سلطان نیوز کاسلطان،،،خاکی فرد کی خاک پہچان۔۔۔۔۔۔۔چوہدری عبدالستار جٹ مرحوم ومغفور کی پہلی برسی پر سسکیوں میں لکھی تحریر ۔۔متین قیصر ندیم کے قلم سے۔۔ ۔ سٹارنیوزپر۔۔۔۔

چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹُوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو

عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو

ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا، جس نے
لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو

دل شکستہ ہے، کوئی ایسا ہنر مند بتا
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو

شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو
18 نومبر 2023ء کی یک بختہ ٹھٹھرتی رات چپکے سے میرے ہم نشیں میرے ہمدم میرے جگری یارکو جو سینہ تان کر ظلم و جبر زیادتی پرڈٹ کر کھڑا ہو جاتا تھا ۔سرکاری ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد چوہدری عبدالستارجٹ نے اپنے نامکمل خوابوں کی تعبیر کیلے علاقہ کی فلاح و بہبود کیلے ایسے پلیٹ فارم کا سوچا جو حقوق کی منصفانہ تقسیم اور جاگیرداروں ڈیرہ داروں کے ظلم کی چکی میں پستے معصوم لوگ جو بول نہی سکتے ظلم تو سہتے ہیں بغاوت نہی کرتے ان گونگوں بہروں غریب افراد کی آواز بن کر مقتدرہ ایوانوں کے دروازوں پر دستک دینے کا ارادہ کیا سیاست دانوں کے شعور کو جھنجوڑنے کا اعلان کیا ۔۔باہو دھرتی کا مان سمان بنانے کیلے *سلطان نیوز** ویب چینل لانچ کر دیا پسماندہ علاقے میں اس سے پہلے یہ سوشل میڈیا کا تجربہ کیا ہی نہی گیا باہو کی دھرتی کا ایک نام شیخ امتیاز رحمانی کا ساتھ سلطان نیوز کو سوشل میڈیا کی دنیا کا بے تاج بادشاہ بنا گیا ۔دنیا بھر میں احمد پور سیال اور باہو کی نگری کا نام گونجنے لگا مسائل ایوانوں کی دہلیز سے ٹکرانے لگے مظلوم کی آواز انتظامیہ کی نیندیں اڑانے لگی چار سو چرچا ہونے لگا سٹلائٹ چینل کی جگہ سلطان نیوز لوگوں کی ترجمانی کرنے لگا ۔صحیح غلط کا موازنہ ہونے لگا ناانصافی پر پروگرام ہونے لگے کرپشن بے ایمانی کام چوری کی نشاندہی ہونے لگی فرعون ڈرنے لگے نوجوان بوڑھے اور باالخصوص خواتین پر ہونے والے کرائم گھریلو مظالم اور بچوں پر اٹھنے والے ہاتھوں کو لگام دی جانے لگی ۔احمد پور سیال تحصیل کے پڑھے لکھے باشعور نوجوانوں کو اتحاد واتفاق کی تسبیح میں پرو دیا گیا ۔مشکل کی گھڑی میں دوست بن کر بھائی بن کر اپنا بن کر کھڑا ہو گیا واہ بھائی عبدالستار تیری کمی تیری قدر تیرے نہ ہونے کے بعد ہوئی ۔صحافتی پروگرام ہر سال ہوتے ہیں ہوتے رہیں گے مگر تیرے مثل کوئی نہ ہوگا
بقول شاعر ہم نہ ہونگے ہمیں یادکرے گی دنیا
بےشک تو سماج میں ،معاشرے میں، گلی میں، محلے میں ،شہر میں ،تبدیلی کا خواہاں تھا کام کا شوق لوگوں کی محبت بے لوث وفا نے علاقے کا کونسلر بنا دیا ۔۔سسٹم اور غیر منصفانہ فنڈز کی تقسیم پر سراپہ احتجاج بھی ہوا ۔اپنے محدود وسائل اور غریب پروری، اپنی صالحہ عادات و اوصاف سے علاقے کے نیک صالح خود دار معززین میں شامل تھا ۔فون کال پر سلام دعا کے بعد جگر کیا حال ہے ۔اس لفظ کو سننے کیلے کان ترس گئے
بقول شاعر زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
صدمہ سہہ گئے آنسو پی گئے مگر کسک باقی ہے خلش باقی ہے زخم بھر گیا مگر چبھن باقی ہے
*ہمیں رہ رہ کر یاد آئیں گے رنجیدہ سخن
ان اداؤں میں نوازش کس قدر تھی موجزن
برس بیت گیا کیلنڈر بدل گیا مگر تیرا بچھڑنا اب بھی یاد ہے تیرا مسکرانا یاد ہے تیرا للکارنا یاد ہے
بقول شاعر میرا لفظ لفظ تراش کر۔۔۔۔۔۔۔
مُجھے حرف حرف تلاش کر

