پیپلز پارٹی کی خاموش چال
✍️ تحریر: مہر محمد یار
پاکستان کی سیاست میں اکثر شور زیادہ سنائی دیتا ہے، مگر اصل کھیل خاموشی میں کھیلا جاتا ہے۔ آج یہی کیفیت پاکستان پیپلز پارٹی کے اردگرد دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر وہ حکومت کا حصہ نہیں، مگر آئینی عہدوں کے ذریعے اقتدار کے دائرے میں اپنی موجودگی کو آہستہ آہستہ مستحکم کر رہی ہے۔
یوں لگتا ہے جیسے پیپلز پارٹی نے “اقتدار سے دور، اثر سے قریب” رہنے کی حکمتِ عملی اختیار کر لی ہو۔
پارٹی کا یہ فیصلہ محض وقتی سیاسی مصلحت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا قدم معلوم ہوتا ہے۔ آئینی عہدوں کے ذریعے اثرورسوخ قائم کرنے کا مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی اپنے اصل مشن — یعنی وفاقی سیاست میں دوبارہ مؤثر کردار — کی جانب لوٹ رہی ہے۔
یہی وہ راستہ ہے جس سے وہ اپنی سیاسی زمین دوبارہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی نے حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے کئی بااثر رہنماؤں سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق چند رہنما جلد پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کرسکتے ہیں۔ یہ پیش رفت پیپلز پارٹی کے لیے جنوبی پنجاب میں ایک نئی سیاسی فضا قائم کرنے کا آغاز ثابت ہوسکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی یہ سب کچھ ایسے وقت میں کر رہی ہے جب اس کے پاس اقتدار کی باگ ڈور نہیں، مگر حکمتِ عملی کے میدان میں وہ دیگر جماعتوں سے ایک قدم آگے دکھائی دیتی ہے۔
پارٹی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر آئندہ عام انتخابات سے پہلے پنجاب میں اپنی جڑیں مضبوط نہ کی گئیں تو قومی سیاست میں بڑی واپسی ممکن نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اپنی اس خاموش مگر منظم حکمتِ عملی سے پنجاب میں وہ مقام دوبارہ حاصل کر پائے گی جو کبھی ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں اس کی پہچان تھا؟
وقت ہی اس کا فیصلہ کرے گا، مگر ایک بات طے ہے — پیپلز پارٹی نے سیاست کے میدان میں خاموشی سے واپسی ضرور کرلی ہے۔








