وزیراعظم کے دست راست زلفی بخاری کے کرتوت۔اور کاونٹر تبلیغی جماعت۔حکمران ہوش کے ناخن لیں۔۔زوار غلام علی زبانی غلام شبیر منہاس کے قلم سے سٹار نیوز پر

*کورونا۔۔تفتان سے تبلیغی مراکز تک*
اس کا نام غلام علی ھے۔۔یہ پاراچنار کا باسی ھے۔۔ماربل کے پتھر کا کام کرتا ھے۔۔اس کا مسلک شیعہ ھے اور اسکی ایک عرصہ سے خواہش رہی ھے کہ وہ ایران عراق کا سفر کرے اور مقامات مقدسہ دیکھ کر آئے۔۔ اس نے اپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے ھرماہ کچھ رقم بچا کے رکھی اور بالآخر جنوری 2020ء میں اس کے پاس اتنی رقم جمع ھو گئی کہ وہ زواری پہ جاسکے۔۔اس نے ایک ٹریول ایجینٹ سے بات کی اور فروری کے آخر میں غلام علی ایران پہنچ گیا۔۔یہ ایران سے عراق گیا۔۔نجف اشرف اور کربلا سے ہوتا ھوا جب واپس ایران پہنچا تو اس وقت تک ایران میں کورونا اپنے پاوں جما چکا تھا۔۔اس نے ایران سے عراق کیطرف جاتے وقت جو رونقیں ایران میں دیکھی تھیں واپسی پہ وہ سب رونقیں اور چہل پہل غائب تھی۔۔ھر طرف ویرانی نے ڈیرے جما رکھے تھے۔۔اور سڑکوں سے مارکیٹس تک سب کچھ تقریبا بند ھوچکا تھا۔۔اس نے اپنے ساتھ سفر کرنے والے زائرین سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ھے تو اسکو بتایا گیا کہ ایران میں ایک وائریس آچکا ھے جس کو کورونا کہتے ہیں۔۔ایران کے بڑے بڑے عالم، فوجی افسران اور اھم حکومتی عہدیدار اسکی لپیٹ میں ہیں۔باقی ماندہ ایران کو محفوظ بنانے کیلئے حکومت ایران اقدامات کررہی ھے۔۔ ھمارا کیا ھو گا۔۔؟ غلام علی کے اس سوال پہ قافلے کے رہبر نے سب کو بتایا کہ ھم چونکہ ایران کے مہمان ہیں لھذا ھمارا ھرطرح سے خیال رکھا جائے گا۔۔اور ھمیں جلد کسی محفوظ مقام پہ منتقل کردیا جائے گا۔۔غلام علی سمیت تمام زائرین یہ سن کر خوش اور مطمعن ھوگئے اور انکی نظر میں ایران کی قدرومنزلت پہلے سے بڑھ گئی۔۔
تمام زائرین اس دن ابھی سو رھے تھے کہ گاڑیاں آکر انکے ھوٹل کے سامنے رکیں۔۔انھیں دھکے دے کر اٹھایا گیا اور پانچ منٹ کا وقت دیا گیا کہ اپنا سامان سمیٹ کر فوری طور پہ نیچے گاڑیوں کے پاس پہنچ جایئں۔۔زائرین کو اگرچہ انکا یہ سلوک ناگوار گزرا تاھم ان میں سے اکثریت کا یہی خیال تھا کہ یہ سب ھماری بہتری کیلئے ہی تو کیا جارھا ھے اور یہ لوگ رات کے اس حصے میں ھمیں کسی محفوظ مقام پہ منتقل کرنے کی تکلیف بھی تو اٹھا رھے ہیں۔۔گاڑیاں چلیں اور تفتان بارڈر پہ جا رکیں۔۔زائرین کو نیچے اترنے کا حکم دیا گیا۔۔وہ سب جب اتر گئے تو دیکھا کہ یہ تو بارڈر ھے۔۔ بارڈر پر لگا ایرانی گیٹ بند تھا۔۔درمیان میں کچھ جگہ خالی تھی اور اسکے اس پار پاکستانی گیٹ نظر آرھا تھا جسکے اوپر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رھا تھا تاھم گیٹ وہ بھی بند تھا۔۔
ایرانی فورسسز نے اپنا گیٹ کھلوایا اور زائرین کو حکم دیا کہ پاسپورٹس نکال کر جمع کروا دیں۔۔پاسپورٹس لینے کے بعد انھیں گیٹ سے پاکستان کیطرف دھکیل دیا گیا اور پاسپورٹس پر Exit کی مہر لگا کر تار کے اوپر سے انکی طرف اچھال دیئے گئے۔۔اب زائرین پریشان تھے کہ ایران نے اپنا گیٹ بند کرلیا تھا۔۔اور پاکستانی گیٹ بھی بند تھا۔۔یہ لوگ درمیان میں بے یارومددگار بیٹھے تھے۔۔۔عجیب صورتحال تھی۔۔مگر کچھ ہی دیر بعد کچھ گاڑیاں پاکستانی حدود میں آکے رکیں۔۔اور پھر فورا انکے لئیے گیٹ کھول دیا گیا۔۔انکو دور سے چیک کیا گیا اور ایک کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔۔جس پہ موٹے حروف میں ” قرنطینہ مرکز” لکھا ھوا تھا۔۔
زائرین نے کچھ افسران کی باتیں سنی جو آپس میں کررھے تھے۔۔کہ اب ھمارے پاس اور کوئی چارہ رہ ہی نہیں گیا تھا کیا کرتے۔۔جب ایران نے انکو ٹھڈے مار کر اسطرف پھینک دیا تھا تو کیا ھم انھیں وھیں پڑا پڑا مر جانے دیتے۔۔
