بھارت کسی غلط فہمی میں نہ رہے
تحریر محمد ذیشان بٹ
بھارت کو شاید کسی بڑی غلط فہمی نے گھیر رکھا ہے۔ وہ یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات، حکومتی مسائل اور اندرونی چپقلشوں کی وجہ سے ہم کسی بڑے ردعمل کے قابل نہیں رہے۔ نئی دہلی میں بیٹھا مکار دشمن یہ گمان کر رہا ہے کہ اگر وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کرے، بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلے اور پھر اس کا الزام پاکستان پر ڈال کر عالمی برادری کے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہائے، تو دنیا اس پر یقین کر لے گی۔
لیکن بھارت یاد رکھے کہ حقیقت اس کے خوابوں کے بالکل برعکس ہے۔ ہمارے ہاں چاہے اندرونی اختلافات ہوں، سیاسی دراڑیں ہوں یا وقتی افراتفری، جب بات مادرِ وطن پر آتی ہے تو پوری قوم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ دشمن کو جواب دینے کے لیے ہماری مسلح افواج تو تیار رہتی ہی ہیں، لیکن اگر ضرورت پڑی تو عام پاکستانی بھی سینہ تان کر دشمن کے مقابل کھڑا ہو گا۔ بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارے جوان صرف نوکری کے لیے نہیں لڑتے، انہیں ان کی مائیں خود دعاؤں کے ساتھ محاذ پر روانہ کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ شہادت سے کم پر دودھ معاف نہیں۔ یہ دنیا کہ واحد قوم ہے جس کہ جوان مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت باڈر کھولے فوج تو فوج ہے ہمارے نعروں کے خوف سے ہی نیندیں اڑ جائیں گی پھر عالمی برادری سے جنگ بندی کی منتیں کرتا پھرے گا
بھارت کی بزدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتا ہے، حالانکہ ہم نے اس کا فضائی راستہ بند کر کے دکھا دیا۔ جب بھارت نے اپنے شہریوں کو چوبیس گھنٹوں میں پاکستان چھوڑنے کا کہا، ہم نے بھی اسی جذبے سے ان کے ویزے منسوخ کر دیے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی سیاسی چالاکیاں ہمیں مرعوب کر لیں گی، مگر وہ یہ بھول بیٹھا ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جس کے رہنما نے دنیا کو للکار کر کہا تھا کہ اگر ہم نہ بھی رہے تو ہمارا بدلہ لینے والے تمہیں چین سے جینے نہیں دیں گے۔
بھارت کی دہشت گردی صرف کشمیر یا پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ہاتھ کینیڈا، امریکہ اور افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں میں بھی رنگے ہوئے ہیں۔ کینیڈا کی حکومت نے خود بھارتی ایجنسیوں کو اپنے ملک میں قتل کی وارداتوں میں ملوث پایا۔ امریکہ میں بھی بھارتی سفارتکاروں کی مشکوک سرگرمیاں زیرِ تفتیش رہیں۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی “را” کی کارروائیاں کوئی راز نہیں رہیں۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان پوری دنیا نے سنا، جس میں اس نے تسلیم کیا کہ وہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے لیے آیا تھا۔
چند سال قبل درختوں پر بم برسا کر بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس نے دہشت گردوں کے کیمپ تباہ کیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان درختوں کے سوا کچھ بھی متاثر نہیں ہوا۔ یہ وہی واقعہ ہے جسے بھارتی میڈیا نے “سرجیکل اسٹرائیک” کا نام دے کر پیش کیا اور عوام کو گمراہ کیا۔ لیکن دنیا نے سچ دیکھا اور بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر بے نقاب ہوا۔
ہم پاکستانی پرامن قوم ہیں، ہم نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے، دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے، مگر اگر کوئی ملک اپنے سائز اور طاقت کے گھمنڈ میں جنگ مسلط کرنا چاہے تو ہم جواب دینا جانتے ہیں۔ ہم پرامن ضرور ہیں، مگر کمزور نہیں۔ بھارت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اب وہ وقت گزر چکا جب اس کی دھمکیاں ہمیں خوفزدہ کرتی تھیں۔ اب ہم ہر محاذ پر تیار ہیں، چاہے وہ سرحد ہو یا سفارتی میدان۔
ہم نے بھارت کے ساتھ بارہا بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا، مگر اس نے ہر بار ہٹ دھرمی دکھائی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کیا، کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبایا، اور اپنی ریاستی دہشت گردی کو “انسدادِ دہشت گردی” کا نام دیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کے اصل چہرے کو پہچانے۔ یہ وہ ملک ہے جو اپنے مفادات کے لیے نہ صرف ہمسایہ ممالک میں بلکہ پوری دنیا میں بدامنی پھیلانے سے باز نہیں آتا۔
پاکستانی قوم بھارت کی کسی دھمکی یا سازش سے گھبرانے والی نہیں۔ ہماری تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے، اور ہم کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت اگر کسی غلط فہمی میں مبتلا ہے تو بہتر ہے کہ وہ وقت رہتے آنکھیں کھول لے۔ کیونکہ اب اگر اس نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو یہ قوم صرف جواب نہیں دے گی، بلکہ ایسا سبق سکھائے گی کہ تاریخ بھی اسے یاد رکھے گی۔








