سیکولر خواب، نفرت کی سیاست اور تنہائی کا سفر
تحریر: سلمان احمد قریشی
میں بھارت کو ہمیشہ ایک سیکولر اور جمہوری ریاست کے طور پر دیکھتا رہا ہوں۔مولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی کا بھارت، وہ ملک جس میں مذہبی تنوع اور ثقافتی ہم آہنگی کو ایک قوت مانا جاتا تھا۔ لیکن آج کا بھارت اُس خواب کی ضد بن چکا ہے۔یہ محض پاکستان یا مسلمانوں کی بات نہیں۔ بھارت نے اپنے ہی سکھ شہریوں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ خالصتان تحریک کو دبانے کے نام پر امرتسر میں سری دربار صاحب پر فوج کشی، ہزاروں سکھوں کا ماورائے عدالت قتل، اور سکھ رہنماؤں کا بیرون ملک تعاقب یہ سب دنیا دیکھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ کینیڈا نے کھلے الفاظ میں بھارت پر اپنی سرزمین پر قتل کروانے کا الزام عائد کیا، اور اس کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا۔یہی نہیں بھارت کے مشرقی خطے، یعنی سیون سسٹر ریاستوں (آسام، ناگالینڈ، میزورم، منی پور، میگھالیہ، تریپورہ، اروناچل پردیش) میں دہائیوں سے آزادی اور خودمختاری کی تحریکیں موجود ہیں، جنہیں بھارت مسلسل طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ منی پور میں حالیہ نسلی فسادات اور مقامی خواتین کے ساتھ درندگی جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی ریاست خود اپنی اکائیوں کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر ہے۔
ایسے حالات میں جب بھارت داخلی طور پر خلفشار، اقلیتوں پر جبر اور علیحدگی پسند تحریکوں سے نبردآزما ہے، وہ بیرونی محاذ پر جارحیت اختیار کرکے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان اس جارحیت کا پہلا نشانہ بنتا ہے، جہاں بھارت ہمیشہ دشمنی، الزام تراشی اور پروپیگنڈے کی سیاست کرتا آیا ہے۔ بھارت، مولانا آزاد یا گاندھی کا بھارت نہیں رہا۔ یہ مودی کا بھارت ہے۔جہاں سیکولر ازم دم توڑ چکا ہے، کانگریس کی جگہ بی جے پی کی شدت پسند سیاست چھا چکی ہے، اور ہندوتوا کے پرچارک اقتدار کے ایوانوں پر قابض ہو چکے ہیں۔ میڈیا، عدلیہ، سرمایہ دار طبقہ، حتیٰ کہ فلم انڈسٹری بھی اب اس نظریے کے تابع ہو چکی ہے۔ امن اور اعتدال کی بات کرنے والا غدار قرار پاتا ہے، اور مسلمانوں کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔بھارت کے اندر مسلمانوں، دلتوں، عیسائیوں، اور دیگر اقلیتوں پر ظلم اب معمول بن چکا ہے۔ نریندر مودی جیسے شخص کے ہاتھوں گجرات فسادات سے لے کر حالیہ انتہاپسند اقدامات تک، سب نے بھارت کے سیکولر تشخص کو داغدار کیا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے ہمیشہ امن اور مفاہمت کی بات کی ہے۔
میرے آبا و اجداد ضلع کرنال کے قصبہ شاہ آباد سے تعلق رکھتے تھے۔ ہجرت کے بعد دل میں ہمیشہ اس سرزمین کو دیکھنے کی خواہش رہی، مگر بھارت کا رویہ اور سرحد پار دشمنی کی پالیسی نے ان خوابوں کو خاک میں ملا دیا۔ کشمیر میں ظلم و جبر، لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ اور جنگی جنون یہ سب بھارت کی اس پالیسی کا تسلسل ہیں جو امن کو نہیں بلکہ نفرت کو آگے بڑھاتی ہے۔ سیکولر اور جمہوری ہونے کے دعوے دار بھارت نے نہ صرف پاکستان سے دشمنی کو مستقل پالیسی کا درجہ دیا بلکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کی انتہا کردی۔ امن اور دوستانہ تعلقات کی خواہش کبھی حقیقت کا روپ نہ دھار سکی، حالانکہ لاکھوں پاکستانی اپنے آبائی علاقوں، بارڈر پار رشتہ داروں اور ثقافتی جڑوں تک رسائی چاہتے ہیں۔
