کرونا کا ڈرامہ۔۔دنیا کی عدالتیں اوپن۔۔اللہ کی عدالتیں مقفل۔۔منڈی بنک کرنسی کاروبار آزاد۔۔عقیدہ کی محافظ ،مساجدپرتالہ بندی۔۔لبرل ازم کے گھناونے کھیل کے پس پردہ چشم کشا اور تحقیقی کالم۔۔۔۔سٹار نیوز پر۔۔۔علامہ عبیدالرحمن کے شاہکار قلم سے
🌻 *”مسئلہ کرونا ہے یا مسجد کے تہذیبی و معاشرتی تفاعل کی نفی؟!”*
*(علم و ایمان کے بحران اور خوف میں مبتلا احباب کی بارگاہ تشکیک و تذبذب میں کچھ معروضات….)*
*اعتقادی و تہذیبی مقدمہ:*
جدید قومی سرمایہ دارانہ ریاست اپنے ریاستی ستون و مراکز (بینک، پورٹس، سرمایہ دارانہ اقلیت، میڈیکل سائنس و ہسپتال، میڈیا، وغیرہ) کو سماج میں عقیدہ کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس کے لیے اگر لوگ مر بھی جائیں تو اس کو قبول کرتی ہے کیونکہ کسی بھی نظریہ کے داعی کا اپنے عقیدہ کے لئے قربانی دینا اس کی اپنی اخلاقی سعادت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں مساجد پر پابندی لگانا جدید لبرل ریاست کے مَنہج میں اسی طرح معقول ہے جس طرح ریاست فرد سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ پارک نہ جاؤ۔ لبرل ریاست کے نزدیک پارک جانا اور مسجد جانا مساوی فعل ہیں کیونکہ لبرل ازم کی رو سے یہ اجتماعی عقیدہ و رویہ نہیں بلکہ فرد کا انفرادی فعل ہے، جس پر لبرل ریاست کی اجارہ داری ہے۔ لبرل ریاست کا یہ فکری مقدمہ اگر قابلِ فہم ہے تو پھر ابوابِ مساجد مُقَفل اور سرمایہ دارانہ ریاستی اداروں کے ابواب کیوں مفتوح ہیں بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ جدید لبرل ریاست کا جدید شہری کرنسی سے وہ خوف نہیں کھا رہا جو خوف وہ مساجد کے مصلے میں دیکھ رہا ہے حالانکہ ڈبلیو ایچ او (WHO) کی تحقیق کے مطابق وائرس سب سے زیادہ کرنسی کے ذریعہ پھیل رہا ہے، لیکن کیوں؟! اس لئے کہ جدید لبرل ریاست کے نزدیک سرمایہ دارانہ اقلیت و سرمایہ دارانہ نظام کے مراکز بینک وغیرہ، لبرل ریاست کے اعتقادی ستون ہیں اور عقیدہ سے خوف نہیں کھایا جاتا بلکہ اس کے لئے قربانی دی جاتی ہے۔ ایسے میں کرنسی جو ”خطرہ” ہے اس کے متعلق لبرل ریاست کا لبرل میڈیا ”خوف” عام نہیں کرتا بلکہ ”خطرے” سے ”خوف” دلانے کے بجائے خود خوف سے خوف کی تخلیق و تشہیر کرتا ہے! ایسے میں لبرل میڈیا نے کیمرہ کی آنکھ کو تفتان بارڈر سے مساجد کی طرف موڑ دیا ہے، افتراق سے بچنے کے لیے ہم زاویہِ فکر کی اس تبدیلی و انحراف پر بات نہیں کرتے تاہم اتنا ضرور عرض ہے کہ زاویہ کے اسی تبدیلی کے نتیجہ میں ایک حقیقی مجرم کو کٹہرے سے فرار کر کے مولوی کو ہمیشہ کی طرح کٹہرے میں لا کھڑا کیا گیا ہے اور آئندہ چار سے پانچ ماہ کے لئے لبرل میڈیا کو مولوی کی آڑ میں تہذیب و اقدارِ اسلامی پر سنگ باری کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا گیا ہے۔ اضطراب کے ان لمحات میں جب میڈیا پر علماء اہلسنت کے متعلق ایک طوفانِ بدتمیزی برپا ہے، علماء ملت نے اپنی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اور شروط و قیودات کے تناظر میں اجتماعی فتویٰ جاری فرمایا ہے۔ اس معتدل فتوی کو بھی اب اگر کوئی نا معقول سمجھتا ہے تو اس کو اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ وقت ہے مساجد کی اعتقادی، تہذیبی، سیاسی، و معاشرتی کلیت کو فعال کرنے کا، اس کے اس مخصوص معاشرتی تفاعل کو عام کرنے کا جس پر لبرل ازم کے جبر نے پہرے بیٹھائے تھے اور اس کے اظہار کا اس سے زیادہ مناسب موقع ہاتھ نہیں آنے والا! لیکن صد افسوس، احبابِ بزم پر کپکپی طاری ہے، وہ نادان گر گئے سجدہ میں جب وقتِ قیام آیا! آج وطنِ عزیز پاکستان میں پوری ریاست (بینک، میڈیا ہاؤز، کورٹس، جمہوری و سرمایہ دارانہ اقلیت کے مراکز وغیرہ) کھلی ہے اور مساجد مقفل ہیں۔ ایک صاحب ایمان کے لئے اپنے اعتقادی پسِ منظر میں یہ پیشِ منظر جس قدر ناقابل فہم ہے، جدید سرمایہ دارانہ ریاست کے لئے اسی قدر قابل فہم ہے۔ ہمارے لئے ناقابل فہم اس لئے ہے کہ ساری زمین ہی خدا کا گھر ہے اور یوں قوت نافذہ کا مرکز مسجد ہے۔ جدید ریاست کے لیے ناقابل فہم اس لیے ہے کہ ”ریاست” و ”مارکیٹ”، ”مسجد” نہیں ”معاشرے” میں ہے، لہٰذا لبرل ازم کی رو سے عبادت معاشرے نہیں فرد کا مسئلہ ہے۔ نیز یہ وبا خدا تعالیٰ کے گھر نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ مراکز (ریاست و مارکیٹ) میں فطرت سے بغاوت کے سبب پھوٹی ہے، لیکن پھر بھی الزام وبا سے متعفن سرمایہ دارانہ ادارتی صف بندی کو نہیں بلکہ مساجد کو ہے کہ بہرحال یہ ادارتی صف بندی لبرل منہج میں لبرل قومی عقائد کی علامت ہے۔ اس لبرل و کلیسائی نظریہ کی تشہیر میں لبرل نہیں مذہبی حلقے کل تک شریکِ انجمن رہے تو آج بھی پیش پیش ہیں۔ اگر پوپ نے اٹلی میں ویٹیکن بند کیا تو ہم نے بھی اغیار سے تشبہ اختیار کرتے ہوئے حرم مکی و مدنی کو مقفل کرنا عین معقول سمجھا، آج بھی تفتان بارڈر سے مریض پاکستان تشریف لا رہے ہیں لیکن مساجد میں صحت مند نمازیوں کے جانے پر پابندی، یہ عین نا معقول اقدام اگر معاشرے کے لئے معقول قرار پایا ہے، تو اس تنزلی کا سبب ہماری ربع صدی سے زائد عرصے پر محیط نظام افرنگ سے مفاہمت اور شرع شریف کی بابت مداہنت ہے!
*کرونا وائرس اور جدید تصور اخلاقیات:*
اس وقت WHO ہم کو ڈکٹیٹ کررہا ہے کہ کیا کرنا ہے اور اس کی ساری ترجیحات ”فرد” کے علاج نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ ریاست کی ترجیحات (Capitalist Priorities) پر قائم ہیں۔ جبھی وہ یہ نہیں بتارہا کہ فرد مرض سے کیسے لڑے بلکہ سارا زور اس پر ہے کہ ریاست مریضوں سے کیسے نبردآزما ہو؟ اب سائنس ریاست کو نہیں بلکہ ریاست سائنس کو بتا رہی ہے کہ مذہب کو کیا حکم دینا ہے۔ ریاستوں کو بھی فرد کی موت کا خوف نہیں بلکہ اتنے ”مجموعہ افراد” کی موت کا خوف ہے جس سے انہدام ریاست نہ ہو جائے۔ جبھی اس وقت پوری دنیا میں مریضوں کے ساتھ جو خلائی مخلوق والا رویہ رکھا جارہا ہے وہ بہت درد ناک و خطرناک ہے، جس کا مشاہدہ ہم پاکستان میں بھی کر رہے ہیں۔ ریاست و سائنس جدید اخلاقیات کی تدوین کر رہے ہیں۔ یورپ میں لوگ اولڈ ہومز میں کام کرنے والے کام چھوڑ کر جا رہے ہیں کہ یہ وبا بوڑھوں کو زیادہ لگتی ہے، اسپین کے اولڈ ہومز میں بیس لوگ اس وبا سے نہیں بلکہ اس کے خوف سے جان کی بازی ہار بیٹھے۔ مشہور پاکستانی صحافی و رپورٹر محترم عابد صاحب نے اس موضوع پر مستقل ڈوکومینٹری تیار کی ہےکہ کس طرح ہمارے مشرقی معاشروں میں بچے اپنے والدین کو چھوڑ کر جا رہے ہیں یا ان سے اظہار نفرت کر رہے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز میں اس بیماری کے حوالے سے مضمون COVID-19 Kills old people only شائع ہوا ہے، جس میں بزرگوں سے پیدا ہونے والی سماجی نفرت کو موضوع تحقیق بنایا گیا ہے۔ اس سب کے نتیجہ میں کرونا مریض سماج سے مجرد ہو کر ریاست و سماج کے مقابلہ میں مستقل فریق (Opponent) کی حیثیت سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ جس کا اظہار نہ صرف عالمی ذرائع ابلاغ پر ہم دیکھ چکے ہیں بلکہ خود سندھ میں quarantine کے اندر ہونے والی نمایاں و منظم بغاوت ہمارے اشرافیت زدہ رویوں (Aristocratic behaviour) پر اعلانیہ دستک ہے کہ جو چپ رہے گی زبان خنجر لہو پکارے گا آستین کا۔۔! ایسے میں کرونا وائرس کے بعد ریاست و سائنس جن جدید اخلاقیات کی اختراع کر رہی ہے، ان کے مقابلہ میں ”مسجد مرکز اخلاقیات” اور ”معاشرت” کی نفی کرنا درحقیقت بِنائے ملّت مِٹا دینے کے مترادف ہوگا!
*معاصر متساہل اہل علم پر افسوس:*
عہد فاروقی میں اٹھائیس ہزار صحابہ و مسلمان طاعون سے شہید ہوئے، انہوں نے ان احادیث سے جب مساجد کو مقفل کرنے کا فہم کشید نہیں کیا تو ہم اس سرمایہ دارانہ ریاستی بدعت کی اختراع کیوں کریں! باقی میڈیا ہاوز، بینک، فائیف اسٹار ہوٹل، ہسپتال سب کھلے ہوں اور خدا تعالیٰ کا گھر ہی مقفل ہو؟! عالمی سرمایہ دارانہ و استعماری قوتوں کی طرف سے مسلط کردہ اس کیمیائی جنگ میں اظہارِ شعارِ اسلامی اسی