پنجاب حکومت کا بڑا فیصلہ: نئے اضلاع میں واسا کا قیام، عوامی سہولت اور جدید شہری ترقی کی جانب اہم قدم
تحریر : محمد زاہد مجید انور
*پنجاب حکومت نے صوبے کے متعدد اضلاع میں شہری سہولیات کو بہتر بنانے اور جدید طرزِ زندگی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی حکومت نے باضابطہ طور پر راجن پور، لیہ، مظفرگڑھ، تونسہ شریف، کوٹ ادو، بہاولنگر، وزیر آباد، تلہ گنگ، لودھراں، وہاڑی، خانیوال، پاکپتن، قصور، خوشاب، بھکر، میانوالی، منڈی بہاؤالدین، نارووال، چکوال، اٹک، چینوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی) کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔یہ اقدام بلاشبہ پنجاب کی تاریخ میں شہری خدمات کے شعبے میں انقلاب کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور جدید سہولیات کے تقاضوں نے اس امر کی ضرورت پیدا کر دی تھی کہ صوبے کے وہ اضلاع بھی جہاں تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے، وہاں پانی کی فراہمی، سیوریج کے جدید نظام، نکاسی آب، بارشی پانی کے مؤثر انتظام اور صفائی کے معیاری انفراسٹرکچر کو ایک مربوط نظام کے تحت چلایا جائے۔ واسا کا قیام اسی سمت ایک بڑا قدم ہے۔نئے اضلاع میں واسا کے قیام سے نہ صرف شہری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ بلدیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی بے حد مدد ملے گی۔ راجن پور اور لیہ جیسے جنوبی پنجاب کے اضلاع ہوں یا وزیر آباد، چکوال اور خوشاب جیسے وسطی پنجاب کے شہر—ہر علاقے کے مخصوص مسائل کے حل کے لیے مقامی سطح پر پالیسی سازی اور فوری اقدامات اب ممکن ہوں گے۔ پانی کی قلت، سیوریج کے مسائل، گندے پانی کے تالاب، بارشوں میں سڑکوں پر کھڑا پانی، گلی محلے کی صفائی—یہ سب مسائل اب جدید ادارہ جاتی نظام کے تحت زیادہ بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ حل ہو سکیں گے۔ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، پاکپتن اور قصور جیسے زرعی پس منظر رکھنے والے شہروں میں واسا کے قیام سے شہری و دیہی ملاپ والے علاقوں میں بھی نکاسی آب اور صاف پانی کی فراہمی کا معیار بلند ہو گا۔ نارووال، منڈی بہاؤالدین اور میانوالی جیسے سرحدی یا صنعتی رجحان رکھنے والے اضلاع میں بھی یہ قدم معاشی اور سماجی ترقی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھے گا۔پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں صوبے کا شہری انفراسٹرکچر جدید معیار کے مطابق تشکیل پائے گا۔ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر شہری سہولیات کو ایک مرکزی ادارے کے تحت منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی، جس کی تکمیل اب بتدریج ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے قیام کیے گئے واسا دفاتر کو مکمل فنڈز، تربیت یافتہ عملہ، جدید مشینری اور ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ اس اہم فیصلے کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچ سکیں۔ اگر اس پالیسی پر عملدرآمد شفافیت، مستقل مزاجی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جائے تو آنے والے برسوں میں پنجاب کے یہ اضلاع ترقی، صفائی، جدید نظامِ آب رسانی اور صحت مند شہری ماحول کے نئے معیار قائم کر سکتے ہیں۔پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ ایک ایسے دور کی شروعات ہے جس میں شہری سہولیات کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔*










