اللّٰہ کے ذکر سے اعراض اور “کرونا وائرس”

{ صدائےحبیب }

کالم نگار : انجینئر حبیب الرحمٰن حاصلہ

آج ایک چھوٹے سے وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت سب کچھ ہونے کے باوجود تنگی داماں کا منظر پیش کر رہی ہے،
سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ایک دوسرے کو اس صفحہ ہستی سے مٹانے کا دعویٰ کرنے والے ممالک بے بس و لاچار نظر آرہے ہیں۔
ہم نے سوچا بھی ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟؟

وجہ ایک مثال کے ساتھ واضح کرتا ہوں
جیسا کہ ایک بادشاہ،کسی وڈیرے یا جاگیردار کی کوئی چھوٹا ماتحت آدمی تعریف نا کرے بلکہ اس کا انکاری بنے تو تصور کریں کہ اس بیچارے غریب کے ساتھ وہ وڈیرا کیا کرے گا ؟؟
یقیناً اس کا جینا محال کر دے گا یا جان سے مار ڈالے گا

بالکل ایسے ہی ہم سب ایک ذات جو بلند و بالا ترین ذات ہے اس کے غلام اور ماتحت ہیں
ہم انسان دنیاوی معاملات میں تو ایسی چیزوں میں احتیاط برتتے ہیں لیکن اس عظیم ہستی کے بارے میں سراسر بھول جاتے ہیں
اس عظیم ترین ذات نے واضح طور پر اس حوالے سے اپنے کلام قرآن مجید کی سورة طٰہ میں فرما دیا
وَمَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِكۡرِىۡ فَاِنَّ لَهٗ مَعِيۡشَةً ضَنۡكًا وَّنَحۡشُرُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ اَعۡمٰى‏
اور جس نے میرے ذکر سے منہ پھیرا تو بیشک اس کے لیے معیشت تنگ ہوجائے گی اور ہم اسے قیامت کے دن اندھا اٹھائیں گے،

آج ہم انسانوں نے اللّٰہ کو بھلا دیا ہے اس کے ذکر کو بھول گئے
تو اللہ نے اس دنیا کو ایک چھوٹے سے عام آنکھ سے نظر نا آنے والے وائرس کے سامنے بے بس کر دیا ہےاور معیشت کو تنگ کر کے رکھ دیا ہے

تومشکل کی اس گھڑی میں اپنے رب سے رابطہ مضبوط کیجئے
اپنے خالق کے سامنے گڑگڑائیے
توبہ و استغفار کیجئے
اپنے گناہوں کا اقرار کر کے معافی مانگئیے
وہ اللّٰہ رب العزت ضرور معاف فرما دے گا
اور ہمارے حالات درست فرما دے گا
ہماری معیشت کو دوبارہ کھول دے گا
یہی وقت ہے اللہ کے قریب ہونے کا
انتظار نا کیجئے کہیں دیر نا ہوجائے
کیونکہ اس وقت دوسرا کوئی بھی نہیں جو ہماری پکارسنے
جیسا کہ سورة نمل میں ارشاد ربانی ہے

“اَمَّنۡ يُّجِيۡبُ الۡمُضۡطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَيَكۡشِفُ السُّوۡٓءَ

کون ہے جو بے بس کی پکار کو جب وہ پکارے، قبول کر کے سختی کو دور کر دیتا ہے”

یقیناً مصیبت کی اس سخت ترین گھڑی میں وہی ایک ذات ہے جو ہمارے حالات درست فرما سکتی
اسی کے در پہ آجائیے
اللّٰہ سے دعا ہے کہ ہمیں اس عذاب سے بچائے۔

آمین ثم آمین