ماہِ رمضان المبارک کی فضیلت و خصوصیت
{ طلوع سحر }
معروف کالم نگار حافظ محمد اقبال سحرؔ
ماہِ رمضان المبارک کے روزے ہجرت کے بعد سنہ ۲ ہجری میں فرض ہوئے۔ جس طرح نماز اور زکوٰۃ پہلی اُمتوں پر فرض تھی، اسی طرح روزے بھی اُن اُمتوں پر فرض تھے۔ یعنی اُمت محمدیہ کے لیے روزے کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ پہلی اُمم کا تسلسل ہے۔
چنانچہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
”اے ایمان والو! فرض کیے گئے تم پر روزے جیسا کہ فرض کیے گئے ان لوگوں پر جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“ (سورۃ البقرۃ:۳۸۱)
حدیث میں ہے کہ صحف ابراہیمی، توریت اور انجیل سب کا نزول رمضان ہی میں ہوااور قرآن شریف بھی رمضان کی چوبیسویں رات میں لوحِ محفوظ سے اوّل آسمان پر سب ایک ساتھ بھیجا گیا۔ پھر تھوڑا تھوڑا کرکے مناسب احوال آپ پر نازل ہوتا رہا اور ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام قرآن نازل شدہ آپ کو مکرر سنا جاتے تھے۔ ان سب حالات سے مہینے رمضان کی فضیلت اور قرآن مجید کے ساتھ اس کی مناسبت اور اس کی خصوصیت خوب ظاہر ہوگئی۔ اس لیے اس مہینے میں تراویح مقرر ہوئی۔(تفسیر عثمانی)
روزے کی فرضیت کا حکم مسلمانوں کو ایک خاص مثال سے دیا گیا ہے۔ حکم کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کہ یہ روزے کی فرضیت کچھ تمھارے ساتھ خاص نہیں پچھلی امتوں پر روزے فرض کیے گئے تھے۔ اس سے روزے کی خاص اہمیت بھی معلوم ہوئی اور مسلمانوں کی دلجوئی کا بھی انتظام کیا گیا کہ روزہ اگرچہ مشقت کی چیز ہے مگر یہ مشقت تم سے پہلے بھی سب لوگ اُٹھاتے آئے ہیں۔ طبعی بات ہے کہ مشقت میں بہت سے لوگ مبتلا ہوں، تو وہ ہلکی معلوم ہونے لگتی ہے۔ (روح المعانی)
ماہِ رمضان مسلمانوں کے لیے ایک بہترین نعمت ہے۔ مسلمان اس ماہ کے دوران روزے رکھ کر راتوں کو قیام کرکے تلاوتِ قرآن کریم اور تسبیح کرکے روحانی قوت حاصل کرتے ہیں۔ ماہِ رمضان تربیت کا مہینہ ہے۔ روزے کی عبادت امت کی بہتری کے لیے مقرر فرمائی ہے تاکہ مسلمانوں میں مزید قوت پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت آسانی کے ساتھ انجام دے سکیں۔ اسی چیز کو قرآن کریم نے ”لعلکم تتقون“ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
حضرت مولانا شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ قرآن میں ”تتقون“کی تشریح میں لکھا ہے:
”روزے سے مقصود یہ ہے کہ نفس کو اس کی مرغوبات سے رُکنے کی عادت پڑے۔ اگر تم اس تربیت میں کامیاب ہوگئے تو پھر نفس کو حرام مرغوبات سے بھی روک سکو گے۔ جب روزے کے ذریعے نفسانی قوت و شہوت میں ضعف آئے گا، تو تم متقی بن جاؤ گے۔“
چنانچہ روزے کی حکمت یہی ہے سرکش نفس کی اصلاح ہوجائے اور نفس کو بھاری معلوم ہونے والے احکامِ شریعت کی انجام دہی آسان ہوجائے۔ ماہِ رمضان ایک مسلمان کے لیے اس لیے بھی بہتر ہے کہ وہ اس دوران عبادت کرنے کے لیے اپنے اندر قوت پالیتا ہے۔جب وہ حرام اشیاء اور مرغوباتِ نفس سے رُک جاتا ہے تو اس میں روحانی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے لیے عبادت کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔آیت کریمہ کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ روزہ کی فرضیت تقویٰ حاصل کرنے کے لیے ہے۔
اگر روزہ کو پورے اہتمام اور احکام و آداب کی مکمل رعایت کے ساتھ پورا کیا جائے، تو بلاشبہ گناہوں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔ اگر کسی نے روزہ کے آداب کا خیال نہ کیا، روزہ کی نیت کرلی، کھانے پینے اور خواہشِ نفسانی سے باز رہا مگر حرام کمانے اور غیبت کرنے میں لگا رہا تو اس سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر روزہ کی برکات و ثمرات سے محروم رہے گا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے:
”جوشخص روزہ رکھ کر جھوٹی بات اور غلط کام نہ چھوڑے تو اللہ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ (گناہوں کو چھوڑے بغیر) محض کھانا پینا چھوڑدے۔“ (بخاری)
اس سے معلوم ہوا کہ محض کھانا پینا اور جنسی تعلقات چھوڑنے ہی سے روزہ کامل نہیں ہوتا، بلکہ روزہ کو فواحش و منکرات اور ہر طرح کے گناہوں سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
ماہِ رمضان کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے نفل روزے رکھ لے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے۔ چنانچہ بخاری شریف میں ہے۔”ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے اس کے لیے پانچ نمازوں کی فرضیت بتادی۔ اس پر اس نے کہا کہ اس کے علاوہ بھی مجھ پرکچھ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ان کے علاوہ اور کوئی نماز فرض نہیں اِلّا یہ کہ اپنی خوشی سے نفل نمازیں پڑھ لو۔ پھر آپ نے رمضان کے روزوں کی فرضیت ذکر فرمائی۔ اس نے وہی سوال کیا، کیا ان کے علاوہ مجھ پر اور روزے بھی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ ان کے علاوہ اور کوئی روزہ فرض نہیں اِلّا یہ کہ اپنی خوشی سے نفلی روزے رکھ لو۔“
رمضان مبارک کے تقدس کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا بھی لازم ہے۔ بلاوجہ روزہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔ مسند احمد اور ابوداؤد میں ہے۔”جس شخص نے بلا عذر ماہِ رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا تو وہ شخص اگر ساری عمر بھی روزے رکھتا رہے، تو اس ایک روزے کے اجر کو نہیں پاسکے گا۔ کیونکہ یہ قیمتی وقت اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔“
ماہِ رمضان میں سحری کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:
”تم سحری ضرور کیا کرو۔ اگر کھانے کو نہ بھی دِل چاہے تو کھجور کا ایک دانہ یا پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لیا کرو تاکہ یہودیوں کی مخالفت ہوجائے۔ کیونکہ ان کی مخالفت ہمارا مذہبی شعار ہے۔“ نیز آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا۔”سحری کھانے والوں پر اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمتیں نازل فرماتا ہے اور اللہ کے مقرب فرشتے سحری کھانے والوں کے لیے رحمتوں کی دعائیں کرتے ہیں۔“ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
٭٭…………٭٭










