حویلی بہادر شاہ کو تحصیل کا درجہ دو

تحریر۔ ،رائے ایاز اکبر نمائندہ جنگ و جیو نیوز شور کوٹ

السلام علیکم پیارے بھائیو ،،،، گزارش ھے کہ ھمارا حویلی بہادر شاہ ضلع جھنگ کا قدیم ترین قصبہ ھے،،، سن1770 عیسویں میں قوم قریش کے ایک بزرگ بہادر شاہ نے اس کی بنیاد رکھی تھی،،، تب پاکستان کا تیسرا بڑا شہر فیصل آباد یا لیل پور نام کا کوئی شہر اس دھرتی پر موجود نہ تھا،،،، بلکہ اس شہر کی جگہ ساندل بار کے گھنے جنگلات تھے،،، جب ھمارے قصبہ حویلی بہادر شاہ کی عمر 75 سال تھی تب لیل پور موجودہ فیصل آباد کی۔ نیاد رکھی گئی تھی ،،، 1770 عیسویں میں دھلی میں بہادر شاہ ظفر کے باپ اکبر شاہ ثانی کی حکومت تھی اور جھنگ میں نواب عنایت اللہ خان سیال حکمران تھا،،، اس وقت کے مغربی ہندوستان کا مرکز یہی علاقہ تھا،،، موجودہ دور میں وطن عزیز پاکستان کے مشرقی مغربی شمالاً جنوباً یعنی خنجراب سے سومیانی تک اور طور خم سے گنڈا سنگھ بارڈر تک ھمارا حویلی بہادر شاہ عین وسط میں واقع ھے،،، فیلڈ مارشل صدر جنرل محمد ایوب خان کے دور میں جب وفاقی دارالحکومت کراچی سے پنجاب ریجن میں شفٹ کرنے کا پلان بنا تو پہلی چوایس کے تحت اسی قصبہ حویلی بہادر شاہ لڈا ماہنی محرم سیال رستم سرگانہ کوٹ دیوان بگھڑی کے مواضعات کو فائنل کیا گیا تھا،،، بعد میں ناگزیر وجوہات کی وجہ سے دارالحکومت کو راولپنڈی کے قرب ترین شفٹ کر دیا گیا جس کا نام اسلام آباد رکھا گیا ،،، اسلام آباد کے آپریٹ ھونے کے چند ماہ بعد ھونے والے جنرل انتخابات میں ھمارے علاقہ کے موجودہ ایم پی اے کرنل غضنفر صاحب کے چچا اور میاں عادل شاہ صاحب کے والد محترم مخدوم اختر علی شاہ صاحب ایم پی اے منتخب ہوئے ،،، اس وقت انھوں نے مستقبل میں اپنی سیاست کو داؤ پر لگا کر بے شمار ترقیاتی کام کروائے ،،، جن کا ان کو بعد میں قرض بھی چکانا پڑا،،، جن کی تفصیل بڑی درد بھری داستان ہے ،،، مختصر یہ کہ تقریباً 55 سال تک یہاں کے کبیر شاھی خاندان کو ایم پی اے شپ سے محروم رہنا پڑا،، جرم صرف اتنا تھا کہ اختر علی شاہ نے رشتہ داری پر عوامی منصوبوں کو اہمیت کیوں دی،،،، وہ عوامی منصوبے یہ تھے کہ حویلی بہادر شاہ کو یونین کونسل کا درجہ دلوایا گیا،،، سول ھسپتال بنوایا گیا،،، سیم تھور سے نجات کے لئے درجن سے زائد ٹیوب ویل لگوانے گئے ،،، گورنمنٹ بوائز ہائی سکول کو ایک بڑا ھال اور 8 عدد بڑے کمرے دلانے گیے،،، ٹیلی فون ایکسچینج اور گریڈ اسٹیشن بنوایا گیا،،، جھنگ ملتان روڈ کو پختہ کروایا گیا ،،، حویلی بہادر شاہ سے رستم سرگانہ روڈ کو پختہ کروایا گیا ،،، پکی نہر کو حویلی مین لاین کا نام دیا گیا ،،، وغیرہ وغیرہ،،،، یہ وہ جرائم تھے جو اس دھرتی کے سپوت مخدوم اختر علی شاہ صاحب کے لیے چند رشتہ داروں اور ان کے سیاسی مخالفین کے نزدیک ناقابل معافی تھے،،،، اتفاق سے آج بھی اسی عوامی درد دل رکھنے والے اختر علی شاہ کے بھتیجے کرنل غضنفر شاہ جھنگ میں واحد حکومتی ایم پی اے ھیں اور ماشاءاللہ قوت گویائی سے بھرپور ایک زیرک سیاستدان ھیں،،، بہت سے ترقیاتی کام کروا رھے ھیں،،، جن کی تفصیل لکھنے کی ضرورت نہیں ہے ،،، کیونکہ ان کے کام کو سب اپنے پرانے دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں دیکھ اور سن دھے ھیں،،، اب سننے میں آیا ھے کہ کرنل غضنفر شاہ صاحب کا دعویٰ ہے کہ میرا اگلا قدم حویلی بہادر شاہ کو تحصیل بنوانا ھے،،، ویلڈن کرنل صاحب،،، مجھ ناچیز اور حویلی بہادر شاہ و گردونواح کی عوام کی طرف سے آپ کو سیلیوٹ ھے کہ آپ نے بھرپور عوامی مطالبے کو اہمیت دی اور اپنے بزرگوں کی رویات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ھے،،،اپ جیتو یا ھارو،،، روٹھو یا نا روٹھو ھم آپ کے ساتھ ھیں،،،، تحصیل ھمارا حق ھے ،،،،۔ بنوا دو،،، بنوا دو،، بنوا دو،،،،