حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی مدظلہ العالی کا سفر عشق اور عزاداری کا فروغِ

تحریر: حبیب منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ یکم جنوری 1916 میں ضلع اعظم گڑھ ( یو پی ) ہندوستان کے موضع شاہجیر پور میں علمی و ادبی شخصیت سید ابوالحسن رضوی کے گھر پیدا ہوئے

ابتدائی تعلیم وثیقہ اسکول فیض آباد میں حاصل کرنے کے بعد مدرسہ ایمانیہ بنارس میں داخل ہوئے جہاں پر حجۃ الاسلام مولانا سید شبیر حسین اعلی اللہ مقامہ مولانا سید حسین اعلی اللہ مقامہ اور مولانا سید محمد سجاد اعلی اللّٰہ مقامہ جیسے اساتذہ کرام کی زیر نگرانی دینی تعلیم کا سفر جاری رکھا
اسکے بعد مدرسہ سلطان المدارس لکھنؤ تشریف لے گئے اور مولانا سید محمد باقر اعلی اللہ مقامہ سے فیضیاب ہوئے

لکھنؤ سے سند فراغت ملنے پر سفر عشقِ جاری رکھا اور اعلی دینی تعلیم کے لیے نجف اشرف ( عراق ) کیلئے رخت سفر باندھا جہاں پر اساتذہ کرام جن میں حضرت آیت اللہ سید ابوالحسن اعلی اللہ مقامہ حضرت آیت اللہ مرزا محمد حسین اعلی اللہ مقامہ حضرت علامہ ضیاء عراقی اعلی اللہ مقامہ حضرت علامہ سید عبد الغفار اعلی اللہ مقامہ سے علوم آل محمد علیہم السلام حاصل کیے
اور 1935 میں نجف اشرف سے مراجعت فرمائی

1947 میں تقسیمِ برصغیر پاک و ہند ہونے پر ہجرت کر کے پاکستان تشریف لائے
اپنی زندگی تبلیغ اسلام کے لیے وقف کر دی عزاداری کا فروغِ اپنا نصب العین بنا لیا
باب العلوم ملتان اور بدھ رجبانہ کے مدارس میں دینی خدمات سر انجام دینے کے بعد احمدپورسیال تشریف لائے اور یہیں پر مستقل سکونت اختیار کی

جہاں اپنی نگرانی میں جامع مسجد اور عیدگاہ شیعہ تعمیر کروائی
اپنے برادر عزیز مولاثا سید آختر حسن کیساتھ ملکر آپ نے مدرسہ جامعۃ الغدیر احمدپورسیال کی بنیاد رکھی جو آج ضلع بھر کے مدارس میں نمایاں مقام حاصل رکھتا ہے

حجۃالاسلام علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی نور اللہ مرقدہ عزاداری کے مشن کو پروان چڑھانے کا عزم مصمم لیکر ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے
جنہوں نے امام بارگاہ زینبیہ کڑی والا کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے عزاداری کی رسومات کی داغ بیل ڈالی

8 محرم الحرام کو ضلع بھر میں سب سے بڑا اور منفرد نوعیت کا حامل جلوس شبیہ علم پاک اپنے گھر سے برآمد کر کے ایک عظیم الشان روایت قائم کی جسے رضوی گھرانے کے چشم و چراغ سید قائم مہدی رضوی سید قیصر مہدی رضوی سید صدف مہدی رضوی سید نجف مہدی رضوی اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ورثے میں ملی عزاداریء سید الشہداء ع کو آگے بڑھا رہے ہیں

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ 8 محرم کو برآمد ہونے والے علم پاک کا موجودہ کپڑا اور بانس سمیت دیگر مقدسات بھی بوقت ہجرت حجۃالاسلام علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی مد ظلہ العالی ہندوستان سے ہی اپنے ساتھ لائے تھے

اسیطرح 6 محرم الحرام کی شب کو جلوس جھولہء حضرت علی اصغر علیہ السلام بھی اسی خانوادہء سادات کے گھر سے برآمد ہوتا ہے
جس سے لکھنؤ طرز کی عزاداری کی جھلک عیاں ہوتی ہے

حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ نجف اشرف میں دوران درس و تدریس آقائے سید امام خمینی روح اللہ کے بیج فیلو اور ہم عصر تھے

1979 میں اسلامی انقلاب ایران کے بعد بھی آقائے سید امام خمینی روح اللہ نور اللہ مرقدہ آپ سے رابطے میں رہے

1994 میں حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے اس دارفانی سے رحلت فرمائی اور امام بارگاہ زینبیہ کڑی والا میں آپکی آخری آرام گاہ ہے

حجۃالاسلام والمسلمین علامہ آغا سید ضمیر الحسن رضوی نجفی اعلی اللہ مقامہ نے احمدپورسیال میں محراب و منبر سے تبلیغ اسلام کیساتھ عزاداری کا جو پودا اپنی زندگی میں لگایا آنکی رحلت کے بعد علامہ آغا سید نسیم عباس رضوی نور اللہ مرقدہ نے اسکی اسطرح آبیاری کی کہ ذکر محمد و آل محمد علیہم السلام کی مہک نے بین الاقوامی سطح پر تشنگان علم و ادب کو معطر کر دیا ،

اپنے بزرگان دین کی بصیرت اور علمی میراث کو لیے علامہ آغا سید محمد رضا رضوی ، سید قائم مہدی رضوی ، سید قیصر مہدی رضوی سمیت رضوی خاندان کا ہر فرد آسکا پاسباں ہے اور عزاداری کا یہ سلسلہ رہتی دنیا تک چلتا رہے گا
دعا ہے کہ
اللہ پاک بزرگان دین کے درجات بلند فرمائے
آمین یا رب العالمین
# حبیب منظر نمائندہ روزنامہ جنگ جیو نیوز
صدر تحصیل پریس کلب احمدپورسیال 03027691808