عہد کا خاتمہ، نظریہ کی جاودانی
تحریر: سلمان احمد قریشی
دنیا کی بساط پر زندگی ایک مسلسل سفر ہے۔ جو بھی آتا ہے اپنی مختصر سی مہلت پوری کرتا ہے اور رخصت ہو جاتا ہے۔ انسان کے آنے جانے کا یہ سلسلہ ازل سے جاری ہے مگر ہر رخصت ایک جیسی نہیں ہوتی۔کچھ جدائیاں دلوں میں خلا چھوڑ جاتی ہیں، کچھ نام وقت کے صفحات پر امر ہو جاتے ہیں۔
10 نومبر کو یہ خبر آئی کہ سابق ایم پی اے، ممتاز سیاسی شخصیت، بانی رکن پاکستان پیپلز پارٹی اور ترقی پسند دانشور رانا محمد اظہر اس فانی دنیا کو الوداع کہہ گئے ہیں۔ یہ خبر اوکاڑہ کی فضاؤں میں ایک اداس خاموشی کی طرح پھیل گئی۔ ان کی رحلت صرف ایک فرد کا جانا نہیں، ایک عہد کا اختتام تھی۔
رانا اظہر پاکستان کے اُن نادر سیاسی کارکنوں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے نہ صرف ملک کی سیاسی تاریخ کو قریب سے دیکھا بلکہ اسے اپنے کردار اور نظریے سے تراشا بھی۔ وہ اُن چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے نومبر 1969 میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ، گلبرگ لاہور میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ وہ اس عہد کے چشم دید گواہ تھے جب سیاست نظریے اور عوامی خدمت کا استعارہ ہوا کرتی تھی، جب پارٹی کا منشور اقتدار نہیں، عوام کی بہتری ہوا کرتا تھا۔
رانا اظہر قیامِ پاکستان سے قبل ہریانہ میں پیدا ہوئے۔ وہ آٹھویں جماعت میں تھے جب آزادی کے ساتھ ہجرت کا وقت آیااور ان کا خاندان اوکاڑہ منتقل ہو گیا۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں داخلہ لیا، جہاں سے ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہوا۔ لاء کالج ہی وہ جگہ تھی جہاں انہوں نے پہلی بار بائیں بازو کی سیاست اور کمیونسٹ نظریات سے روشناس ہوئے۔ 1961ء میں رانا محمد اظہربطور ایڈووکیٹ اوکاڑہ تحصیل میں جہد مسلسل کا آغاز کرتے ہیں لیکن جلد ہی ان کی اصل پہچان وکالت سے سیاست بن گئی۔
جب ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ایوب خان کی کابینہ سے استعفیٰ دے کر ایوبی آمریت کے خلاف عوامی تحریک کا آغاز کیا تو نوجوان وکیل رانا اظہر اس تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے اوکاڑہ میں پیپلز پارٹی کو منظم کرنے کا بِیڑا اٹھایا۔ یہ وہ وقت تھا جب اقتدار پر قابض حکومت اور مذہبی جماعتیں پیپلز پارٹی کے خلاف صف آراء تھیں، بھٹو پر الحاد اور بغاوت کے الزامات لگائے جا رہے تھے۔ مگر رانا اظہر نے خوف یا لالچ کے بغیر پارٹی کے پیغام کو عوام تک پہنچایا۔
1970ء کے عام انتخابات میں وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی ان کے خلوص اور عوامی مقبولیت کا ثبوت تھی۔وقت گزرا، سیاسی موسم بدلے اور جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا۔ رانا اظہر اُن کارکنوں میں شامل تھے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ تحریکِ بحالیِ جمہوریت کے دوران وہ اوکاڑہ میں سرگرم رہنماؤں میں شامل رہے۔ مگر جب ضیاء کا دور ختم ہوا اور جمہوریت بحال ہوئی، تو وہ پارٹی کی پالیسیوں سے دل گرفتہ ہو گئے۔رانا اظہر اُن نظریاتی کارکنوں میں سے تھے جو پیپلز پارٹی کو ایک عوامی تحریک اور بنیادی سماجی تبدیلی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ مگر جب پارٹی اقتدار میں آ کر عوامی خوابوں سے دور ہوئی تو ان کی آنکھوں میں مایوسی کے سائے اتر آئے۔
