لاہور پنجاب حکومت نے تمام سرکاری دفاترمیں عوام کا داخلہ بند کر دیا، پنجاب بھر کے تمام پبلک پارکس بھی بند رہیں گے، مری سمیت پورے پنجاب کے سیاحتی مقامات کو بھی سیاحوں کے لیے بند کرنے کا نوٹیفکیشن جاری۔ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پنجاب حکومت ہنگامی اقدامات کر رہی ہے جس کے تحت عوام کا تمام قسم کے سرکاری دفاتر میں داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب بھر کے تمام سرکاری دفاتر، پبلک پارکس اور صوبے کے تمام سیاحتی مقامات عوام کے لیے بند رہیں گے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں میڈیکل اسٹوراور کریانے کی دکانیں اپنے معمول کے مطابق ہی کھلی رہیں گی تاہم دکانیں، شاپنگ مالز، ہوٹل، اور ریسٹورنٹس رات دس بجے تک بند ہوا کریں گے۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے 189مشتبہ کیسز ہیں اور پنجاب حکومت نے وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے 3 جنوری کو سب سے پہلے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کاآغاز کیا تھا- وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ صحت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے، فوری طور پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی، جو تواتر کے ساتھ اجلاس کر رہی ہے اور اقدامات تجویز کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں پر صوبہ پنجاب میں فوری طو رپر عملدرآمد کیا گیا ہے- وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے کہا کہ آج صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ آفس میں منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے- انہوں نے بتایا تھا کہ مری سمیت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے- سیکرٹریٹ اور سرکاری دفاتر میں لوگوں کی آمد ورفت کو محدود کردیا گیا ہے جبکہ دفاتر میں انتہائی ضروری سٹاف ہی حاضر ہو گا اور دیگر عملہ سکائپ پر سرکاری امور سرانجام دے گا- بعدازاں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے لیبر کمپلیکس میں قائم قرنطینہ مرکز کا دورہ بھی کیا- وزیر اعلیٰ نے قرنطینہ مرکز میں مریضوں کیے لیے سہولتوں، صفائی کے انتظامات اور واش رومز کا بھی معائنہ کیا- انہوں نے کہا کہ لیبرکمپلیکس میں تقریباً 3 ہزار افراد کے لیے قرنطینہ کی گنجائش ہے- قرنطینہ مرکز میں 100 بیڈز پر مشتمل عارضی ہسپتال بھی قائم کیا گیا ہے- وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کے لیے قائم ہسپتال میں ڈاکٹر اور طبی عملہ دن رات ڈیوٹی سرانجام دے گا- لیبرکمپلیکس میں قائم قرنطینہ مرکز میں ایران سے آ نے والے زائرین کو ٹھہرایاجائے گااورایران سے آنے والے زائرین کے کورونا ٹیسٹ بھی کئے جائیں گے- وزیر اعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہسپتال میں آئسولیشن وارڈ بھی قائم کیا گیا ہے- ملتان میں مزید 1440 بیڈز کی گنجائش موجود ہے- زائرین کی دیکھ بھال اور ضروری امورکی انجام دہی کے لیے 300 افراد پر مشتمل عملہ فرائض سرانجام دے گا- شوکت خانم کینسر ہسپتال کے ڈاکٹرفیصل سلطان، ایم پی اے سبین گل خان، چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری سپشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے-