میدانِ عرفات میں اللہ پاک کے مہمانوں کا روح پرور منظر
تحریر: محمد زاہد مجید انور
ہر سال ذوالحجہ کی نویں تاریخ کو دنیا کا سب سے عظیم اجتماع میدانِ عرفات میں منعقد ہوتا ہے، جہاں لاکھوں حاجی سفید احرام میں ملبوس ہو کر اپنے رب کے حضور ہاتھ پھیلائے، آنکھوں سے اشک بہاتے، اور دلوں میں امید و خوف کے چراغ جلائے جمع ہوتے ہیں۔ یہ لمحہ نہ صرف روحانی کمال کا مظہر ہوتا ہے بلکہ ایمان کو تازہ کرنے والا ایک ایسا نظارہ ہوتا ہے جسے لفظوں میں مکمل بیان کرنا ممکن نہیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “الحج عرفہ” یعنی “حج عرفہ ہے”۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عرفہ کا دن حج کی روح ہے۔ میدانِ عرفات وہ مقام ہے جہاں حضرت آدمؑ اور حضرت حواءؑ کی ملاقات ہوئی، جہاں لاکھوں بندے دنیا بھر سے آ کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور جہاں اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔اس دن کا منظر نہایت دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے۔ کوئی بادشاہ ہے یا فقیر، عالم ہے یا جاہل، سب ایک ہی لباس میں، ایک ہی میدان میں، ایک ہی پروردگار کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ نہ کوئی فرقہ، نہ کوئی رنگ، نہ نسل – سب برابر، سب عاجزی کا پیکر۔ زبان پر لبیک کی صدا، ہاتھ دعا کے لیے بلند، دل میں توبہ کی تڑپ، اور آنکھوں سے بہتے آنسو، گویا ہر حاجی اپنے مالک سے لو لگائے ہوتا ہے۔عرفات کا دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیتِ دعا کا سب سے عظیم لمحہ ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن اپنے بندوں پر خاص نظرِ رحمت فرماتا ہے، ان کے گناہ معاف کرتا ہے اور ان پر فخر کرتا ہے۔ ایسے میں جب لاکھوں زبانیں ایک ساتھ دعا مانگ رہی ہوں، ایک عجیب وجدانی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ ہر کوئی اپنے گناہوں پر شرمندہ، اپنی خواہشات کے لیے پرامید، اور اللہ کے رحم پر مکمل بھروسا کیے ہوتا ہے۔یہ اجتماع نہ صرف ایک مذہبی فریضے کی ادائیگی ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد، اخوت، اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ بھی ہے۔ دنیا کے مختلف گوشوں سے آئے ہوئے افراد ایک ہی وقت میں، ایک ہی مقام پر، ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہیں:
“لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک”
یہ منظر دشمنانِ اسلام کے لیے پیغام ہے کہ مسلمان اگر چاہیں تو ایک ہو سکتے ہیں، اور ان کے اتحاد میں زبردست طاقت ہے۔عرفات سے واپسی: گناہوں سے پاک ہو کر
جب سورج غروب ہوتا ہے اور حاجی میدانِ عرفات سے مزدلفہ کی جانب روانہ ہوتے ہیں، تو ان کے دل میں ایک عجیب سی طمانیت ہوتی ہے۔ حدیث کے مطابق، اللہ تعالیٰ اس دن اپنے بندوں کو ایسے معاف کرتا ہے جیسے وہ ابھی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ہوں۔ یہ ایک نئی زندگی کی شروعات ہوتی ہے، نیکی، اطاعت اور شکر گزاری کی زندگی۔
اختتامیہ میدانِ عرفات کا روح پرور منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم سب ایک دن اللہ کے حضور اسی طرح کھڑے ہوں گے، لیکن اس دن ہمارے پاس احرام نہیں بلکہ اعمال ہوں گے۔ عرفہ ہمیں نجات کا پیغام دیتا ہے، توبہ کی راہ دکھاتا ہے، اور اللہ کی رحمت پر یقین کو مضبوط کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کا حج قبول فرمائے، ان کی دعاؤں کو ہمارے حق میں بھی مقبول فرمائے، اور ہمیں بھی یہ عظیم سعادت نصیب فرمائے۔ آمین۔










