خاموش وعدے۔۔خفیہ دباؤ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔کالم۔نگار۔۔۔ارشد مہدی جعفری۔۔۔۔۔۔۔
۔تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ سے کسی نہ کسی “میٹنگ” کے بعد ایک خاص موڑ پر آ کھڑے ہوتے ہیں۔ سابق پاکستانی صدور کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جو جب بھی امریکی صدور سے بطور “سٹیٹ گیسٹ” ملے، اُن ملاقاتوں کے بعد پاکستان کو افغانستان یا دیگر علاقائی تنازعات میں کسی نہ کسی صورت میں امریکی پالیسیوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا۔ خواہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سوویت یونین کے خلاف پراکسی محاذ، پاکستان نے ہمیشہ ان ملاقاتوں کے بعد کوئی بڑا فیصلہ کیا۔ آج ایک مرتبہ پھر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نہ تو وزیراعظم ہیں نہ صدرِ پاکستان، پھر بھی خبروں کے مطابق ریڈ کارپٹ پر استقبال اور فیلڈ مارشل سید عاصم مُنیر کی حالیہ ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے واشنگٹن میں اُس وقت ہوئی، جب دنیا کی نگاہیں ایران اور اسرائیل کے درمیان بھڑکتی آگ پر جمی ہوئی تھیں۔
یہ ملاقات محض ایک رسمی مصافحہ نہ تھی۔ یہ میٹنگ کابینہ روم میں ہوئی، جہاں ٹرمپ کے ساتھ صرف دو سے تین اہم امریکی عہدیداران موجود تھے جبکہ پاکستانی وفد میں آئی ایس آئی کے سربراہ سمیت کچھ مخصوص افراد شامل تھے۔ ہر ملک کے کچھ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے مُلک کی سٹریٹجک میٹنگز کا حصہ ہوتے ہیں لیکن انہیں میڈیا یا سرکاری بیانات میں کبھی نمایاں نہیں کیا جاتا۔ میٹنگ ایک گھنٹے کے لیے طے کی گئی تھی مگر دو گھنٹے جاری رہی، جو اس کی غیرمعمولی نوعیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان دنوں میں جب پاکستانی پارلیمنٹ نے ایران کی حمایت میں قرارداد پاس کی ہوئی ہے، عین اسی وقت پاکستان کے آرمی چیف کی امریکی صدر سے بند کمرے کی ملاقات شکوک پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے صرف اتنا کہا کہ عاصم منیر ایران کو ہم سے بہتر سمجھتے ہیں، اور انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ مگر یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ وعدہ ہے کیا؟ اسی دوران یہ خبریں عالمی میڈیا میں زیر گردش ہیں کہ امریکہ نے پاکستان سے فوجی اڈے مانگے ہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے پاس پہلے ہی کئی اڈے موجود ہیں: قطر میں العدید ائیر بیس، بحرین میں نیول بیس، سعودی عرب، کویت، اردن اور ترکی میں کئی اہم عسکری تنصیبات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات بھی عملی طور پر امریکہ کے عسکری اتحادی ہیں۔ حتیٰ کہ ہندوستان کے ساتھ بھی دفاعی معاہدات اور لوجسٹک سہولتوں کے تحت امریکہ کئی طرح کی عسکری سرگرمیاں انجام دے سکتا ہے۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے اڈوں کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دھمکیوں کا سلسلہ ہر تین سے چار گھنٹے بعد جاری تھا، لیکن جیسے ہی عاصم منیر سے ملاقات ہوئی، ٹرمپ خاموش ہو گئے۔ اُس خاموشی کے پیچھے کیا وجہ تھی؟ کیا واقعی صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کو ایران سے ممکنہ ڈیل کے لیے قائل کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے؟ یا کیا پاکستان سے اڈے حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آئندہ دو ہفتوں میں ملنے کی توقع ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا روڈمیپ دے دیا ہے، لیکن حملے کی اجازت فی الحال نہیں دی گئی۔ اُن کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں میں کسی بھی وقت بنکر بسٹر بموں سے حملہ کیا جا سکتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شاید یہی دو ہفتے پاکستان کے آرمی چیف کو دیے گئے ہیں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں، ورنہ حملہ یقینی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو ایک محدود مہلت دی گئی ہے تاکہ وہ یا تو امریکہ کو وہ کچھ دے جس کا وعدہ عاصم منیر نے کیا، یا پھر مختلف اقسام میں امریکی امداد، آئی ایم ایف ڈیل یا پھر ایرانی ہمدردی کے عوض کسی بھی سخت صورتحال کےلیے خود کو بھی تیار رکھے۔
پاکستان کے لیے صورتِ حال نہایت نازک ہے۔ ایک طرف ایران سے ہمدردی، اخلاقی حمایت، پارلیمانی قرارداد اور مسلم اُمہ کا بیانیہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ سے ممکنہ دفاعی تعاون، پرانے اتحادی ہونے کا رشتہ اور “سٹیٹ گیسٹ” کا غیرعلانیہ قرض۔ پاکستان کے لیے فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ اگر وہ امریکہ کو اڈے دیتا ہے تو ایران سے مخاصمت مول لیتا ہے، اور اگر ایران کو امریکی صدر کے ساتھ کسی مفاہمت پر راضی کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ایک ایسا ایران ہے جو اس وقت کسی بھی صورت میں امریکہ سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ ایسے میں ایران اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کو کس نظر سے دیکھے گا؟ وہ یقیناً اسے شک کی نگاہ سے دیکھے گا، اور ممکن ہے مستقبل میں پاکستان کو اس کے سنگین سفارتی نتائج بھی بھگتنا پڑیں۔
پاکستان کے لیے اب فیصلہ کرنے کا وقت آ چکا ہے۔ نہ صرف چین سے اپنی سٹریٹجک وفاداری کو قائم رکھنا ہے بلکہ ایران کے ساتھ وعدوں کا لحاظ بھی رکھنا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ جیسے عالمی طاقتور ملک کی طرف سے کسی بھی وعدے کی تکمیل نہ کرنے کی صورت میں ممکنہ دباؤ یا کارروائی کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سٹیٹ گیسٹ بننے کا اعزاز جب دیا جاتا ہے تو اُس کے ساتھ کچھ ناپ تول کے تقاضے بھی ہوتے ہیں، کچھ قربانیاں، کچھ قیمتیں۔
یہ وہ وقت ہے جب پاکستان کو نہایت سمجھداری، حکمت، توازن اور دوراندیشی کے ساتھ قدم اٹھانا ہوگا۔ ایران کو ناراض کیے بغیر، امریکہ کو مطمئن کرنے کا کوئی درمیانی راستہ نکالنا ہوگا۔ اگر یہ ممکن نہ ہو سکا تو جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، اُس کے اثرات صرف آج پر نہیں، پاکستان کے کل پر بھی ہوں گے۔








