سانحہ وریام روڈ، ٹوبہ ٹیک سنگھ: مزدور علی حسین کا المناک انجام

تحریر: محمد زاہد مجید انور

ٹوبہ ٹیک سنگھ، جو ہمیشہ سے محنت کشوں کی جفاکشی اور صنعت و حرفت میں نمایاں کردار ادا کرتا آیا ہے، آج ایک اور مزدور کی جان لیوا قربانی کا گواہ بن گیا۔ وریام روڈ پر واقع ایک پاورلوم فیکٹری میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ صرف ایک مزدور کی موت کا سانحہ نہیں بلکہ ہمارے صنعتی نظام کی بے حسی اور مزدوروں کے تحفظ میں ناکامی کی ایک واضح جھلک ہے۔چالیس سالہ علی حسین، جو ایک محنتی، جفاکش اور اپنی روزی روٹی کے لیے سخت ترین حالات میں بھی کام کرنے والا شخص تھا، حسب معمول اپنی ڈیوٹی پر موجود تھا۔ فیکٹری میں لوم کی صفائی کرتے ہوئے اچانک اسے کرنٹ لگا جو اتنا شدید تھا کہ علی حسین موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ نہ کوئی حفاظتی آلات تھے، نہ کوئی پیشگی حفاظتی اقدامات، اور نہ ہی فوری طبی امداد کا کوئی بندوبست موجود تھا۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ کسی پاورلوم فیکٹری میں ایک قیمتی انسانی جان یونہی ضائع ہوئی ہو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہر بار حادثے کے بعد خاموشی کیوں چھا جاتی ہے؟ کیا محنت کش کی جان اتنی ارزاں ہو چکی ہے کہ اس کا ذکر صرف تعزیت تک محدود رہے؟ کیا صنعتی ادارے صرف منافع کمانے کے لیے ہیں، انسانی جانوں کی قیمت ادا کیے بغیر؟علی حسین کی ناگہانی موت اس کے اہل خانہ پر قیامت بن کر ٹوٹی ہے۔ وہ اپنے بچوں کا واحد سہارا تھا، اور اب اس کے چلے جانے سے اس کے اہل خانہ شدید ذہنی، جذباتی اور معاشی بحران میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس غم میں صرف ایک گھر نہیں بلکہ پورا محنت کش طبقہ سوگوار ہے۔ہم متعلقہ حکام، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ لیبر سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے، فیکٹری مالکان اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، اور آئندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے تمام پاورلوم فیکٹریوں میں حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔مزید برآں، جاں بحق مزدور علی حسین کے خاندان کو فوری مالی امداد، بچوں کی تعلیم کا بندوبست اور فیکٹری مالکان کی طرف سے معقول معاوضہ فراہم کیا جائے تاکہ ان کا مستقبل تاریک نہ ہو۔آئیے، ہم سب مل کر اس واقعے کو محض ایک حادثہ نہ بننے دیں، بلکہ مزدور کے حقوق، تحفظ اور وقار کی بحالی کے لیے آواز بلند کریں۔اللّٰہ تعالیٰ علی حسین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