قومی کھیل کی شاندار واپسی — فرانس کے خلاف فتح ایک امید کی کرن
تحریر: محمد زاہد مجید انور

پاکستان ہاکی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے — اور اس بار مثبت انداز میں۔ نیشنز کپ میں فرانس کے خلاف قومی ٹیم کی شاندار فتح نے مایوسی کے اندھیروں میں روشنی کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان قومی ہاکی ٹیم کے سابق کوچ، انٹرنیشنل ہاکی پلیئر اور عمران رسول ہاکی اکیڈمی (رجسٹرڈ) ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بانی، عمران رسول نے اس کامیابی پر ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔عمران رسول کا کہنا ہے کہ “یہ فتح صرف ایک میچ کی جیت نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام ہے اس قوم کے ہر نوجوان کے لیے کہ اگر جذبہ، ولولہ اور قیادت مضبوط ہو تو وسائل کی کمی بھی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔” ان کے ان الفاظ میں وہ سچائی جھلکتی ہے جو برسوں سے ہم نظرانداز کرتے آ رہے ہیں — کہ قومی کھیل ہاکی اپنی تمام تر عظمت کے باوجود بے توجہی کا شکار رہا ہے۔ایک وقت تھا جب پاکستان کی ہاکی ٹیم دنیا کی سب سے مضبوط ٹیم سمجھی جاتی تھی۔ اولمپکس ہوں یا ورلڈ کپ، پاکستانی ہاکی اسٹارز کا سحر دنیا کے کھیلوں کے افق پر چھایا رہتا تھا۔ ہالینڈ، جرمنی، بھارت جیسے ممالک کے شائقین پاکستانی کھلاڑیوں کو نہ صرف پسند کرتے بلکہ ان کے کھیل کی نقل کرتے تھے۔ مگر بدقسمتی سے فیڈریشنز کی ناقص کارکردگی، حکومتی عدم دلچسپی اور بنیادی ڈھانچے کی کمی نے اس عظیم کھیل کو تنزلی کی راہوں پر ڈال دیا۔لیکن فرانس کے خلاف یہ فتح نہ صرف ایک فتح ہے، بلکہ اس قوم کے نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ عمران رسول کہتے ہیں، “یہ جیت بتاتی ہے کہ اگر ہمارے نوجوانوں کو مناسب وسائل، تربیت اور توجہ دی جائے تو وہ عالمی سطح پر پاکستان کا پرچم ایک بار پھر سربلند کر سکتے ہیں۔”ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف رہنمائی، سہولیات اور اعتماد کی ہے۔ عمران رسول ہاکی اکیڈمی کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں مقامی سطح پر کھلاڑیوں کی تربیت ہو رہی ہے اور قومی سطح پر ہاکی کے فروغ کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت، نجی ادارے، سابق کھلاڑی اور ہاکی سے محبت کرنے والا ہر فرد اس کھیل کی بحالی کے لیے ایک صفحے پر آ جائے۔ ہمیں ہاکی کو صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ اپنی پہچان سمجھنا ہوگا۔یہ فتح، ایک آغاز ہے — اور یہ آغاز بتاتا ہے کہ منزل دور نہیں اگر ہم آج سے محنت اور خلوص کے ساتھ سفر کا آغاز کریں۔