انس گوندل
تحریر: عبدالستار نظامِ پاکستان
میڈیا کی تیز رفتار دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت سے پہلے ہی اپنی پہچان منوا لیتے ہیں — انہی تابناک ناموں میں ایک روشن نام ہے انس گوندل، جو ضلع جہلم کی پسماندہ تحصیل پنڈدادنخان کے سرحدی قصبہ جوتانہ سے تعلق رکھتے ہیں۔
انس گوندل کوئی عام صحافی نہیں بلکہ عزم، جراتِ اظہار، اور سچائی کا استعارہ ہیں۔ میں خود گزشتہ تین برسوں سے انس گوندل کو جانتا ہوں، اور دل سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنی نسل کے اُن چند نوجوان صحافیوں میں سے ہیں جو قلم کو امانت اور خبر کو ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
ان کی آنکھ میں سچ کی چمک، بات میں دلیل، اور انداز میں وقار جھلکتا ہے۔ وہ صرف خبر نہیں دیتے بلکہ خبر کو معنویت بخشتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں بانی PTI کی رہائی کے سلسلے میں ہونے والے احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے ان کا جرأت مندانہ سوال:
> “سر! پچھلی بار کی طرح اس بار بھی آپ کارکنان کو اکیلا چھوڑ کر چلے تو نہیں جائیں گے؟”
نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
یہ سوال صرف ایک جملہ نہیں تھا — یہ جراتِ اظہار کا مظہر اور صحافت کی اصل روح تھی۔
اسی طرح 28 ستمبر کو “ایشیا کپ” کے فائنل کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو سے ان کا یہ تیکھا سوال:
> “سر، کرکٹ ایک جینٹلمین گیم ہے — کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ اسے سیاست کا رنگ دے رہے ہیں؟”
نے عالمی میڈیا پر دھوم مچا دی۔
اس ایک جملے نے نہ صرف بھارت کے دوغلے رویے کو بے نقاب کیا بلکہ عالمی سطح پر مودی سرکار کی اینٹی مسلم اور اینٹی پاکستان پالیسی کو بھی واضح کر دیا۔
آج انس گوندل صرف ایک رپورٹر نہیں — بلکہ وہ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا کی جاندار آواز بن چکے ہیں۔
ان کی محنت، لگن، اور غیر معمولی صحافتی صلاحیتوں نے انہیں راتوں رات “میڈیا اسٹار” بنا دیا۔
جوتانہ جیسے چھوٹے قصبے سے نکل کر عالمی صحافتی افق پر اپنی روشنی بکھیرنے والا یہ نوجوان واقعی ایک درخشاں ستارہ ہے، جو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن چکا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انس گوندل اسی طرح سچائی، نڈر انداز اور اپنی مخصوص “کانٹینٹ اسٹائل” کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کرتے رہیں۔
آخر میں جوتانہ کے اس قابلِ فخر سپوت کے نام صرف ایک پیغام:
> سرخ سلام انس گوندل — تم واقعی پاکستان کی صحافتی دنیا کا چمکتا ہوا ستارہ ہو۔ 🌟
دعاگو: عبدالستار








