وردی والے ہیرو،فرض، قربانی اور حوصلے کا جشن
تحریر: سلمان احمد قریشی
پولیس کا محکمہ کسی بھی ریاست کے نظم و ضبط اور امن و امان کے قیام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاشرے میں جب ہر فرد اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے مطمئن ہو کر زندگی گزارتا ہے تو دراصل یہ اطمینان ان وردی پوش جوانوں کی انتھک محنت، قربانیوں اور فرض شناسی کا ثمر ہوتا ہے۔ پولیس کا کردار صرف جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی تک محدود نہیں بلکہ یہ محکمہ امن کے قیام، انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں بھی بنیادی ستون ہے۔
پولیس اہلکار دن رات، گرمی سردی، بارش طوفان میں بھی اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے والا اہلکار ہو یا کسی خفیہ مشن پر معمور انویسٹی گیشن آفیسر، ان سب کا مقصد عوام کی حفاظت ہی ہوتا ہے۔ ان کا کام محض ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک عہد، ایک جذبہ اور ایک قربانی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے خود خطرے کے دہانے پر کھڑے رہتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی صرف دفتر کے اوقات تک محدود نہیں، بلکہ دن کے کسی بھی پہر، کسی بھی جگہ انہیں فرض کی پکار پر لبیک کہنا پڑتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پولیس کی نوکری دنیا کی مشکل ترین نوکریوں میں سے ایک ہے۔
اسی پس منظر میں پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس کی میزبانی میں حال ہی میں آل پنجاب انٹر رینج شوٹنگ اینڈ سوفٹ بال ٹورنامنٹ کا انعقاد ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔ یہ ایونٹ نیو کیمپس فٹ بال گراؤنڈ اوکاڑہ میں منعقد ہوا، جس میں پنجاب بھر کی مختلف رینجز کی ٹیموں نے بھرپور شرکت کی۔ سخت اور خطرناک ڈیوٹی کے ماحول میں ایسا مثبت اور صحت مند انعقاد نہ صرف اہلکاروں کے جسمانی و ذہنی سکون کے لیے ضروری ہے بلکہ اس سے ٹیم ورک، حوصلہ افزائی، اور باہمی اتحاد کی فضا بھی پیدا ہوتی ہے۔
یہ ایونٹ دراصل پولیس کے انسان دوست چہرے کو اجاگر کرنے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ عوام کے لیے پولیس محض قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ ایک سماجی رشتہ بھی ہے۔ جب یہی ادارہ کھیل، صحت، اور مثبت سرگرمیوں کے ذریعے اپنی توانائیوں کا اظہار کرتا ہے تو عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوتا ہے۔
اختتامی تقریب میں ریجنل آفیسر پیٹرولنگ پولیس ساہیوال جمیل احمد ساجد نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ آفیسر اظہر عباس گل اور ڈسٹرکٹ آفیسر سی سی ڈی مہر محمد یوسف بھی شریکِ تقریب تھے۔ شوٹنگ بال کے فائنل میں پیٹرولنگ پولیس ہیڈکوارٹرز کی ٹیم نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے فتح حاصل کی، جبکہ خواتین کے سوفٹ بال مقابلے میں ساہیوال رینج کی ٹیم نے میدان مار لیا۔
پولیس کے مرد و خواتین کھلاڑیوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ میدان میں نظم و ضبط، کھیل کے آداب اور باہمی احترام کا عملی مظاہرہ ہوا۔ خواتین کھلاڑیوں کی شرکت اس ایونٹ کی نمایاں خصوصیت رہی۔ ان کے چہروں پر اعتماد اور دلوں میں جذبہ دیکھ کر یہ احساس ابھرتا ہے کہ خواتین پولیس اہلکار نہ صرف جرائم کے خلاف جنگ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں بلکہ کھیل کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
راقم الحروف کو اس ایونٹ کے فائنل میں شرکت کا موقع ملا۔ وہاں کا ماحول خوشگوار، پرجوش اور دلکش تھا۔ ہر سمت خوشی اور توانائی کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ شائقین نے کھلاڑیوں کو داد و تحسین سے نوازا، اور یہ منظر پولیس فورس کے اس مثبت، انسان دوست اور زندہ دل پہلو کو اجاگر کر رہا تھا جو عام طور پر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
اسپورٹس ایونٹ کی اہمیت اس لیے بھی دو چند ہو جاتی ہے کہ پولیس اہلکار اکثر ذہنی دباؤ، عوامی دباؤ اور خطرناک فرائض کے باعث شدید تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔ روزانہ کے جرائم، سانحات، اور عوامی شکایات کے بیچ ان کے لیے ذہنی تازگی اور جسمانی توانائی کے مواقع بہت کم میسر آتے ہیں۔ ایسے میں کھیلوں کے انعقاد سے نہ صرف ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے بلکہ ادارے کے اندر باہمی اعتماد، نظم و ضبط، اور ٹیم ورک کی فضا بھی پروان چڑھتی ہے۔
اس موقع پر محکمہ پولیس کے پبلک ریلیشنز آفیسر ساجد نیازی کا کردار قابلِ ستائش ہے جنہوں نے اس ایونٹ کو نہ صرف پروفیشنل انداز میں منظم کیا بلکہ عوام کے سامنے بھی مؤثر طریقے سے اجاگر کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، میڈیا سے تعلق، اور رپورٹنگ کا انداز اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک اہل کمیونیکیشن آفیسر ادارے کے مثبت چہرے کو اجاگر کرنے میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ ساجد نیازی نے جس انداز میں اس ایونٹ کو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا اس نے پولیس فورس کے حوالے سے ایک نیا، روشن اور مثبت تاثر پیدا کیا۔
پولیس کے بارے میں اکثر معاشرتی تنقید کا پہلو غالب رہتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی ادارہ روزانہ اپنے سینکڑوں اہلکاروں کے ساتھ امن و امان کے محاذ پر جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتا ہے۔ کئی اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں، کئی زخمی ہوتے ہیں، اور بے شمار اہلکار اپنے اہل و عیال سے دور رہ کر عوام کی حفاظت میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسے میں اگر محکمہ انہیں تفریح، عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کے مواقع فراہم کرے تو یہ نہ صرف اہلکاروں کے مورال کو بلند کرتا ہے بلکہ ادارے کی اجتماعی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری لاتا ہے۔
آخر میں یہ لکھنا غلط نہ ہوگا کہ پولیس صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک احساسِ تحفظ کا نام ہے۔ ان کی قربانیاں اور خدمات وہ سرمایہ ہیں جس پر قوم فخر کرتی ہے۔ اسپورٹس ایونٹس جیسے مواقع ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ان وردی پوش فرزندوں کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں، خواب اور جذبے بستے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کریں اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہیں۔
پولیس فورس کی حقیقی طاقت ان کے ہتھیاروں میں نہیں بلکہ ان کے کردار، نظم، اور جذبے میں ہے۔ اور یہی جذبہ آج بھی ہمارے شہروں، سڑکوں اور گلیوں کو محفوظ بنائے ہوئے ہے۔










