“لاک ڈاؤن”، نفیسہ عمر اور دنیا

(صدائے حبیب)
کالم نگار: انجینئر حبیب الرحمٰن حاصلہ

گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کی خوبصورت ترین جگہ مسلسل ظلمات کا شکار ہے، ہر گزرتے نئے دن کے ساتھ مظالم میں اضافہ ہورہا ہے
حتیٰ کے پچھلے چند ماہ سے وہاں مکمل کرفیو ہے،
وہاں کے باشندے کیسے زندگی گزار رہے ہیں اسکا ادراک صرف انہی ظلم کے باسی مظلوموں کو ہی ہوسکتا تھا
اس خوبصورت جگہ کا نام وادی کشمیر ہے جسے دنیا کی جنت کہا جاتا ہے
لیکن کچھ درندہ نما انسانوں نے اس جنت کو جہنم بنایا ہوا ہے
وہاں رہائش پذیر انسانوں کا جینا محال ہے زندگی اجیرن ہے نظام زندگی بالکل مفلوج ہے
ظلم کی انتہا ہے
اور پچھلے چند ماہ سے ہرچیز بند ہے یعنی مکمل “لاک ڈاؤن” ہے
کچھ عرصہ پہلے جب بھی کہیں پر لاک ڈاؤن کا لفظ سننے یا دیکھنے کو ملتا تھا تو دنیا کے کسی بھی کونے میں بسنے والے کسی بھی انسان کا ذہن فوراً کشمیر کی طرف چلا جاتا تھا کہ وہیں لاک ڈاؤن ہوگا

اسی لاک ڈاؤن کی صورتحال میں یورپی یونین کے نمائندے اس وادی کا دورہ کرتے ہیں اسی دورے کے دوران کشمیر کی ایک گلی میں دہلی کے ایک سینئرصحافی کو کھڑکی کے اندر سے ایک مظلوم لڑکی نفیسہ عمر مخاطب کرتی ہے اور کہتی ہے،

“کسی جگہ پر چار پانچ ماہ سے کرفیو ہو، گھر سے نکلنا تو دور، جھانکنا بھی مشکل ہو، چپے چپے پر آٹھ نو لاکھ آرمی تعینات ہو، انٹرنیٹ بند، موبائل بند ہوں، لینڈ لائن فون بند ہو، گھروں سے ہزاروں بے قصوروں کی گرفتاریاں ہوئی ہوں، ساری لیڈر شپ جیل میں ہو، اسکول، کالج، دفتر سب بند ہوں! کیسے زندہ رہیں گے لوگ؟

ان کے کھانے پینے کا کیا ہو گا؟ بیماروں کا کیا ہو گا؟ کوئی ہمارے لیے سوچنے والا بھی نہ ہو، آدھی سے زیادہ آبادی ڈپریشن اور ذہنی بیماریوں کی شکار ہوچکی ہو، بچے خوفزدہ ہوں، مستقبل اندھیرے میں ہو، ظلم و ستم کی انتہا ہو، اور روشنی کی کوئی کرن بھی نہ دکھائی دیتی ہو،

کوئی سدھ لینے والا نہ ہو اور ساری دنیا خاموش تماشا دیکھ رہی ہو”
نفیسہ عمر روتے ہوئے بولتی رہی
“ہم نے سب سہہ لیا، اور سہہ بھی رہے ہیں، لیکن اُس وقت دل روتا ہے، تڑپتا ہے جب یہ سنائی پڑتا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ اچھا ہوا، یہی ہونا چاہیے تھا!”

“میں نے ان لوگوں کے لیے یا کسی کے لیے بھی کبھی بدعا نہیں کی، کسی کا برا نہیں چاہا بس ایک “دعا” کی ہے تاکہ سبھی لوگوں کو اور ساری دنیا کو ہمارا کچھ تو احساس ہو جائے!”

“بھائی آپ دیکھنا میری دعا بہت جلد قبول ہو گی!”

“اے اللہ جو ہم پر گزر رہی ہے کسی پر نہ گزرے بس مولا تو کچھ ایسا کردینا، اتنا کردینا کہ پوری دنیا کچھ دنوں کے لیے اپنے گھروں میں قید ہونے پر مجبور ہوجائے، سب کچھ بند ہوجائے، رک جائے! شاید دنیا کو یہ احساس ہو سکے کہ ہم کیسے جی رہے ہیں!”

کہا جاتا ہے کہ ظلم کر مگر مظلوم کی آہ سے ڈر

کیونکہ ایک عظیم ترین ذات ایسی ہے جو منصف ترین ذات ہے وہ مظلوموں کی آہ بہت جلد سنتی ہے
آج اس وقت پوری دنیا بند ہے ،ہم سب گھروں میں قید ہیں،سب کچھ بند ہے،
دنیا کے تمام ممالک میں مکمل لاک ڈاؤن ہے
وہی “لاک ڈاؤن” جو چند دن پہلے صرف کشمیر کی طرف سے دیکھنے کو ملتا تھا اب پوری دنیا سے دیکھنے کو مل رہا
ایسا لگ رہا ہے کہ اس نفیسہ عمر جیسے ہزاروں مظلوموں کے آہیں سنی جا چکی ہیں
پوری دنیا جو لفظ لاک ڈاؤن سن کر ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی تھی
اب تو دنیا کو ادراک ہوگیا ہوگا کہ “لاک ڈاؤن”کیا ہوتا ہے
کیسے اپنے ہی گھر قید خانے لگتے ہیں۔

میری اس آزاد دنیا کے باسیو! ابھی بھی وقت ہے کشمیر سے لاک ڈاؤن ختم کروا دیجئے
وہاں کے رہنے والوں کو جینے کا حق دیجئے

میرا یقین ہے اللّٰہ رب العزت فوراً اس مہلک ترین وبا کو ختم کردے گا اور ہمارا یہ لاک ڈاؤن ختم ہوجائے گا

اگر اب بھی ہم نے نا سمجھا تو پھر انتظار کیجئے
اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے وہ مظلوم کی دادرسی ضرور کرتا ہے

اللّٰہ سے دعا ہے کہ وہ ظالموں کو ہدایت دے
اور ہم سب انسانوں کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔

آمین ثم آمین