کسی شام چلا جاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔معروف صحافی نویدمدنی کی تیسری برسی کے موقع پر۔۔۔۔۔غم واندوہ میں لپٹا کالم۔۔۔۔۔۔متین قیصرندیم کے قلم۔۔ سے۔۔۔۔۔۔۔۔سٹارنیوزپر۔۔۔۔اظہار تشکر۔امتیازرحمانی
تیرے نام۔۔۔۔۔کا تارا جانے کب دکھائی دے
اک جھلک کی خاطر ہم رات بھر ٹہلتے ھیں
2021 نومبر کبھی نہ بھول پائیں گے اس ماہ کی کسک خلش اور چبھن ہماری زندگیوں کا حصہ بن گئی ہے شب وروز گزرتے ہیں گزرتے رہیں گے مگر زین العابدین مدنی ,محمد اویس مدنی ،عبدالمنان مدنی(میں کسی شام چلا جاؤں گا منظر سے
لوگ بہل جائیں گے کُچھ روز پریشاں ہو کر) آہ ہائے نوید
چھپ چھپ کر آنسو بہائیں گے درخت اپنی چھاؤں سمیت سرنگو ہوگیا۔محمد وقاص مدنی,فہد مدنی ،صائم مدنی احمد مدنی سعد مدنی نہ صرف اپنے بازو سے محروم ہوئے بلکہ ہمیشہ کیلے اپنے چہرے کی مسکراہٹ تمازت گنوا بیٹھے ۔بڑے حادثات ہوئے بڑی بڑی اموات ہوئیں مگر اس نا گہانی موت پر خونی رشتہ دار تو سوگوار تھے شاید پہلی بار ہواکہ دوست احباب کے ساتھ پورے علاقہ پر سکوت ہو سوگواری ہو ہر شخص کی أنکھ پرنم ہو دل سوز ہو
بقول شاعر اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
محترم شیخ امتیاز رحمانی کے ساتھ اکثر ملاقات ہو جاتی ۔میں ہمیشہ کہتاتھا کہ یار سارے دن اکٹھے رہتے ہو گھر بھی جاتے ہو وہ ہمیشہ کی طرح دائمی مسکراہٹ لیے مسکراتا رہتا بس مسکراتا رہتا ۔اب جب بھی امتیاز بھائی سے ملاقات ہو بے ساختہ منہ سے نکل جاتا ہے کہ بھائی اج پھر اکیلے ۔۔۔۔وہ کہتے ہیں یار چلاگیا بھائی چلا گیا مگر ۔۔۔۔ بےقرار کر گیا عہدساز شخصیت کمال شخصیت جمال شخصیت نوید مدنی غروب ہوگیا
اس شعر کا مطلب سمجھ آیا
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ورپیدہ
خدمت سیاست صحافت کے میدانوں کا دلیر جری سچا پہلوان ۔خیروشر علم وعمل کی دنیا کا قلندر ۔دوست احباب اور اقرباء کا پیار اور گھر والوں کا لاڈ تھا *
ہو جاتے ہیں یادوں کے دریچوں میں مقید!!
کچھ لوگ سہولت سے بُھلائے نہیں جاتے
ہر سال نومبر آئے گا مگر
*ختم ہو جائیں گے آہستہ آہستہ*
*غم نہ سہی ہم ہی سہی
صحافت تیری مقروض رہے گی ریاست تیری یاد سے محروم رہے گی دنیا رہے گی لیکن
*دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے*
مسافر مسافت پر تیری راہ تکیں گے راہی منزل پر تجھے یاد کریں گے میں تجھے یاد نہی کرتا بھائی کیونکہ میں تجھے بھولا ہی نہی کبھی .زبان کی گویائی, آنکھوں کی بصارت ,دل کی دھڑکن, چلتی نبض, پلکیں جپکھاتی آنکھیں ,کانوں میں سرگوشی کرکے شعور پر دستک دیکر تیرے ہونے کا احساس دلاتی ہیں پرندوں کی چہچہاہٹ پھولوں کی مسکراہٹ تتلیوں کی آوارگی دن کی تمازت رات کی تاریک خاموشی تیری اداؤں کا ذکر کرتی ہیں. تیرا بولنا للکارنا سچائی پر ڈٹ جانا دوستوں پر جان لٹانا تیری اس عادت نے ہم میں کبھی نفاق نہ ہونے دیا جگھڑا نہ ہونے دیا ۔۔اب باغ کو مالی سے پھولوں کو خوشبو سے عداوت سی ہو گئی ہے یار لوٹ آؤ آس بن کر امید بن کر ۔۔۔زین العابدین ,اویس ، عبدالمنان کی شکل میں آج بن کر مستقبل بن کر ۔۔میرا قلم غم کی دوات میں بار بار غوطہ زن ہو کر خون اگلنے لگا ہے آنسو بہانے لگا ہے
آخر میں بس اتنا ۔۔۔۔۔۔
*اوروں کے قصیدے فقط آوردہ تھے جاناں۔۔۔
جو تجھ پہ کہے شعر، وہ الہام سے اترے۔۔۔۔