طرح ناگزیر ہے جس طرح عین میدانِ جہاد میں، جہاں موت ہی کا گمان غالب ہے! لیکن روایت کے پروردہ جدیدیت پر نازاں علماءِ سلاطین، جو لبرل ریاست کے ایک حکم پر خدا تعالیٰ کے گھروں کو تالے لگانے کے لئے تو حاضر باش ہوتے ہیں، تاہم جب سرمایہ دارانہ نظام کے متعلق فتویٰ پوچھا جاتا ہے تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ ایسا بھلا کیوں نہ ہو کہ جدید قومی مغربی ریاست میں فتویٰ نفاذِ شریعت کے لیے نہیں بلکہ تخفیفِ احکام شرع (Reductionism) کے لیے ہوتا ہے اور پھر یہی ”تخفیفِ” شرع شریف لبرل میڈیا میں ”استخفافِ” شرع تک جا پہنچتی ہے۔ اسی تخفیفِ شرع کی رو سے فتویٰ کے نام پر امتِ مسلمہ کے خلاف امریکہ کی عالمی جنگ کا حصہ بنا جاتا ہے، یہاں دیت کے نام پر ریمن ڈیویس آزاد کیا جاتا ہے، یہاں ناموس رسالت و ناموس صحابہ کے سپاہیوں کو فتویٰ قصاص کے نام پر سولی چڑھایا جاتا ہے اور فتوی کے نام پر مساجد کو تالے لگوائے جاتے ہیں! کورنا وائرس کا اصل سبب پیپر کرنسی، کرنسی مشین، اور اے ٹی ایم مشین ہیں لیکن بینک کو تالے لگانے پر بھی ان ارباب تجدد نے کوئی فتویٰ دیا ہے؟ یہ ہوتا ہے مچھر کھنگالنا اور اونٹ نکل جانا!! یہ وہ ہی لوگ ہیں جو مغربیت (جمہوریت بمقابلہ خلافت، بینکنگ بمقابلہ حلال معاش) کو ترک کرنے کے لئے تو متبادل کا سوال کرتے ہیں لیکن جب خود احکامات اسلامیہ پر عمل مشکل ہورہا ہو تو اس کی بابت احکامات شرع پر عمل کے متبادل کے بارے میں سوال نہیں کرتے، فتدبر! ان کو کرونا وائرس کی بابت تو متبادل تدابیر سوجھتی ہیں لیکن ان سے کوئی سوال کرے کہ زندہ کرونا پیشنٹ کا علاج ڈاکٹر قریب جاکر کرسکتا ہے تو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے قریب جاکر کرونا میت کو غسل کیوں نہیں دے سکتا؟! سارے متبادل مادہ پرستی کو نبھانے کیلئے ہیں، دین پر عمل کرنے کے کبھی متبادل کی آس نہیں ستاتی؟ بہر حال جس کو مسجد کے مصلے سے خوف آتا ہو وہ اپنا مصلیٰ لے جائے اور جس کو مصافحہ سے خوف آتا ہو وہ بعد میں ہاتھ دھولے، یہ ہے آسان سا متبادل۔ نمازِ فجر کے متعلق ایک ساتھی فرما رہے تھے کہ ڈیفنس کے جس گھر میں بیس لوگ رہتے ہوں اس کو دس لوگوں کی جماعت سے روکا جارہا ہے، احقر نے عرض کیا ابھی صبر فرمائیں ان ہی دانش کدوں سے اور سوالات پوچھے جانے ہیں نماز جنازہ کے بغیر تدفین، کفن کے بغیر پلاسٹک میں تدفین، یہاں تک کہ کرونا وائرس کی لاش کو نذر آتش کرنے کا مسئلہ، اللہ رحم فرمائے!
*مسجد مرکز تہذیب و معاشرت اور محل شفا:*
