تحسین اعوان کی گرفتاری – جرائم کی دنیا کا خطرناک باب بند
تحریر: محمد زاہد مجید انور
*گزشتہ روز فیصل آباد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ایک خفیہ اور بھرپور کارروائی میں ایک خطرناک ملزم تحسین اعوان کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری نے نہ صرف شہریوں میں سکون کی لہر دوڑائی بلکہ جرائم پیشہ گروہوں میں کھلبلی مچا دی۔ تحسین اعوان ایک ایسا نام بن چکا تھا جو کئی سالوں سے پولیس کو مطلوب تھا اور جرائم کی دنیا میں ایک ’سرگنہ‘ کے طور پر جانا جاتا تھا۔تحسین اعوان کے خلاف سنگین جرائم کے متعدد مقدمات درج تھے جن میں بھتہ خوری، زمینوں پر قبضے، اسلحہ کی نمائش، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ اپنے منظم نیٹ ورک کے ذریعے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتا رہا ہے، اور اس کے روابط بعض بااثر افراد سے بھی جڑے پائے گئے ہیں جن کی مدد سے وہ ہر بار قانون کی گرفت سے بچ نکلتا تھا۔فیصل آباد کے علاقے گلفشاں کالونی میں چھاپے کے دوران، سی ٹی ڈی، انٹیلیجنس بیورو اور مقامی پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔ کارروائی انتہائی خفیہ رکھی گئی تاکہ کسی قسم کا ردعمل یا مزاحمت نہ ہو۔ گرفتاری کے وقت تحسین اعوان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، جعلی شناختی کارڈز، موبائل فونز اور مشکوک دستاویزات بھی برآمد ہوئیں، جو اس کے جرائم میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مہیا کرتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ تحسین اعوان صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک پورے گینگ کا سربراہ تھا، جس کے ارکان پنجاب کے مختلف شہروں میں سرگرم تھے۔ اس کی گرفتاری کے بعد اداروں نے اس کے باقی نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کے انکشافات پر مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔اس موقع پر عوامی اور سماجی حلقے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور موثر کارروائی کو سراہ رہے ہیں۔ ایسے عناصر کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے جرائم پیشہ افراد کو بعض اوقات سیاسی پشت پناہی، رشوت اور پولیس میں موجود چند بدعنوان عناصر کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے، جو انھیں بچاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صرف سرگنہ کو نہیں بلکہ ان تمام معاون کرداروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ اس بدعنوان نظام کی جڑیں کاٹی جا سکیں تحسین اعوان کی گرفتاری ایک اہم سنگ میل ضرور ہے، مگر اسے ایک مثال بنانا ہوگا۔ ایسے افراد کو صرف جیل نہیں بلکہ انسدادِ جرائم کی پالیسی میں مرکزی کردار بنا کر، عدالتی کارروائی کو شفاف، تیز تر اور مؤثر بنانا ہوگا تاکہ معاشرہ ایک محفوظ، پرامن اور قانون پر مبنی زندگی کی جانب بڑھ سکے۔*