غلام علی کو اب حالات کی نزاکت کا کچھ کچھ احساس ھو چلا تھا مگر وہ سادہ آدمی تھا اور طرح طرح کی باتیں سن کر پریشان تھا کہ اس سے آگے کیا بنے گا۔۔۔اس نے سنا کہ ھمیں شاید اس وقت تک یہاں رکھا جائے جب تک یہ وباء ختم نہیں ھوجاتی۔۔کبھی وہ سنتا کہ ھمیں دوماہ تک یہیں رکھا جانا ھے۔۔بالآخر اس نے اپنے ایک پڑھے لکھے ھم سفر سے پوچھا کہ اب ھو گیا کیا۔۔تو اس نے بتایا کہ ھمارے کسی بڑے کی زلفی بخاری سے بات ھوگئی ھے ھمیں آج یا کل یہاں سے نکال لیا جائے گا۔۔غلام علی کو یقین تو نہ آیا مگر اسکے دل سے نکلا کہ اللہ کرے ایسا ھوجائے۔۔اور پھر ایسا ہی ھوا۔۔اگلے ہی دن گاڑیاں پہنچ گیئں اور انکو اٹھا کے بلوچستان کے بارڈر سے اٹھا کے سندھ کے شہر سکھر پہنچا دیا گیا۔۔یہ سب کچھ ان زائرین کیلئے ایک خواب کیطرح انہونی تھا اور انکو خود سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب ھو کیا رھا ھے۔۔
وھاں سے کیوں نکالا گیا۔۔کس کے کہنے پہ نکالا گیا۔۔اور ان کورونا کے مشتبہ افراد کو ملک کے چپے چپے میں کیوں پھیلایا گیا یہ آپ سب جانتے ہیں۔۔
آج کل آپکی خفیہ کی جانے والی کارروایئاں خفیہ نہیں رہتیں۔۔آپ بے شک کتنے ہی چالاک اور طاقتور کیوں نہ ھوں۔۔ایسا ہی یہاں ھوا۔۔زلفی بخاری اور علی زیدی پارٹی کی پھرتیاں زیادہ دیر پوشیدہ نہ رہ پایئں اور میڈیا سمیت ملک بھر نے انھیں اس مجرمانہ فعل پہ آڑے ھاتھوں لیا۔۔ایک خبر یہ بھی ھے کہ ملک کے معتبر ادارے نے بھی زلفی کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا ھے اور حکومت پہ دباو ھے کہ اس کو فارغ کیا جائے۔۔بحرحال ھم اپنے موضوع پہ ہی رہتے ہیں۔۔جب یہ بات زبان زد عام ہوئی اور ھر طرف سے پریشر آنا شروع ھوا تو اس پریشر کو ریلیز کرنے اور اس مجرمانہ فعل کو کاونٹر کرنے کیلئے سادہ لوح تبلیغی جماعت والوں کو شکار کرنے کا پلان بنایا گیا۔۔اور آج اس کے نتائج آپکے سامنے ہیں۔۔ اب ھزاروں کی تعداد میں ایران سے آنے والے کورونا زائرین کی بات کم اور چند تبلیغی جماعت کے ارکان کی بات زیادہ ھورہی ھے۔۔بڑی مہارت اور سلیقہ مندی سے اسکو اس مخصوص مسلک سے ہٹا کر دوسرے مسلک کے سر تھونپا جارھا ھے۔۔اب توازن برقرار رکھنے کیلئے ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی کی جارہی ھے۔۔ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے ایک کے بعد ایک جھوٹ بولا جارھا ھے۔۔
اب سوال یہاں یہ پیدا ھوتا ھے کہ یہ لوگ بھلے ایران کے خیراخواہ اور نمک حلال ہی کیوں نہ ھوں مگر یہ وھاں سے کورونا کو اپنے ملک میں کیونکر درآمد کریں گے۔۔اس سوال کا جواب یہ ھے کہ ایران بھی چونکہ دنیا کو ایک مسلم ملک کے طور پہ اپنا تعارف کرواتا ھے۔۔اور کسی مسلم ملک میں یہ وباء اس تیزی اور شدت سے ابھی تک نہیں پھیلی جتنی تبایی ایران میں ہوئی ھے۔۔ان۔لوگوں کا پلان یہ تھا کہ وھاں سے کورونا زدہ زائرین کی بڑی کھیپ نکال کر پاکستان میں پھیلا دی جائے تاکہ ایران اس وباء سے متاثر اکیلا اسلامی ملک ھونے کیوجہ سے سوالات کا سامنا نہ کرے۔۔کیونکہ اسکا اسلامی ھونا پہلے ہی دنیا بھر میں مشکوک ھے۔۔
کورونا جلد یا بدیر ختم ہو ہی جائے گا۔۔اللہ امت پہ اپنا رحم فرمائے گا اور ھم اس وباء سے نکل آیئں گے تاھم مورخ جب تاریخ لکھے گا تو اگر وہ بددیانت نہ ھوا تو ان بدنما اور غدار چہروں سے نقاب ضرور کھینچے گا جو کھاتے تو پاکستان کا ہیں مگر کام ایران کیلئے کرتے ہیں۔

والسلام دعاوں کا طلبگار غلام شبیر منہاس

کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں( ادارہ)