تنہائی میں بیٹھ کر کبھی خود کو تلاش کرو

تحریر ! سید شاکر علی شاہ

میرا بڑا بھائی دنیا سے جاتے ہوئے زندگی کی حیثیت موت کی حقیقت سے روشناس کرا گیا 27 نومبر 2025 کی رات کو میں نے اپنے بڑے بھائی سید محمد حمید شاہ سے ویڈیو کال پر بات کی تو زندگی کی بے بسی کی تصویر دیکھی زندگی کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھا جینے کی ارزو کی التجا کو دیکھا وہ بلند حوصلے اور مسکراہٹں بکھیرنے والا فوجی جوان زندگی کی حیثیت بتا رہا تھا
میں نے اس کی جینے کی حسرت کو پورا کرنے کے لیے تنہائی میں بیٹھ کر اپنے ارد گرد روپے پیسے عہدے داران رشتہ دار اور ذاتی دوست احباب کی لسٹ میں جانچ پڑتال کی کوئی ایسا بھی عمل کر لوں کہ میں اپنے بھائی کی جینے کی خواہش پوری کر سکوں بالاخر ہر طرح سوچ وچار کے بعد زندگی کی حیثیت کا ائینہ میرے سامنے ایا جس میں میں نے سب کچھ ہونے کے باوجود مجبور اور بے بس تنہا کھڑا انسان ہی نظر ایا
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس کا کوئی دوست یا رشتہ دار نہیں اس کے اتے ہی سب رشتے ٹوٹ جاتے ہیں زندگی موت ایک ایسا کھیل ہے جس سے پوری دنیا کے سائنس دان ڈاکٹرز اور پوری دنیا کی دولت لگا کر بھی اج تک موت کو شکست نہیں دے سکے اخر میں جیت موت کی ہی ہوتی ہے
اس سچائی کے بارے میں روزانہ 24 گھنٹوں میں سے پانچ منٹ تنہائی میں بیٹھ کر ضرور سوچے اپ نے اگر اپنی موت کے بعد کا منظر دیکھنا ہے تو کسی اپنے پرائے کی موت کے بعد کا منظر دیکھ لیجئے سب کو جلدی ہوگی اپ کو نہلانے اور دفنانے کی کیونکہ سب اپنے اپنے کاروبار سے مخصوص ٹائم نکال کر ائے ہیں کسی گھر سے کوئی ایک افراد چہرہ دیکھنے اور اپنا اپ دکھانے ایا ہے اور باقی سب اپنے اپنے کام میں مصروف ہیں 70 پرسنٹ لوگ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد یوں بھاگ جاتے ہیں جیسے یہ عمل ان کے ساتھ ہونا ہی نہیں اور جب کوئی اپنا انتقال کر جائے پھر لوگوں کو کوستے اور کہتے ہیں لوگوں سے احساس ہی ختم ہو گیا ہے لیکن یہ نہیں سوچتے اس بے حسی کے ذمہ دار ہم بھی ہیں
ایک دور تھا لوگ دوسرے شہروں سے ائے ہوئے مہمان کو الوداع کہتے ہوئے انکھیں نم کر لیتے تھے پھر انے کی خواہش اور اصرار کے ساتھ گلے لگا کر رو پڑتے تھے
لیکن اج کل کبھی نہ انے والے اپنے پرائے کے دفنانے پر بھی نہیں روتے فورا واپسی کی طرف بھاگتے ہیں کھانا کھانے کے لیے پھر کھانے کے دوران پوری طرح خیال رکھا جاتا ہے کس کی پلیٹ میں بوٹیاں زیادہ کس کی پلیٹ میں کم ڈالنی ہیں تمام عورتیں مرد اپنے اپنے رشتہ داروں کو کھانا کھلانے کے مقابلے میں لگ جاتے ہیں
یہ سارا منظر اپ کسی بھی رشتہ دار کی فوتگی پر دیکھ سکتے ہیں