سرگودھا کوٹ مومن کے فرشتہ صفت شخص کی انسان دوست و رحمدلی کی کہانی سوشل میڈیا پر وائرل

تحریر سید محمد علی

انتخاب محمد آصف علی

تقریباً ایک ہفتہ قبل اسلام آباد سے بہاولپور کا سفر کرتے ہوئے ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ شام چھ بجے فیض آباد سے روانگی ہوئی، اور بس موٹروے پر اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا کہ رات نو بجے شدید دھند کے باعث موٹروے بند کر دی گئی، اور بس کوٹ مومن کے قریب ایک انجان جگہ پر رک گئی۔

ڈرائیور نے رات وہیں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ جہاں بس رکی، وہاں ایک شادی ہال نظر آیا۔ شادی ہال کے مالک کو جب مسافروں کے حالات کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً اپنے ملازمین کو الرٹ کیا اور کہا، “ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کے مہمان آئے ہیں، ان کے لیے بہترین کھانے کا انتظام کریں۔”

یہ فرشتہ صفت انسان چوہدری مہتاب حسین ڈھب تھے، جو گلوریا پیلس کوٹ مومن کے مالک ہیں۔ انہوں نے تمام مسافروں کے لیے مٹن کڑاہی، پلاؤ، رشین سیلڈ، اور میٹھے میں کھیر پیش کی۔ کھانے کے بعد مردوں کے لیے ہال میں اور خواتین و بچوں کے لیے علیحدہ جگہ پر سونے کا انتظام کیا۔

رات گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا کیونکہ یہ نیک دل انسان پوری رات جاگتے رہے تاکہ مسافر سکون سے آرام کر سکیں۔ صبح مسافروں کے لیے ناشتہ پہلے سے تیار تھا۔ دن کے دس بجے جب موٹروے کھل گئی، تو مہتاب بھائی نے مسافروں کو دعاؤں کے ساتھ روانہ کیا۔

چوہدری مہتاب حسین ڈھب: ایک قابل فخر مثال
چوہدری مہتاب حسین ڈھب کی سخاوت اور نیکی نہ صرف اس بس کے 52 مسافروں بلکہ پورے پاکستان میں ہزاروں دلوں کو جیت چکی ہے۔ ان کی دریا دلی نے کوٹ مومن اور سرگودھا کے نام کو مثبت انداز میں نمایاں کر دیا ہے اور انکا قدم ہمارے مذہب اور خطے کی تہذیب کی عکاس ہے ہر علاقہ کے اکثریت لوگ اکثر پردیسیوں کی ایسے ہی مدد اور مہمان نوازی کرتے اکثریت علاقوں میں نظر آتے ہیں۔

نفسا نفسی اور مایوسی کے دور میں ایسے ہر چھوٹے بڑے مثبت رویے مثبت قدم کو سراہنا اور پھیلانا مثبت سوچ کو زندہ رکھنے و پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔

تحریر سید محمد علی