یہ مسلمہ ہر صاحبِ ایمان پر واضح ہے کہ کافرانہ اخلاقیات اور مومنانہ اخلاقیات میں کسی مرض کو سمجھنے، برتنے اور پرکھنے کے پیمانے مختلف ہیں۔ مثلاً، ایک کافر کے نزدیک بیماری موت سے مشروط، علامت موت ہے۔ جبکہ ایک صاحبِ ایمان کے نزدیک مرض بھی خدا تعالیٰ کی مستقل مخلوق اور موت ایک دوسری مستقل مخلوق اور دونوں اپنے خالق (یعنی امر خداوندی) کے تابع ہیں۔ ایک صاحبِ ایمان موت کو حادثہ نہیں امرِ ربی سمجھتا ہے اور ایک کافر موت کو مرض سمجھنے کے سبب جینیٹک انجینئرنگ (Genetic Engineering) کے لیے متحرک، مردہ کو زندہ کرنے کا متمنی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ فکر و نظر کا یہ زاویہ مرض و موت کو برتنے کے متلعق دو متضاد رویوں کو تشکیل دیتا ہے۔ اسلام اسباب و اختیار سے صرفِ نظر نہیں کرتا بلکہ اسباب و اختیار ہی کی آزمائش پر فرد کو پرکھتا ہے، یوں کہ یہ فرد اسباب کی مادہ پرستی میں مبتلاء ہوتا ہے یا اسباب و اختیار کو دنیا کے محدود وقت میں امانت سمجھتے ہوئے مادہ پرستی کے بجائے خدا پرستی کا اظہار کرتا ہے۔ اسی خدا پرستی کی اجتماعی علامت، معاشرتِ اسلامی میں مساجد ہیں۔ اس علامت کی مرکزیت یہ ہے کہ مسلم معاشرے Mosque-Centric ”مسجد مرکز” قرار پائے ہیں! ہر نظام، ریاست، و معاشرت اپنے عقیدہ کے لئے قربانی دیتا ہے، مثلاً مغربی عقیدہ “ترقی” (Development) ہے۔ اس عقیدہ سے جو ہوائی آلودگی پھیلتی ہے اس سے خود امریکہ میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ اور پوری دنیا میں ساٹھ لاکھ لوگ مرتے ہیں۔ تاہم مغرب اپنے اس عقیدہِ ترقی سے باز نہیں آتا بلکہ اسے مثالی تصور کرتا ہے۔ اسی طرح مساجد ملت اسلامیہ کا عقیدہ و شعار ہیں، جس پر شہادت تو دی جاسکتی ہے مفاہمت نہیں کی جاسکتی کیونکہ معاشرتِ اسلامی میں حیات اجتماعی و بقاء ملت و بِنائے ملّت اسی پر قائم ہے! نیز ان حالات میں جب کرونا کے تناظر میں ریاست و سائنس جدید اخلاقیات کی تدوین کر رہے ہیں، ایسے میں ملت اسلامیہ کا اعتقادی و اخلاقی بیانیہ مساجد کی معاشرتی ساخت و معنویت سے مملو ہے۔
*مساجد کی فعالیت اور کرونا وائرس کا سماجی علاج کیوں اور کیسے۔۔؟*
مسجد کی اعتقادی و معاشرتی ساخت ہی ذریعہ نجات ہے! وہ قوم جو استنجاء کرنا نہیں جانتی یا ٹشو پیپر کو استعمال کر کے احسانِ عظیم کرتی ہے، ان ہی مساجد نے انہیں دن میں پانچ بار وضو کرانا تھا! ان ہی مساجد نے انسانیت کو طبقاتی فساد و کشمکش سے بچانا تھا جو کرونا وائرس کے دنوں میں شدت سے جنم لے رہی ہے کیونکہ امیر و غریب نہیں یہاں خدا کا گھر مورد اشتراک ہے! ان ہی مساجد میں اس غریب طبقہ کے لئے دسترخوان لگنا تھا جس کی دیہاڑی چھین لی گئی ہے! ان ہی مساجد نے کرونا وائرس شاپنگ فیشن کے اس صارفانہ رویہ (Consumer behaviour) پر روک لگانی تھی جہاں ایک امیر سارا مال اپنے قبضے میں لے کر چلتا بنتا ہے۔ ان ہی مساجد میں روحانی و جہادی ورزش کے ذریعہ تندرست عوام میں اس وبا سے لڑنے کے لئے وہ جسمانی و ایمانی قوت کو پیدا کرنا تھی جو آج میڈیا کے سامنے بیٹھ کر ڈیپریشن کے مریض بن رہے ہیں! ان ہی مساجد میں صحت مند افراد کو اجتماعی اعتکاف میں قیودات کے ساتھ بیٹھانا تھا (حکومت نے شمالی علاقوں میں کچھ مساجد میں اہتمام بھی کیا ہے)! ان ہی مساجد سے اعلان ہونا تھا کہ کرونا مریض ریاست مخالف اچھوت نہیں عام انسان ہے جس کی تیمار داری وارڈ بوائے سے پہلے بیٹے کا فرض ہے! ان ہی مساجد سے ہمیشہ کی طرح مشکل کی گھڑی میں خواہ زلزلہ ہو یا طوفان خدمت خلق کے کام کیے ہیں، لیکن آج جب مساجد ہی کے دروازے حکومت نے بند کر دئیے ہیں تو کس منہ سے حکومت وقت مذہبی حلقوں کے کارکنان کو آواز دے رہی ہے؟ ان ہی مساجد نے تو ایک طرف نماز باجماعت کے طرزِ کُہن پر ڈٹ کر اور دوسری طرف شرع شریف کی بیان کردہ احتیاط میں توازن پیدا کر کے بتانا تھا کہ سنت کی رو سے احتیاط کا معتدل تصور کیا ہے، میڈیکل کونشیسنس (Medical consciousness) کے مارے نفسیاتی لوگوں کو بتانا تھا کہ غلو و احتیاط اور تشکیک و یقین میں کیا فرق ہے۔ ان ہی مساجد نے مسلم سماج میں اپنے اجتماعی تعاشر و اشتراک کے ذریعہ وہ جسمانی قوت مدافعت بھی پیدا کرنی تھی جو صفائی سے نہیں اشتراک سے پیدا ہوتی ہے جس کو Herd Immunity کے نام سے جانا جاتا ہے اور جو مغربی اقوام میں نا ہونے کے برابر ہے جس کے سبب کرونا سے کثرتِ اموات واقع ہورہی ہیں اور اموات کا خاص شکار بھی پھر وہ ممالک زیادہ ہیں جو over-medicated societies قرار پائے ہیں یعنی وہ معاشرے جہاں میڈیکل و صفائی کے معاملہ میں غلو پایا جاتا ہے۔ اس سب سے بڑھ کر ان ہی مساجد نے تو یہ بتانا تھا کہ کرونا وائرس موت نہیں مرض ہے اور مرض حامل شفاء تو موت حقیقت ہے۔ آج یہ موت تمہارے لئے حقیقت نہیں اور کرونا تمہارے لئے مرض نہیں بلکہ موت اور موت تمہارے لیے ”ہیبت ناک حادثہ” اس لئے قرار پایا ہے کہ تم نے اپنے رب کے پیغام سے کفران کیا ہے! تم کو خدا تعالیٰ نے اختیار و اسباب کی قدرت و امتحان میں ڈالا اور تم ان اسباب کی پرستش میں خالق اسباب سے ایسے غافل ہوئے کہ خود اسباب پر غلبہ کو اپنی زندگی کا سائنسی مطمع نظر قرار دیا۔ ایسے میں خالق اسباب نے ان ہی اسباب و قدرت کو منجمد کرتے ہوئے اپنا ”موثر حقیقی” ہونا تم پر ظاہر کیا جس کے بعد تمہاری ریاستیں، سرمایہ داری، گلوبلائیزیشن، عالمی ادارے، میڈیکل سائنس، قومی افواج، ڈاکٹر، دانشور سب ہی کے سب ”عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی” کا مظہر اتم ہیں! محو تماشائے لب بام بھی کس مخلوق کے ہاتھ کون؟ وہ جو عصر جدید کے ابرہی ٹیکنولوجی کے ہاتھیوں پر سوار تھے لیکن خدا تعالیٰ کی ابابیلوں کے منکر تھے، آج نزلہ و زکام جیسی معمولی بیماری ان کے لیے کرونا بن کر تاریخ و مذہب کے تناظر میں ابابیلی علامت قرار پائی ہے، صالحین کے لیے آزمائش تو فساق کے لئے فقط عذاب!!
