پرانی یادیں… حاجی عبدالمجید انور مرحوم – ایک باوقار صحافتی سفر کی جھلکیاں

تحریر وترتیب .محمد زاہد مجید انور
و
قت گزر جاتا ہے، لیکن کچھ یادیں دل کے اندر ایک چراغ کی مانند روشن رہتی ہیں۔ ایسی ہی یادوں میں سے ایک انمول لمحہ وہ بھی ہے جب میرے عظیم والد، مرحوم حاجی عبدالمجید انور (نمائندہ روزنامہ جنگ اور جیو نیوز ٹوبہ ٹیک سنگھ)، کو ان کی اچھی اور ذمہ دار صحافت پر سابق ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ و سابق آئی جی پنجاب جناب عامر ذوالفقار خاں نے شیلڈ پیش کی۔یہ وہ لمحہ تھا جب صحافت کا اصل چہرہ، سچائی، دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ عوام کی آواز بننے والا ایک فرد، باقاعدہ طور پر اداروں کے ہاتھوں سراہا گیا۔ میرے والد کا قلم صرف خبر نہ لکھتا تھا بلکہ عوام کے مسائل، درد، محرومی اور سچائی کی ترجمانی کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہیں اعلیٰ افسران کی موجودگی میں نہ صرف سراہا گیا بلکہ انہیں یادگار شیلڈ سے نوازا گیا۔اس تقریب میں ڈسٹرکٹ پریس کلب کے صدر میاں منظور احمد ناز اور ڈی ایس پی صدر سرکل جناب ظفر کی موجودگی نے اس اعزاز کو اور بھی معتبر بنا دیا۔ ان تمام معتبر شخصیات کی موجودگی اس بات کی گواہی تھی کہ مرحوم عبدالمجید انور صرف ایک صحافی نہیں بلکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی صحافت کا روشن چہرہ تھے۔میرے والد کا کردار صرف خبر پہنچانے تک محدود نہ تھا، وہ ہمیشہ اپنی تحریر کے ذریعے امن، انصاف، شعور اور اتحاد کو فروغ دیتے رہے۔ وہ حق گوئی کا علمبردار، اور مظلوموں کی آواز تھے۔ ان کی صحافتی زندگی نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔آج جب فادرز ڈے، یا کوئی ایسی تقریب آتی ہے جہاں اُن کی خدمات کی جھلک یاد آتی ہے، تو دل خود بخود اُن کے لیے دعاگو ہو جاتا ہے:> “یا اللہ! ہمارے والد محترم حاجی عبدالمجید انور کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما، اُن کے درجات بلند فرما، اور ہمیں ان کی طرح سچائی اور خلوص کے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین”اختتامیہ۔۔۔۔یقیناً وہ دن ایک اعزاز تھا… مگر آج وہ یاد ایک اثاثہ ہے۔ والد کا سایہ چھن جانا زندگی کی سب سے بڑی محرومی ہے، مگر ان کی نیک نامی، عزت، اور لوگوں کے دلوں میں بسنے والی محبت ایک ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔پرانی یادیں دل سے مٹتی نہیں… بلکہ وقت کے ساتھ اور زیادہ قیمتی ہو جاتی ہیں۔