قراردادوں کا شور، عمل کی خاموشی”
کالم نگار: ارشد مہدی جعفری
السلامُ علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتُہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”
اقوامِ متحدہ ایک عالمی ادارہ ہے جس میں دنیا کے بیشتر ممالک شامل ہیں، لیکن پانچ مستقل ارکان کو ویٹو پاور حاصل ہےجو کہ امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس ہیں۔ جب بھی ان میں سے کوئی ملک کسی قرارداد سے اختلاف کرتا ہے تو اپنی ویٹو پاور کا استعمال کر کے اس قرارداد کو روک دیتا ہے، چاہے باقی دنیا کی اکثریت اس کے حق میں ہو۔ اقوامِ متحدہ صرف بیانات اور قراردادوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ادارہ بعض اوقات عملی اقدامات بھی کرتا ہے، جیسے امن فوجیں بھیجنا، معاشی پابندیاں لگانا یا دنیا بھر میں رائے عامہ کو متاثر کرنے والے بیانات دینا۔ لیکن آج کی دنیا میں اس ادارے پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کیونکہ یہ اکثر انہی ممالک کی پشت پناہی کرتا ہے جنہیں ویٹو پاور حاصل ہے، اور جن کے مفادات پوری دنیا پر غالب ہیں۔ مظلوم اقوام کی آوازیں یا تو دب جاتی ہیں یا صرف رپورٹوں میں محدود رہ جاتی ہیں، جبکہ طاقتور اقوام کھلے عام اپنی مرضی نافذ کرتی ہیں۔
او آئی سی، یعنی اسلامی تعاون تنظیم، ایک ایسا ادارہ ہے جو اسلامی دنیا کے 57 ممالک کو اکٹھا کرتا ہے۔ اس تنظیم کا مقصد مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد، تعاون اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس تنظیم کے اجلاس صرف قراردادوں اور تصویری سیشنز تک محدود رہتے ہیں۔ کوئی عملی قدم، کوئی دباؤ، کوئی پابندی، یا کوئی سخت موقف شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں اسرائیل جیسے ملک، جو فلسطین، غزہ، ایران، لبنان اور یمن میں بے گناہوں کا خون بہا رہا ہے، او آئی سی کے بیانات کو سننے کی بھی زحمت نہیں کرتا۔ جب اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو بھی اسرائیل مسترد کرتا ہے تو وہ تنظیم جو صرف زبانی جمع خرچ پر چل رہی ہو، اس کے بیانات کا کیا وزن ہو سکتا ہے؟
یہ صورت حال اس وقت مزید افسوسناک ہو جاتی ہے جب یہ بھی دیکھا جائے کہ خود او آئی سی کے رکن ممالک اسرائیل اور امریکہ جیسے جارح ممالک کے ساتھ اربوں ڈالر کی تجارت کر رہے ہیں۔ ترکی، جو اس وقت او آئی سی کا نیا چیئرمین ہے، اسرائیل کے ساتھ ساڑھے 6 ارب ڈالر سے زیادہ سالانہ تجارت کر رہا ہے، اور امریکہ کے ساتھ اس کی تجارت کا حجم 31 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ سعودی عرب، جو فلسطینی کاز کا سب سے زیادہ دعویدار رہا ہے، اسرائیل اور امریکہ دونوں کے ساتھ معاشی تعلقات رکھتا ہے، چاہے وہ اعلانیہ ہوں یا پسِ پردہ۔ ان کے مقابلے میں پاکستان کی پوزیشن نسبتاً مختلف ہے، کیونکہ پاکستان اسرائیل کو آج تک تسلیم نہیں کرتا اور اس کے ساتھ کوئی تجارتی تعلق بھی نہیں رکھتا۔ تاہم، امریکہ کے ساتھ اس کی تجارت کئی ارب ڈالر سالانہ پر مشتمل ہے، جو اس کی اقتصادی مجبوریوں کی عکاس ہے۔
او آئی سی کا 51 واں اجلاس اس وقت ترکی کے شہر استنبول میں جاری ہے، جہاں 57 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اس اجلاس میں ترکی نے ایک سال کے لیے سربراہی سنبھالی ہے اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدن اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔ صدر رجب طیب اردگان نے ابتدائی خطاب میں اسرائیل پر شدید تنقید کی ہے، اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی شرکت کر کے ایران کی سلامتی اور دفاعی پوزیشن پر دلائل پیش کیے ہیں۔ یہ اجلاس بظاہر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بلایا گیا ہے، اور اسے اسلامی ممالک کی مشترکہ حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
لیکن اگر ایک لمحے کو ہم اس بات پر غور کریں کہ انہی اجلاسوں میں شریک ممالک کی اکثریت خود اسرائیل اور امریکہ سے معاشی طور پر جُڑی ہوئی ہے تو یہ تمام تقاریر، قراردادیں اور نعرے صرف الفاظ کے گولے محسوس ہوتے ہیں، جن میں بارود کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بیانات تو روز ہوتے ہیں، تصویریں روز بنتی ہیں، قراردادیں بھی ہر سال آتی ہیں، مگر مظلوموں کے زخم کم نہیں ہوتے۔ جب ترکی، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، حتیٰ کہ افریقی مسلم ممالک بھی اسرائیل یا اس کے اتحادی امریکہ کے ساتھ تجارتی، عسکری یا سیاسی روابط رکھتے ہیں تو او آئی سی کے اجلاسوں کا مقصد ایک تماشہ بن کر رہ جاتا ہے۔
یہ وقت اب محض دکھاوے کا نہیں، بلکہ حقیقی اتحاد اور عملی اقدام کا ہے۔ اگر ترکی، سعودی عرب، پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، قطر اور دیگر مسلم ممالک واقعی فلسطین اور ایران کے مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے معاشی، عسکری اور سفارتی تعلقات معطل کرنے ہوں گے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے مسلم دنیا، اقوامِ عالم کو یہ پیغام دے سکتی ہے کہ وہ صرف تقریریں کرنے والی امت نہیں، بلکہ ضرورت پڑنے پر عمل سے بھی جواب دینے والی امت ہے۔
محض تقاریر، اجلاس، نعرے اور فوٹو سیشنز اس وقت تک فضول رہیں گے جب تک ان کے پیچھے کوئی عملی قوت نہ ہو۔ عمل کے بغیر الفاظ وہی ہوتے ہیں جیسے نیت کے بغیر عبادت، یا دِلی آمادگی اور کیفیت کے بغیر سجدہ۔ امت مسلمہ کے پاس آج بھی یہ طاقت ہے کہ وہ اگر متحد ہو کر اپنے مفادات کو قربان کرے تو عالمی طاقتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی پڑے۔ صرف اسی صورت میں دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو امید کی کرن نظر آئے گی، ورنہ او آئی سی بھی اقوامِ متحدہ کی طرح ایک رسمی اور کاغذی ادارہ بن کر رہ جائے گی جسے تاریخ ایک بے اثر تماشائی کے طور پر یاد رکھے گی۔










