی پور شہر میں آپ کے جنازے نے اہل حق کے جنازوں کا منظر پیش کیا،
آپ کی وصیت کے مطابق دین پور شریف میں آپ کو دفن کیا گیا
(از چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگارنگ ج1ص 383)