عید پر صفائی عملے کو خراجِ تحسین: “ستھرا پنجاب” ویژن کی عملی تصویر
تحریر ۔ محمد زاہد مجید انور
پنجاب حکومت کے “ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں منعقدہ تقریب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت نیک ہو، وژن واضح ہو، اور قیادت مخلص ہو، تو عوامی خدمات انجام دینے والے طبقات کو وہ مقام اور عزت دی جا سکتی ہے جس کے وہ اصل میں مستحق ہیں۔عیدالاضحی کے موقع پر جب پورا معاشرہ قربانیوں میں مصروف ہوتا ہے، صفائی کا عملہ اپنی عید اور اہل خانہ کی خوشیوں کو قربان کر کے سڑکوں، گلیوں، چوراہوں اور محلے کی نالیوں میں دن رات کام کر رہا ہوتا ہے تاکہ ہمارے شہروں کی فضا بدبو سے نہیں بلکہ طہارت سے مہک رہی ہو۔ ایسے میں ان گمنام ہیروز کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات کو سراہنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ معاشرتی شعور کا بھی تقاضا ہے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں صفائی ورکرز کے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کی شرکت محض ایک رسمی کارروائی نہیں تھی، بلکہ اس عمل سے ایک بڑا اخلاقی پیغام دیا گیا کہ اصل ہیرو وہ لوگ ہیں جو عملی میدان میں صفائی، نظم و ضبط اور خدمت کی مثال قائم کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بتایا کہ ان کے شیڈول میں وزیراعظم پاکستان کے ساتھ ایک اہم میٹنگ طے تھی، لیکن انہوں نے وہ منسوخ کروا کر یہاں آنا زیادہ ضروری سمجھا۔ اس فیصلے سے ثابت ہوا کہ قیادت تب ہی قابلِ احترام ہوتی ہے جب وہ عام انسان کے دکھ سکھ میں شریک ہو۔جنید انوار چوہدری نے بجا طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے “ستھرا پنجاب” جیسے پراجیکٹ کو لے کر ایک سوچ کو جنم دیا ہے، جو صرف شہری علاقوں تک محدود نہیں، بلکہ دیہی علاقوں میں بھی صاف ستھری زندگی کی ضمانت بن رہی ہے۔ ان کا یہ اعلان بھی امید کی نئی کرن ہے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دو رویہ سڑک اور ایک جامع یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ جلد حقیقت بنے گا۔ڈپٹی کمشنر محمد نعیم سندھو اور ڈی پی او عبادت نثار کی موجودگی، اسسٹنٹ کمشنر منور حسین کملانہ سیال اور دیگر افسران کی شرکت نے اس تقریب کو ایک باوقار اور نمائندہ حیثیت دی۔ خاص بات یہ تھی کہ ہر صفائی ورکر کو 10,000 روپے فی کس انعام دیا گیا، اور یہ رقم بینک ڈرافٹ کے ذریعے مکمل شفافیت سے تقسیم کی گئی۔ یہ اقدام نہ صرف اخلاقی بلکہ انتظامی لحاظ سے بھی ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔صفائی ورکرز کی محنت اور قربانیوں کا اعتراف ایک روزہ تقریب سے کہیں بڑھ کر ہونا چاہیے۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ ورکرز ہی کسی بھی شہر کے اصل محافظ ہیں۔ جہاں صفائی نہ ہو، وہاں بیماریاں، بدامنی اور مسائل سر اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا، اس طبقے کی فلاح، تحفظ اور عزت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔آخر میں یہی کہوں گا کہ “ستھرا پنجاب” محض ایک مہم نہیں بلکہ یہ ایک سوچ، ایک تحریک، اور ایک نظریہ ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو ہمیں مہذب قوموں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پروگرام کو صرف موسمی یا وقتی نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے مستقل مزاجی اور مربوط حکمتِ عملی کے ساتھ جاری رکھا جائے تاکہ پنجاب واقعی صاف، صحت مند اور مہذب معاشرے کا گہوارہ بن سکے۔










