ڈاکٹر غیاث گل خان ڈی پی او اٹک مجرموں کے لیے دہشت کا نشاں*
تحریر :- تفسیر احمد خان
افغان وار کے بعد سے پاکستان بھر میں بالخصوص ضلع اٹک میں جرائم پیشہ عناصر نے ڈیرے ڈال رکھے تھے،سابق ڈی پی اوز میں محمد وصال فخر سلطان راجہ اور کپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان ایسے افسران گزرے ہیں جنہوں نے مجرموں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا تھا مذکورہ بالا افسران کے اٹک سے تبادلے کے بعد جرائم پیشہ عناصر منشیات فروش ڈکیت کار لفٹر موٹر سائیکل چورقبضہ مافیا اٹک میں بے لگام گھوڑے کی مانند ہوگئے تھے اٹک میں %50 فیصد نوجوان نسل آئیس جیسے لعنتی نشے پر لگ چکی تھی یہاں تک کے تعلیمی اداروں میں بھی یہ نشہ عام ہو چکا تھا ہر دوسرا نوجوان آئس کے نشے پر لگا چکا تھا اور پھر 6فروری 2023 کو پنجاب پولیس کے شیر دل آفیسر ڈاکٹر غیاث گل خان کی بطور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر تعیناتی نے جرائم پیشہ عناصر کے لئے خطرے کی گھنٹیاں بجا دیں اور منشیات فروش،کار لفٹر موٹر سائیکل چور قبصہ مافیا اور دیگر چھوٹے موٹے چور چکار اور عادی مجرموں نے اٹک سے بھاگنے میں عافیت سمجھی چند ایک نے مزاحمت کی کوشش کی تاہم بے سود رہے کیونکہ جرائم پیشہ عناصر کے سہولت کاروں نے ڈی پی او اٹک کے ارادوں کو بھانپتے ہوئے مجرموں کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیے تھے کچھ ہی وقت میں وہ بھی رفوچکر ہوگئے واضع رہے کہ ڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث گل خان کی ڈائری میں مجرموں کے لئے نرم گوشی کی کوئی گنجائش نہیں ان کا کہنا ہے مجرم جتنا مرضی طاقت ور کیوں نہ ہو قانون سے نہیں بچ سکتا ہے شاید وہ اس بات پہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مجرم بڑے سے بڑا جرم کرکے بھی قانون کے شکنجے سے محض اس لئے بچ جاتے ہیں کہ ہمارے نظام انصاف میں بہت ساری خامیاں موجود ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 302جیسے مقدمات میں ملوث افراد باعزت بری ہو جاتے رہے ہیں چور اچکے منشیات فروش تو عموماً بچ جاتے ہیں ڈی پی او اٹک نے حالیہ دنوں میں جس طرح بڑے نامی گرامی ،عادی مجرموں پر ہاتھ ڈالے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر جرائم اور مجرموں کی تلفی کررہے ہیں سخت چالان جرائم کی شرح میں واضع کمی کا باعث ہے اب مجرم ایک بار ضرور سوچتے ہیں کہ اگر پولیس کے ہاتھ لگ گئے تو سزا پکی ہے اسی لئے اکثر مجرم اٹک سے راہ فرار اختیار کر چکے ہیں باقی رہ جانے والوں کا تیا پانچہ جلد متوقع ہے عوامی سماجی حلقوں نے ڈی پی او اٹک کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایسے آفیسر صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ڈی پی او اٹک ڈاکٹر غیاث گل خان کا نام سہنری حروف میں لکھا جائے گا اس وقت اٹک کا بچہ بچہ جان گیا ہے ڈی پی او اٹک کو اٹک کی عوام اب چین کی نیند سوتی ہے ورنہ کچھ عرصہ قبل اٹک کسی قبائلی علاقے کی مانند بن چکا تھا،ڈی پی او اٹک کے شکر گزار ہیں کہ جن کی وجہ سے ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو گئی ہے اور اب تو مجرم جرم کرنے سے پہلے 100 بار نہیں 110 بار ضرور سوچتا ہو گا اور عوام کا مزید کہنا تھا کے ڈی پی او اٹک جو کے ڈاکٹر ہیں اور مجرم کے سپیشلیسٹ بھی ہیں