*عقیدہ کی جنگ اور سوشل ڈسٹنسینگ (Social Distancing) کا مفروضہ:*
یہاں پھر بعض قلتِ فہم کے حاملین احباب یہ سوال کرتے ہیں کہ مسجد کے اجتماع میں مرض پھیلنے کا خطرہ ہے؟ تو اس کا تفصیلی جواب تو مذکورہ بالا سطور میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک کافر و مؤمن مرض کو اپنے اپنے اعتقادی منہج میں برتا ہے، ہمارے نزدیک مسجد مرکز تہذیب و معاشرت اور محل شفا ہے! اس سے دوری کے کیا معنی؟! عدالت، بینک نو گھنٹے کھلیں اور میڈیا ہاؤز، منڈی، پورٹ، ہسپتال، آئل ریفائنری چوبیس گھنٹے اور مسجد کے پورے دن ڈھائی گھنٹے (ایک نماز / آدھا گھنٹہ) کے لیے کھلے تو تکلیف ہو، شعار اسلامی سے یہ نفور کیوں؟! دراصل لبرل ازم ہمیشہ دینی طبقہ سے دوسرا سوال پوچھتا ہے۔ مثلاً، غیرت کے نام پر قتل کا سوال تو پوچھا جاتا ہے اور فحاشی پھیلانے کے متعلق یکسر خاموشی اختیار کی جاتی ہے! اس لیے اصل اور پہلا سوال یہ ہے کہ ریاست پاکستان جو کلمہ گو ہونے کی داعی ہے وہاں دین اسلام کی جوہری علامت ”مسجد” کو قومی ریاستی اداروں کی طرح ریاست اپنے وجود و حیات کے لیے ناگزیر سمجھتی ہے یا اس کے نزدیک فرد کا مسجد و پارک جانا انفرادی فعل ہے، جس پر ریاست کی اجارہ داری ہے؟! اگر تو ریاست اس کو کلمہ گو ہونے کے دعویٰ کی دلیل میں مسجد کو ”مرکزی” تصور کرتی ہے تو پھر باقی اداروں کو کھول کر مسجد کو مقفل کرنا یہ منافقانہ تضاد ہے اور اگر ریاست اس حقیقت کا اظہار کرتی ہے کہ میں ایک قومی ریاست ہونے کے سبب ”بینک”، ”ہسپتال” (جہاں پہلے و دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کرونا وائرس پھیل رہا ہے)، میڈیا ، ”عدالت” اور دوسرے قومی اداروں کو کھلا رکھوں گی کہ میرے عقیدہ کی رو سے، میری ریاستی حیات و ساخت کی نمو کیلئے ان اداروں کا وجود ناگزیر ہے چاہے اس چکر میں کتنے ہی لوگ مر جائیں! تو پھر ہم بھی ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسجد ہمارا عقیدہ، اجتماعی مرکز اور ظاہر و باطن کا محل شفا ہے جس کے لیے ہم احتیاط پر ”بطریقِ سنت” عامل ہوتے ہوئے قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں، آپ کو آپ کے عقیدہ کی قربانی مبارک ہمیں ہمارے عقیدہ کی، لکم دینکم ولی دین!! آج چیف جسٹس کی طرف سے ”عدالت” کے کھلے رہنے کی یہ توجیہ پیش کی گئی ہے کہ یہ قانونی کچہریاں عدل و انصاف کا مرکز ہیں یہ نہ ہوں تو معاشرے عدل و اخلاقیات سے خالی ہو جائیں، ایسے میں عدل و اخلاقیات کے لیے ہر قربانی دی جاسکتی ہے! تو مؤدبانہ عرض ہے کہ معاشرتِ اسلامی میں عدالت کا محل برٹش کورٹس نہیں مساجد ہیں۔ ہمیں محترم چیف صاحب سے اتفاق ہے کہ اخلاقی صحت، جسمانی صحت سے ناگزیر ہے اور مسلمان تو جیتا ہی عقیدہ اور اس سے برآمد ہونے والی اخلاقیات کے تحفظ کے لیے ہے۔ ایسے میں ایک لبرل کے لیے صبح نو سے شام چھ بجے تک کورٹس کا کھلے رہنا معقول فیصلہ ہے تو دس منٹ کی نماز باجماعت بھلا کیونکر ناقابل فہم ہے بلخصوص جبکہ احتیاطی تدابیر کو مسجد کے منہج میں جس احسن طریقے سے برتا جاسکتا ہے ”کچہری کلچر” اس کا متحمل ہی نہیں؟! نیز آج اور کل میں کتنے لوگوں کو میڈیا ہاوز و بینک ملازمین کو کرونا وائرس ہوا، جواباً ریاست نے اپنے ان اعتقادی ستون (میڈیا، بینک وغیرہ) پر پابندی نہیں لگائی بلکہ ابھی وزیر اطلاعات صاحبہ نے اعلان کیا ہے کہ ہم کیمرہ مین کو ”کرونا کٹس” دیں گے! کیا جدید ریاست میں کمیرہ مین کا پیشہ، منصب امامت سے بڑھ کر ہے؟ اصل مسئلہ پھر عقیدہ ہی کا ہے!! Social distancing سے ریاست کے اجتماعی نظام اور اعتقادی ستونوں کو استثنیٰ دینا اور ریاستی قانون کی رو سے انفرادی دائرہ کار کو انفرادی قرار دینے کے باوجود، social distancing کے قائم ہوتے ہوئے بھی social distancing کے نام پر جبراً بند کرنا اور علماء ربانین کو پابند سلاسل کرنا، اپنے مذہبی لبادہ کے ”تاثر” کو لادینیت کی اصل برہنگی سے چاک کرنا ہے! Social distancing کی فقہی رخصت سے بطور تدبیر اختلاف نہیں لیکن اس تدبیر کو اعتقادی تقدیر بنا لینا کہ جہاں تھوڑا سا تساہل ہوا بندہ مارا جائے گا، محض ڈھکوسلا ہے۔ یورپ جس کی ساری معاشرتی ساخت ہی انفرادیت پسندی کا شکار ہونے کے سبب social distancing پر قائم ہے پھر بھی وہاں کثرت اموات کا واقع ہونا، اس احتیاطی تدبیر کو تقدیر سمجھنے والوں کے لیے بڑا سوالیہ نشان ہے!
