کرونا کے مضمر اثرات اور ہماری ذمہ داریاں۔۔۔۔

{صدائے منہاس}

کالم نگار معروف کالم نگار غلام شبیر منہاس

*کورونا اور اس کے اثرات*

یہ 2 رمضان المبارک کی شام کا وقت تھا۔ ابھی افطاری میں کچھ وقت باقی تھا جب سیالکوٹ کے تھانہ حاجی پورہ کے علاقہ کچا شہاب میں محمد احمد عرف ننھا اپنے گھر میں داخل ھوا۔ یہ شخص بے روزگار تھا اور دیہاڑی پہ جاتا تھا مگر موجودہ حالات کی وجہ سے پچھلے ایک ماہ سے اسے کوئی کام نہ مل سکا تھا۔ جس کی وجہ سے وہ پریشان بھی تھا اور گھر کا نظام بھی متاثر تھا۔ اس شام جب یہ گھر میں داخل ھوا تو اس کی اپنی بیوی سے کسی بات پہ لے دے ہوگئی۔ یہ کمرے میں گیا، پستول نکالا اور اپنے بچوں پہ فائر کھول دیا۔ اس سنگدل انسان نے لمحہ بھر میں 9 سالہ بیٹے اذان، 10 سالہ بیٹی عرشیہ اور 12 سالہ بیٹی رومانیہ کو خون میں لت پت کردیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق دونوں بیٹیاں لقمۂ اجل بن چکی ہیں جبکہ بیٹا اذان موت و حیات کی کشمکش میں اسپتال میں پڑا ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ ہے۔ مگر یہ واحد رونما ہونے والا سانحہ نہیں ہے بلکہ بدقسمتی سے آج کل ہم جس صورتِ حال سے دوچار ہیں اس میں اس طرح کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
دو دن پہلے پشاور میں صحن میں کھیلتی بچی کو سگے چچا نے یہ کہہ کر فائر مار دیا کہ یہ شور کیوں کررہی ہے؟ کل مظفرگڑھ کے علاقہ میں ایک مزدور نے بچیوں کو پانی سے روزہ افطار کرتے دیکھ کر خودکشی کرلی۔ حالات جس طرف جا رہے ہیں ان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات میں اضافہ ہوگا۔۔ تاہم یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا انسان کو اس طرح کے حالات کا پہلی بار سامنا کرنا پڑا ہے یا ماضی میں بھی قوموں پہ اس طرح کی آزمائشیں آئی ہیں۔۔۔ اور اگر آئی ہیں تو اس وقت کے لوگ کس طرح اس سے نبرد آزما ہوئے؟ آئیں اس کی ایک مثال ملاحظہ کرتے ہیں۔ شاید اس میں ہمارے لیے کوئی سبق پوشیدہ ہو۔
دوسری جنگ عظیم جو کہ 6 سال اور 1 دن جاری رہی۔ اس میں دنیا بھر کے 10 کروڑ لوگ شریک ہوئے تھے۔ 72 ماہ جاری رہنے والی اس طویل ترین جنگ میں دنیا بھر سے ساڑھے آٹھ کروڑ لوگ لقمہ اجل بنے۔ جبکہ اس جنگ نے بھی موجودہ حالات کی طرح دنیا کا نظام درہم برہم کردیا تھا۔ دنیا بھر کا نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔ ایک نسل ایسی بھی پروان چڑھی کہ جس نے اسکول کا منہ تک نہ دیکھا۔ خوراک کی ترسیل رک گئی۔ فصلیں پیدا نہ کی جاسکیں۔ درختوں سے پھل تک نہ اتارے جاسکے۔ جانوروں کو لوگ کاٹ کاٹ کر کھا گئے اور جو بچ گئے ان کا دودھ تک خشک ہوگیا۔ اگر کہیں تھوڑی بہت خوراک پیدا ہوتی بھی تو وہ فوج کے کام آجاتی۔
چنانچہ دنیا میں جن دو وجوہات کی وجہ سے ساڑھے چار کروڑ اموات واقع ہوئیں ان میں پہلی بھوک تھی۔ جبکہ دوسری بیماری۔ دنیا بھر کے اسپتال بند پڑے تھے۔ میڈیسن بنانے والی کمپنیاں صرف لڑاکا سپاہ کے لیے ادویات بنا رہی تھیں۔ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف محاذِ جنگ پہ تعینات تھے۔ لھٰذا بھوک کے بعد اموات کی دوسری بڑی وجہ بیماری تھی۔ یا تو مریض خود بخود ٹھیک ہوجاتا تھا اور یا مر جاتا تھا۔ تیسرا کوئی راستہ نہ تھا۔
