سیلاب کی تباہ کاریاں

تحریر عبداللہ شاہویز قریشی کوٹ اسلام خانیوال

قدرت کے سامنے انسان کتنا بے بس ہے، یہ منظر اُس وقت کھل کر سامنے آتا ہے جب سیلاب کی تباہ کاریاں انسان کی آنکھوں کے سامنے اس کی محنت کی کمائی اور زندگی بھر کی جمع پونجی کو بہا لے جاتی ہیں۔ سیلاب جب اُتر گیا تو وہاں رہ جانے والی اجڑی ہوئی بستی صدیوں کی بربادی کی داستان سناتی دکھائی دیتی ہے۔

وہ شخص جس کے کچے کمرے اور ان کی چھتیں پانی کی بے رحم موجوں کے ساتھ جانے کہاں غائب ہوگئیں، اب مٹی کے ڈھیر پر سر پکڑ کر بیٹھا ہے۔ اس کے آنکھوں کے سامنے وہ منظر گھوم رہا ہے جب اُس کے بچے انہی کمروں میں کھیلتے تھے اور اُس کی بیوی انہی دیواروں کے سائے میں زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں بانٹتی تھی۔ مگر اب سب کچھ ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے۔

سیلاب صرف مکان ہی نہیں بہاتا بلکہ دلوں کے سکون، خوابوں کی تعبیر اور مستقبل کی اُمیدیں بھی اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اجڑے ہوئے کھیت، ٹوٹی ہوئی گلیاں اور بکھری ہوئی زندگی کا ہر نقشہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کی ساری ترقی اور کوشش کے باوجود قدرت کے سامنے اُس کی حیثیت کتنی چھوٹی ہے۔

یہ منظر صرف ایک شخص کی کہانی نہیں بلکہ اُن لاکھوں افراد کی تصویر ہے جو ہر سال قدرتی آفات کا شکار ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر ایسے اقدامات کریں جن سے نہ صرف نقصان کو کم کیا جا سکے بلکہ متاثرہ لوگوں کو سہارا بھی دیا جا سکے۔ کیونکہ بربادی کے بعد سب سے زیادہ قیمتی چیز امید اور حوصلہ ہی ہوتا ہے۔