*خلاصہ کلام:*
مختصر یہ کہ مسلمان جینے کے لیے نہیں جیتا بلکہ عقیدہ پر مرنے کے لیے جیتا ہے۔ مسجد ہمارے عقیدہ و معاشرت کا مسئلہ ہے۔ اس کو آباد کرنے کے لئے مختلف احتیاطی تدابیر کو تو برتا جاسکتا ہے۔ لیکن اس اجتماعی علامت کو مقفل کرنا یا اس کے معاشرتی و اقداری کردار پر لبرل خط تنیسخ کھینچنا، یقیناً عقیدہ کی باب میں معرکہ آرائی کا عنوان ہے اور رہے گا۔ مساجد مراکز ذکر ہی نہیں اور ہماری دینی و معاشرتی زندگی کا حاصل یعنی ”مساکن” ہیں جن سے ہماری ”بقاء ملت” مشروط ہے! تہذیب و معاشرتِ اسلامی میں ان ”مساکن” کی اساسی و مبادیاتی اہمیت اُنھیں ہی سمجھ آئے گی جن کے عقیدہ کا یہ حصہ ہو۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ تعالی اسلاف امت کا منہج ملت بیان فرماتے ہیں:
((خمس كان عليها أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لزوم الجماعة واتباع السنة وعمارة المسجد وتلاوة القرآن والجهاد في سبيل الله۔))
”اصحاب رسول پانچ (اصولوں پر رضائے الٰہی و غلبہ اسلام کے لیے) قائم تھے؛ لزوم جماعت، اتباعِ سنت، مساجد کو اپنے مساکن بنانا، تلاوت قرآن مجید اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا!”
(شرح اعتقاد أهل السنة للالكائي، مطبوعہ دار الحدیث قاہرہ: 49/1)
پس اصل مسئلہ کرونا یا سوشل ڈسٹینسنگ کا نہیں مسجد کے تہذیبی و معاشرتی تفاعل کی نفی کا ہے ورنہ خود WHO ”اصل خطرہ” کے بارے میں اعلان کرے کہ کرنسی و کرنسی مشین اور کرنسی مراکز اس وائرس کا اصل سبب ہیں۔ لیکن حکومت و نظام ”خوف” مساجد کی بابت پھیلائے اور ”خطرہ” کی بابت خوف نہیں بلکہ حکومتی سرپرستی قائم ہو، تو یہ واضح منافقانہ تضاد ہے۔ اس لیے ”خوف” سے ڈرانے کی ضرورت نہیں ”خطرہ” سے خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور یہ جب ہی ممکن ہے جبکہ وہ خطرہ خوف متصور ہو نہ کے عقیدہ، فتدبر!
دل کی آزادی شہنشاہی، شِکَم سامانِ موت
فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے، دل یا شکم!
اے مسلماں! اپنے دل سے پُوچھ، مُلّا سے نہ پوچھ
ہوگیا اللہ کے بندوں سے کیوں خالی حرم
✍ *مولانا ابو الہند عبید الرحمن شاہجہاپوری*









