خوشیوں کی خوشبو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کالم نگار۔۔۔۔شیخ امتیازرحمانی

۔

جب دنیا خود غرضی اور مفاد پرستی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہو، وہاں چند ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو انسانیت کے درد کو اپنی ذات سے بڑھ کر محسوس کرتے ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام ہے للہ فاؤنڈیشن جو خدمت، قربانی، ایثار اور انسان دوستی کی علامت بن چکی ہے۔
گزشتہ روز باہو میرج ہال، گڑھ مہاراجہ میں فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک شاندار اور پر وقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں 30 اکتوبر کو ہونے والی 41 اجتماعی شادیوں کے سلسلے میں دلہا دلہن کے سوٹ اور ضروری اشیاء اُن کی فیملیز کے حوالے کی گئیں۔یہ تقریب محض انتظامی نہیں بلکہ محبت، ایثار اور سماجی ہم آہنگی کی ایک عظیم علامت تھی۔
تقریب میں شرکت کرنے والوں میں ممتاز سیاسی، سماجی، تاجر اور صحافتی شخصیات شامل تھیں۔
سابق چیئرمین بلدیہ و صدر سوشل ویلفیئر سوسائٹی رانا فقیر حسین خان، چوہدری محمد بوٹا باجوہ، مہر اظہر حسین دوانہ، نمبردار رانا فرحان حیدر، رانا محمد سلیم، ملک عمار یاسر، شہزادہ قمر زمان نقوی، شیخ محمد رمضان، چوہدری ظفر اقبال باجوہ، چوہدری مزمل طاہر، انصر خان تابش، ڈاکٹر رانا خالد محمود، گوہر عباس لنگاہ، عمران مہدی، چوہدری اظہر عمران باجوہ، شیخ امتیاز رحمانی، رانا محمد نعیم خان، ڈاکٹر محمد طیب، رانا محمد عاشق، محترمہ ڈاکٹر شناوش صاحبہ،محترمہ ڈاکٹرلیلہ رباب صاحبہ نے خصوصی شرکت کی
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری ظفر اقبال باجوہ نے بتایا کہ چیئرمین حاجی ریاض بہار کی سرپرستی میں للہ فاؤنڈیشن نے گزشتہ سال 30 مستحق جوڑوں کی شادیاں کروائیں، جو انتہائی کامیاب رہیں۔اس سال سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے فاؤنڈیشن نے فیصلہ کیا کہ 41 جوڑوں کی اجتماعی شادی کروا کر ان خاندانوں کے دلوں میں امید اور خوشی کے چراغ جلائے جائیں۔

یہ تقریب 30 اکتوبر بروز جمعرات حسین مارکی احمد پور سیال میں منعقد ہوگی، جس میں نہ صرف نکاح و ولیمہ کا اہتمام کیا گیا ہے بلکہ ہر جوڑے کو ضروریاتِ زندگی کا مکمل جہیز بھی دیا جائے گا۔
مزید برآں تمام شرکاء کے لیے اعلیٰ معیار کا کھانا پیش کیا جائے گا تاکہ خوشی کی یہ تقریب ایک یادگار دن بن جائے۔
رانا فقیر حسین خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ للہ فاؤنڈیشن نے سیلاب کے دوران جس طرح ہزاروں متاثرین کو کھانا، خیمے، اور امداد فراہم کی، وہ ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ انسانیت کے لیے جیتے ہیں، وہی دراصل معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں۔”

انہوں نے ٹیم فاؤنڈیشن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ انسانیت کے ان سپاہیوں میں شامل ہیں جو دوسروں کے دکھ میں خود کو شامل سمجھتے ہیں۔
علاقے کی عوام کے جانب سے بھی للہ فاؤنڈیشن کی اس کاوش کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں آج مہنگائی نے ہر گھر کو متاثر کر رکھا ہے، وہاں مستحق بیٹیوں کی باعزت شادی کروا کر للہ فاؤنڈیشن نے سماجی فلاح کا ایک نیا معیار قائم کیا ہے۔احمد پور سیال، گڑھ مہاراجہ، شورکوٹ اور جڑواں علاقوں کے لوگ اس پروگرام کو “نیکی کا عظیم جشن” قرار دے رہے ہیں۔یں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ للہ فاؤنڈیشن کا کام محض امداد نہیں بلکہ ایک عبادت ہے۔
یہ وہ مقدس خدمت ہے جس کے ذریعے نہ صرف انسانوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھرتی ہیں بلکہ قوم کے ضمیر میں احساسِ ذمہ داری بھی بیدار ہوتا ہے۔چیئرمین حاجی ریاض بہار، چوہدری ظفر اقبال باجوہ اور ان کی پوری ٹیم یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔ان کا یہ جذبہ معاشرے میں محبت، امن اور بھائی چارے کو فروغ دے رہا ہے۔ایسے ہی لوگ ہمارے وطن کی اصل طاقت ہیں — جو خاموشی سے نیکی کا بیج بوتے ہیں اور دلوں میں روشنی پیدا کرتے ہیں۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم ٹیم کو مزید ہمت، جذبہ اور استقامت عطا فرمائے تاکہ یہ مشن جاری و ساری رہے اور غربت و پریشانی میں گھری بیٹیوں کے گھر خوشیوں سے آباد ہوتے رہیں۔یہ دنیا انہی لوگوں کے دم سے قائم ہے جو دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔للہ فاؤنڈیشن ایسے ہی کرداروں کی ایک عملی تصویر ہے۔”