مَیں الف ہوا تو الم ہوا ۔۔۔۔۔
ہوا ب تو باعث غم ہوا ۔۔۔۔۔
جہاں پ نے پاؤں جکڑ لئے ۔۔۔۔
وہیں ت نے تلوے پکڑ لئے۔۔۔۔
کہیں ٹ جو مُجھ کو ٹکر گیا
وہیں ث نے مُجھ کو ثمر دِیا
کبھی ج مُجھ کو جلا گیا ۔۔۔
کبھی چ نے چکر چلا دِیا ۔۔۔۔
مگر ح نے حال بدل دِیا ۔۔۔۔
اور خ نے خال بدل دِیا ۔۔۔۔
تبھی د سے دِل لگا لِیا ۔۔۔۔۔
اور ڈ سے ڈنکا بجا دِیا ۔۔۔۔۔
پھر ذ سے ذات کو پا لِیا ۔۔۔۔
اِک ر سے رستہ بنا لِیا ۔۔۔۔
اِک ڑ سے بات بگڑ گئی ۔۔۔۔
تب ز سے زِینت سنور گئی
اور ژ سے ژاژ کا دَم گیا۔۔۔۔
ارے س سے مَیں سنبھل گیا
کِس ش نے مُجھے دے شعاع
تو ص نے مُجھے دی صبا ء
اور ض نے دِیا ضابطہ ۔۔۔۔
سرِ شام ط کے طنز سے ۔۔۔
سرِ بزم ظ کے ظرف نے ۔۔۔
میرے ع کو دِیا عزمِ نو ۔۔۔۔
میرے غ کو کِیا غرض گو۔۔۔
یہیں ف سے مِل گیا فاصلہ
یہیں ق سے مِلا قافلہ ۔۔۔۔۔
یہیں ک نے کہا کُچھ نہیں
یہیں گ نے گِنا کُچھ نہیں
مِلا ل تو اس نے لڑا دِیا ۔۔۔
میرے م نے مُجھے آ کہا۔۔۔۔۔
تیرا ن تُجھ سے نراش ہے۔۔۔۔
تیرا و وقت کی آس ہے ۔۔۔۔۔
کہا ہ نے ہاتھ کو تھام بس
کہا ء نے مَیں ہوں ءام مس
میری یہ نے آ کے یقِیں دِیا ۔۔۔
بڑی ے ،یہاں کی ہے سر براہ

ابھی وقت ہے تو تلاش کر۔۔۔۔
مُجھے لفظ لفظ تراش کر ۔۔۔۔
سادگی کا پیکر سچ کا ساتھی وفاؤں کا گلدستہ کردار کا پیکر قول وفعل کا کھرا
*تمھارے بعد سلیقے سے ہم نے رکھے ھیں
یہاں خیال ، وہاں یاد ، اُس طرف آنکھیں
گنگناتے راستوں کی دلکشی اپنی جگہ
اور ان کے درمیاں تیری کمی اپنی جگہ