حال ہی میں بھارت نے ایک بار پھر اشتعال انگیزی کی کوشش کی۔ مگر پاکستان نے نہایت بردباری اور حکمت کے ساتھ پہلے سفارتی سطح پر مؤقف پیش کیا، اور پھر فوجی سطح پر ایک متوازن مگر مؤثر جواب دے کر بھارت کو اس کے عزائم سے باز رکھا۔ پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے پہلے سے زیادہ واضح، مربوط اور مدلل ہو چکا ہے۔
پاکستانی سیاست میں شدت پسندی کو کبھی قبول نہیں کیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنی جان گنوا بیٹھیں۔ آج بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان نے ایک سفارتی محاذ پر متحرک اور جدید وژن اپنایا ہے۔ بلاول کا نرم مگر مؤثر لب و لہجہ، جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کی بات اور پاکستان کے مؤقف کا جمہوری انداز میں دفاع یہ سب دنیا کے لیے پاکستان کا نیا چہرہ پیش کر رہے ہیں۔
بھارت کا جھوٹا پراپیگنڈا اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دوسرے ممالک میں بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔ سری لنکا کے ساتھ سفارتی کشیدگی، نیپال سے سرحدی تنازع، بنگلہ دیش کے ساتھ اعتماد کا بحران، بھوٹان کی ناراضی، اور چین کے ساتھ مستقل تنازعات یہ سب اس بات کے غماز ہیں کہ بھارت صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔
چین کے ساتھ لداخ اور اروناچل پردیش جیسے تنازعات میں بھارت کو سفارتی اور عسکری سطح پر پسپائی کا سامنا رہا۔ نیپال نے حالیہ برسوں میں اپنی نقشہ سازی میں بھارتی دعوؤں کو رد کر کے سخت مؤقف اختیار کیا۔ سری لنکا نے بھارت کے دباؤ کو رد کرتے ہوئے چینی سرمایہ کاری کو ترجیح دی۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش، جو ماضی میں بھارت کا قریبی اتحادی رہا، اب نئی دہلی کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی علاقائی اجارہ داری کی خواہش نے جنوبی ایشیائی ہمسایوں کو بھی فاصلہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بھارت کی داخلی اور خارجی پالیسی اب تنہائی کی جانب گامزن ہے۔ چین کے ساتھ لداخ میں جھڑپیں، نیپال کے ساتھ نقشہ تنازع، سری لنکا میں چینی اثرورسوخ پر اعتراض، بھوٹان کی ناراضی، اور بنگلہ دیش کا اعتماد مجروح ہونایہ سب بھارت کی کمزور سفارتی حکمت عملی کے آثار ہیں۔
پاکستان خطے میں امن، ترقی اور ہم آہنگی کا خواہاں رہا ہے۔ ہم نے ہمیشہ واہگہ، اٹاری، اور سلیمانکی جیسے بارڈرز کو عوامی روابط اور تجارت کے لیے کھولنے کی بات کی۔ کشمیر کو سیاحتی مرکز بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ لیکن بھارت نے ہمیشہ ہندوتوا، اکھنڈ بھارت، اور نفرت پر مبنی سیاست کو ترجیح دی۔
جب یورپ جیسا خطہ، جو دو عالمی جنگوں سے گزر چکا ہے، آج امن، تجارت اور اتحاد کی علامت بن چکا ہے، تو برصغیر ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ جواب واضح ہے بھارت کو اپنی داخلی شدت پسندی، اقلیتوں پر مظالم، اور ہمسایوں سے دشمنی کی پالیسی ترک کرنا ہوگی۔ بصورتِ دیگروہ نہ صرف عالمی سطح پر تنہا ہو جائے گا بلکہ اپنے ہی عوام کے درمیان بغاوتوں اور تحریکوں کا سامنا کرے گا۔پاکستان نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے، اب تاریخ بھارت سے بھی جواب مانگ رہی ہے کہ بھارت ماضی کی نفرتوں میں جینا چاہتا ہے یا مستقبل کی امیدوں کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ خطے میں پائیدار امن، ترقی، اور خوشحالی صرف اسی صورت ممکن ہے جب بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے وجود اور خودمختاری کو دل سے تسلیم کرے اور اکھنڈ بھارت جیسے خواب، ہندوتوا جیسے نظریات، اور نفرت پر مبنی پالیسیوں کو ترک کرنا ہوگا۔