چھ سالہ اس جنگ عظیم دوئم کے بعد کے 25 سال بھی انتہائی کٹھن تھے۔ انڈسٹری تباہ ہوچکی تھی۔ لوگوں کو ملازمتیں نہیں مل رہی تھیں۔ پورا پورا دن فٹ پاتھ پہ بیٹھ کے لوگ خالی ہاتھ واپس آجاتے تھے اور انھیں کھانے کے بدلے بھی کام نہیں ملتا تھا۔ مگر ان کٹھن حالات کے باوجود بھی دنیا کے کروڑوں لوگ بچ گئے اور انھوں نے ازسرِنو اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ آج ہمارا موضوعِ بحث دراصل یہی لوگ ہیں جو ان حالات میں بھی نہ صرف زندہ رہے بلکہ آنے والوں کے لیے ایک مثال بھی چھوڑ گئے۔
ان بچ جانے والے انسانوں پہ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں نے تحقیق کی، تو تین باتیں سامنے آئیں:
1۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم نے ہرحال میں زندہ رہنا کے۔ حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ہم نے ہار نہیں ماننی۔
2۔ ہم نے ان حالات کو دیکھا، تو سمجھ لیا کہ یہ صورتحال زیادہ دیر تک رہے گی۔ چنانچہ ہم نے ہر چیز میں کفایت شعاری شروع کردی۔ ہم 15 سے 20 دنوں میں ایک بار غسل کرتے تھے۔ ہم 24 گھنٹوں میں ایک بار کھانا کھاتے تھے۔ ہم نے ان 6 سالوں میں ایک بار بھی نیا کپڑا یا جوتا نہیں خریدا تھا۔ ہم نے تھوڑا بہت میڈیکل سائنس کو پڑھنا شروع کیا اور گھر میں ہی علاج کرنا شروع کردیا۔
3۔ ہم نے اپنی رقم بچا کر رکھنا شروع کردی اور ایک دوسرے سے ہنر بھی سیکھنا شروع کردیا۔ جونہی جنگ رکی ھم نے وہ بچائے ہوئے پیسے سے مارکیٹ میں دکان لی اور سیکھا ہوا ہنر لے کر بیٹھ گئے۔ چنانچہ ہم لوگ بہت جلد ایک نارمل زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے۔
اگر بنظرِ غائر ان تین جزئیات کو دیکھا جائے تو، یہ ھمارے موجودہ اور آنے والے وقت کے لیے بہت کارآمد ہو سکتی ہیں۔ ابھی تک حالات اتنے خراب نہیں ہیں کہ کم اپنی اولادوں کو مارنا شروع کردیں۔ ہمیں ہمت سے کام لینا ہے۔ کیونکہ لگ یہ رہا ہے کہ حالات ابھی مزید خرابی کی طرف جائیں گے۔ ہم نے ان خراب ترین حالات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس چونکہ کورونا کی ٹیسٹیگ کٹس محدود ہیں اس لیے ہمیں صحیح طور پہ اندازہ ہی نہیں ہو پارہا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت چین میں سو آدمیوں کے ٹیسٹ کرنے پہ ایک آدمی میں یہ وائرس پایا جاتا ہے ۔ امریکہ میں 50 کے بعد ایک میں۔ اٹلی اسپین اور فرانس میں 40 کے بعد ایک آدمی اس کا شکار نکلتا ہے جبکہ پاکستان میں 12 آدمیوں کے بعد ایک کیس نکل رہا ہے ۔۔۔ اور یہ تعداد بہت زیادہ ہے۔ لھٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم سب ایک متحد اور زندہ قوم کی طرح اس کا مقابلہ کریں۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جاری ہے۔ تمام تر احتیاطی تدابیر کو بروئے کار لاتے ہوئے خصوصی عبادات میں مشغول ہوکر اللہ تعالی سے معافی طلب کریں اور ساتھ اڑوس پڑوس میں ان مستحق لوگوں کا ضرور خیال رکھیں جن کے بچے بھوکے سو جاتے ہیں۔ یاد رکھیں! بچوں کی بھوک کسی سے نہیں دیکھی جاتی۔ کوشش کریں کہ آپ کے گلی محلے میں رہنے والا کوئی ایسا انتہائی اقدام اٹھانے پہ مجبور نہ ہو۔ اس کی خبرگیری رکھیں اور ساتھ ساتھ اس وباء کے بعد آنے والے حالات کو بھی مدِنظر رکھتے ہوئے ابھی سے اس کی بھی پلاننگ ضرور کریں۔
تاریخ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جو اس طرح کے حالات میں بھی اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہیں اور اُمیدوں کو ٹوٹنے نہیں دیتیں۔
۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔

والسلام دعاوں کا طلبگار
حاجی غلام شبیر منہاس