انہوں نے مارشل لاء کے دوران پارٹی نہیں چھوڑی کیونکہ ان کے نزدیک یہ موقع پرستی ہوتی، مگر جب آمریت کا دور ختم ہوا تو انہوں نے باوقار انداز میں عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔رانا اظہر کا سیاسی فلسفہ ہمیشہ ”عوام سے رشتہ” رہا۔ ان کے نزدیک سیاست طاقت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت کا پیمانہ تھی۔ انہوں نے ہمیشہ کہا کہ ”سیاست اگر عوام کے دکھ بانٹنے کا نام نہیں تو پھر یہ محض کاروبار ہے۔”ان کی سادگی، شرافت اور دیانت انہیں اپنے سیاسی مخالفین تک کے احترام کا مستحق بناتی تھی۔ وہ ہمیشہ ایشوز پر بات کرتے شخصیات پر نہیں۔ یہی ان کی سیاست کا حسن تھا۔
ان کے انتقال کی خبر پر سینئر صحافی و تجزیہ نگار سلمان غنی نے راقم الحروف کو ایک پیغام میں لکھا”دنیا میں آنے والا ہر شخص واپس اپنے رب کے حضور جانا ہے۔ مگر یاد وہی رہتے ہیں جو اپنے کردار اور خدمت سے نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ رانا اظہر کو بچپن سے دیکھتے آئے ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے ایم پی اے رہے نہ غرور نہ تکبر ان کی سادگی ان کی پہچان تھی۔ سیاسی مخالفین بھی ان کی شرافت اور دیانت کے معترف تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو سیاست کا حسن تھے۔ عوام میں سے اٹھے، عوام کے ساتھ رہے اور عوام کی آواز بنے۔ذاتیات پر نہیں نظریات پر بات کرتے تھے۔ ایسے لوگ معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔”سلمان غنی کا یہ تجزیہ دراصل ایک عہد کی گواہی ہے ایک ایسے عہد کی جو نظریے، شرافت اور کردار کی بنیاد پر قائم تھا۔ رانا اظہر جیسے لوگ اب تاریخ کے حصے بن چکے ہیں مگر ان کی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
راقم الحروف نے بھی رانا اظہر کو ان کی بزرگی کے زمانے میں دیکھا۔ وہ جب بولتے تو بات صرف الفاظ نہیں ہوتی تھی تجربے کا نچوڑ ہوتا تھا۔ ان کی گفتگو میں علم کی گہرائی، فہم کی پختگی اور عمل کی سچائی نظر آتی تھی۔ وہ کتابی دانشور نہیں، عملی سیاست کے استاد تھے۔ جنہوں نے اپنی زندگی کو عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھا تھا۔
زندگی کی بے ثباتی ایک اٹل حقیقت ہے۔ انسان چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایک دن مٹی کی گود میں جا سو جاتا ہے۔ مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے بعد یادوں کا سرمایہ چھوڑ جائے۔ رانا محمد اظہر کی زندگی اسی کامیابی کی زندہ مثال تھی۔ وہ چلے گئے مگر ان کے نظریات ان کی دیانت، ان کا کردار اور ان کا نام وقت کی گرد میں مٹنے والا نہیں۔
سیاست میں رانا اظہر جیسے لوگ اب کم ہی رہ گئے ہیں جو نظریے پر ڈٹے رہیں جو اصولوں پر سمجھوتہ نہ کریں اور جو عوام کی خوشی کو اپنی کامیابی سمجھیں۔ آج کے دور میں جب سیاست مفادات، وعدوں اور بیانیوں کی جنگ بن چکی ہے، وہاں رانا اظہر جیسے کردار یاد دلاتے ہیں کہ سیاست دراصل خدمت، قربانی اور وقار کا نام تھی۔وقت کے اس بے رحم بہاؤ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو مٹی میں جا ملتے ہیں مگر اپنے کردار سے زمین کو زرخیز کر جاتے ہیں۔ رانا محمد اظہر بھی انہی لوگوں میں سے ایک تھے۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی ایک نظریے، ایک سوچ اور ایک مقصد کے لیے وقف کی۔ان کی زندگی اس بات کی شہادت ہے کہ دنیا فانی ضرور ہے مگر کردار اور نظریہ اگر خلوص سے نبھایا جائے تو ابدی بن جاتا ہے۔










