کرپشن کا ناسور

تحریر نوجوان لکھاری ۔عثمان خان خٹک مظفرگڑھ

کرپشن کا ناسور ملکی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے سرکاری اداروں کے کرپٹ، بدعنوان، راشی مافیا، ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی کے زریعے عوام کا خون نچوڑنے والے میدان میں ہیں، سرکاری اداروں میں کرپشن بے قابو، لوٹ مار کرنے والوں کی چیرہ دستیاں عروج پر ہیں جس کے باعث شہریوں کی زندگیاں اجیرن بن گئیں ۔ محکمہ پولیس، محکمہ مال، محکمہ صحت، محکمہ تعلیم،واپڈا، محکمہ انہار، میونسپل کمیٹی، محکمہ سول ڈیفنس، محکمہ ماحولیات، محکمہ لیبر، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس، اور دیگر محکموں میں سالہا سال سے پرکشش سیٹوں پر براجمان کرپٹ اہلکاروں نے بری طرح سرکاری اداروں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ سرکاری اداروں میں بغیر رشوت جائز کام ہونا بھی خواب بن کر رہ گیا ہے، سائیکلوں پر سرکاری ملازمت شروع کرنے والے کرپٹ، بدعنوان، راشی اہلکار شہریوں کا خون چوس کر بڑی بڑی گاڑیوں، بنگلوں، زمینوں اور جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں،۔ کرپشن سے بھرپور تھانہ کلچر،حکومتی اداروں میں کرپشن کا راج ہے حصول انصاف کا کمزور نظام، مصلحتوں اور بدعنوان افسران کی وجہ سے عوام میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا جارہا ہے ۔ عوام میں عدم اطمینان کے باعث حکومتی و سرکاری اور عدالتی اداروں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے۔جب ریاست کے ادارے ہی کرپشن کا مرکز بن جائیں تو انصاف کی بنیاد پر فیصلے اور مسائل حل نہیں ہوا کرتے۔کرپشن کا سرکاری اداروں میں جائزہ لینا ہے تو سرکاری افسران کے طرز رہائش اور ان کے چند سالوں کے اثاثوں کو دیکھا جانا چاہیے، شفاف تحقیقات کے ذریعے خاصی حد تک بے ایمان اور ایماندار افسران کی گروہ بندی کی جاسکے گی۔حکومت کو چاہئییے کہ بیسک پے سکیل 8 سے لیکر 19 تک کے افسران کے احتساب کا عمل شروع کرے رشوت اور کرپشن کے زریعے لوٹا گیا سارا پیسہ باہر آجائے گا۔