اتحاد امت، قیام امن اور محرم الحرام کے تقاضے

تحریر: محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ: اسسٹنٹ کمشنر منور حسین کملانہ سیال نے محرم الحرام کی آمد کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نہایت اہم اور بامعنی پیغام دیا ہے جو ہماری سماجی، مذہبی اور قومی ضرورتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا اسلامی سال اتحاد امت کا امین بن کر طلوع ہو رہا ہے، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اس مقدس مہینے میں قیام امن، رواداری، برداشت، اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیں۔اسسٹنٹ کمشنر کا مؤقف نہ صرف ایک انتظامی افسر کے طور پر ان کی سوچ کا عکاس ہے بلکہ یہ ایک باشعور شہری کے احساسِ ذمہ داری کا بھی ثبوت ہے۔ انہوں نے بجا طور پر کہا کہ بین المسالک ہم آہنگی اس وقت سب سے اہم تقاضا ہے۔ محرم الحرام جہاں تاریخِ اسلام کا اہم اور المناک باب ہے، وہیں یہ صبر، قربانی، اصول پسندی اور عدل کا پیغام بھی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہمیں فرقہ وارانہ تعصبات کو پس پشت ڈال کر ایک قوم اور ایک امت بن کر آگے بڑھنے کا عہد کرنا چاہیے۔منور حسین کملانہ سیال کا یہ کہنا کہ سوسائٹی کو بھی سٹیٹ کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کے خلاف کردار ادا کرنا ہوگا، اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ قیام امن صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فردِ ملت کا فریضہ ہے۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول میں ہوشیار، حساس اور ذمہ دار شہری بن کر رہیں تو کئی مسائل خود بخود ختم ہو سکتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ محرم الحرام میں قیام امن کو مستحکم رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ اس مہینے میں بعض عناصر شرپسندی اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اگر تمام مکاتب فکر، علما، عوام اور ادارے متحد ہو جائیں تو ایسے عناصر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محرم کے پیغام کو سمجھیں، امام حسینؓ کی قربانی سے سبق لیں اور اپنی سوچ و عمل کو اصلاح کی طرف موڑیں۔ منور حسین کملانہ سیال جیسے افسران کی جانب سے ایسے بیانات نہ صرف حوصلہ افزا ہیں بلکہ عوام میں شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ نیا اسلامی سال ہمیں ایک نئے عزم، نئے حوصلے اور نئی ذمہ داریوں کے ساتھ آغاز کرنے کا پیغام دے رہا ہے۔ آئیں! ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم اس محرم الحرام میں امن، اتحاد، احترام اور اخوت کو فروغ دیں گے اور کسی بھی قسم کی نفرت، تقسیم یا انتہا پسندی کو پنپنے نہیں دیں گے۔