مظلوم و مقتول حافظ قرآن تھا،ان کا والد بھی عالم دین اور گھرانہ دینی تھا.

عید کی صبح حافظ سمیع الرحمان کو قصور میں پولیس کانسٹیبل نے ناجائز تعلقات اور بری دوستی نہ رکھنے پر قتل کر ڈالا ،ایک حافظ قرآن کا قتل !

ایک ایسے جوان کا قتل جس نے امسال پہلی بار تراویح میں قرآن سنایا تھا،ایک امام کا قتل !

فرض کریں یہ قاتل اور زیادتی کرنے والا شخص کانسٹیبل کی بجائے مدرسے کا کوئی مولوی ہوتا،میڈیا اپنے کیمرے لیکر مسجد کے حجرے میں پہنچا ہوتا.

اقرار الحسن سرعام کی ٹیم لیکر مولوی کا ڈی این اے کرچکا ہوتا،مختلف ٹی وی چینلوں پر سنسنی خیزی پھیلانے والی آنٹیاں مولوی کو گھیر چکی ہوتیں.

دیسی لبرلز ، ٹویٹر بائز ،فیس بکیے مولوی اور مدرسے پر لطیفے بناتے،جملے کستے.

ایک مولوی کی حرکت پر تمام مدرسے سب مسجدیں ہدف طنز و تنقید ہوتیں.

لیکن

چونکہ قاتل اور مجرم ایک پولیس کانسٹیبل ہے جس کو حکومت لوگوں کے مال و جان کی حفاظت کی تنخواہ دے رہی تھی چنانچہ سب خاموش ہیں،سب کی زبانوں پر تالے
چڑھے ہوئے ہیں،مہریں اور قفل پڑے ہیں.

ایف آئی آر ہوئی،چند دنوں میں مقتول کے خاندان پر با اثر لوگ دباؤ ڈالیں گے اور جبری صلح ہوگی بات ختم.

یہ واقعہ ملتان شریف یا شرق پور شریف میں نہیں ہوا ہے
یہ قصور کا واقعہ ہے جہاں سینکڑوں بچوں کے ساتھ سال پہلے جنسی زیادتی کے کیسز ہوئے ہیں،صاف ظاہر ہے کتیا
چوروں کے ساتھ ملی ہوئی ہے.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عید کے دوسرے دن کانسٹیبل کو سرعام پھانسی لٹکایا جاتا اور عبرت بنایا جاتا.

لیکن

اس ملک میں مولوی کا خون سستا ہے مولانا سمیع الحق کے قتل سے لیکر حافظ سمیع الرحمان کے قتل تک سب آپ کے
سامنے ہے،انصاف گیا تیل لینے.

بقلم فردوس جمال !!!