پولیس کا morale انچارج چوکی نیکوکارہ اعظم خان بلوچ اور ڈی پی او جھنگ سے گذارشات
تحریر علی امجد چوہدری
اعظم خان بلوچ جھنگ پولیس کا ایک خوبصورت چہرہ ہیں جھنگ میں کئی چوکیوں کے انچارج رہ چکے ہیں کبھی ان پر بدعنوانی اقربا پروری کے الزامات نہیں لگے تاہم ان کی زندگی کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے محکمہ سے وفاداری محکمہ کی رٹ کی مضبوطی کے لیئے یہ اپنی جان بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں اور عہدہ بھی محمود کوٹ کی چوکی ہو یا نیکوکارہ جب انچارج تھے culprits ان چوکیوں کی حدود سے بدر ہی رہے تھانہ گڑھ مہاراجہ میں بطور investigation officer بہتری پرفارمینس کے بعد انہیں نیکوکارہ چوکی کا انچارج تعینات کیا گیا یہ اپنی duty کے
معاملے میں انتہائی vigilant ہیں اور یہی انتہائی حساسیت ان کے عہدے کے لیئے خطرہ بھی بن جاتی ہے چوکی کی حدود میں 15 پر کال ہوئی یہ پلک جھپکتے ہی وہاں پہنچے بڑے خطرے نقصان سے متحارب فریقین کو محفوظ رکھا مگر الزامات کی زد میں آگئے ڈی پی او جھنگ کیپٹن ریٹائرڈ بلال افتخار نے انہیں معطل کر دیا ان کی معطلی شاید اعظم خان کی زاتی شخصیت کے لیئے بہت بڑا مسئلہ نہ ہو مگر بطور پولیس آفیسر اعظم خان اور دیگر police officials کے مورال کے لیئے انتہائی اہم ہے اگر اعظم خان اور پولیس سسستی سے کام لیتی کوئی نقصان ہو جاتا تو یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا مگر اس پولیس آفیسر نے سرعت سے کام لے کر بڑے سانحے سے علاقے کو محفوظ رکھا کوئی شک نہیں بلال افتخار صاحب انتہائی زمہ دار پروفیشنل آفیسر ہیں اور ناانصافی ان کو چھو کر بھی نہیں گزری اس معاملے میں بھی ڈی پی او جھنگ سے گزارش کروں گا کہ اعظم خان کے معاملے کا از خود پھر سے نوٹس لے کر اس زمہ دار پولیس آفیسر اور دیگر officials کو demoralized ہونے سے بچائیں
علی امجد چوہدری








