جھنگ والوں کو
نجف عباس خان کامتبادل مل گیا؟؟؟؟ ؟؟؟
تحریر فرحان اعجاز
ملک میں ایک طرف کرونا بے قابو ہے تو دوسری طرف ٹڈی دل کی یلغار ہے
اور ایسے میں حکومت کہاں ہے خود حکومت والوں کو بھی نہیں پتہ اور یہ ملک کیسے چل رہا کون چلا رہا کچھ خبر نہیں کرونا سے اب تک ستر ہزار سے زائد مریض متاثر ہوچکے چودہ سو کے قریب جان سے جا چکے تو وہیں ٹڈی دل کی ملک بھر کے اکسٹھ کے قریب اضلاع پہ اجارہ داری ہے
اور حکومت حالت بھنگ میں ہے کسان اپنی مدد آپ کے تحت کورونا سے بھی لڑرہے اور ڈھول باجے لیے اپنی فصلیں بھی بچا رہے
خیر اس حکومت تے تین حرف بھیجو تے اس گل تے مٹی پاو
ادھر جھنگ سے سابق ایم این اے مرحوم نجف عباس خان کے فرزند سابق امیدوار این اے ایک سو سولہ امیر عباس خان کی تصویر جس میں وہ اپنے ڈیرہ پہ
پنچائیت نمٹا رہے وائرل ہونے کے چرچے ہیں ایک لمبے عرصے بعد بھر پور فارم میں نظر آئے
اس تصویر پہ تبصرے تذکرے تجزییے زبان زد عام ہیں ہمارے ایک صحافی بھائی نے تو باقاعدہ لکھ دیا کے عوام کو نجف عباس خان کا متبادل مل گیا ہے………….
گر تو فقط ڈیروں پہ پنچائیت اور برادریوں کے درمیان
صلح کے فیصلوں سے نجف عباس خان کا متبادل ڈھونڈ لیا گیا ہے تو ایسی دریافت کرنے والوں کو خبر ہو ایسی پنچائیتیں اور صلح صفائیاں ہمارے علاقہ کے تقریباً ہر چھوٹے بڑے زمیندار کے ڈیروں پہ ہوتی رہتی ہیں
اور صلح صفائیاں بھی معمول پھر تو کل کلاں کوئی بھی پگ ول نجف عباس خان ہونے کا دعویدار ہو سکتا
ہے
اب جس نے نجف عباس خان مرحوم کی چودہ سالہ سیاست اور طرز سیاست کو قریب سے دیکھا ہے وہ جانتا ہے کے نجف عباس خان نے اپنے حلقہ اور جھنگ میں
روایتی سیاست کا خاتمہ کیا ان کا دور اقتدار
علاقہ میں تعمیرو ترقی کا ایک تاریخ ساز عہد تھا تو وہیں اس جاگیردارنہ وڈیرہ شاہی گدی کی سیاست کے خاتمے
اور جھنگ میں ووٹرز کو عزت بخشنے کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے اور ان کے بدترین مخالف بھی یہ بات تسلیم کرتے نظر آتے ہیں،
نجف عباس خان نے ووٹرز اور سیاستدانوں کے درمیان خلیج کو ختم کیا دن کے دس ہوں یا رات دو بجے وہ شخص آپ کو ایک فون کال پہ میسر ہوتا
حق سبحان تعالی مغفرت فرمائے
وہ حقیقی معنوں میں ایک عوامی لیڈر تھا
مگر اب بحث یہ ہورہی کے کیا ان کاجانشین ان کا متبادل ہو سکتا ہے
کہاوت ہے کے مچھلی کے بچے کو تیرنا نہیں سکھایا جاتا
امیر عباس خان میں نجف عباس کا خون ہےتو لازم ہے کے
کچھ نا کچھ تو نجف عباس والے انداز و اطوار ہوں گے سیاست بھی ورثے میں ملی ہے
مگر کیا وہ ساری خوبیاں امیر عباس میں ہیں جو ان کے مرحوم والد میں تھیں
اور سب سے بڑھ کے نجف عباس کی طرح قسمت کا دھنی ہونا کے جس نے ہر قدم پہ نجف عباس کا ساتھ دیا اور اس نے اپنے سیاسی حلیفوں اور حریفوں کو چاروں شانے چت کردیا
مگر یہاں اپنوں کے ساتھ ساتھ اب تک قسمت بھی امیر عباس کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتی اور اسے امیر عباس کی نہیں علاقہ کی عوام کی بدقسمتی سمجھا جائے تو غلط نا ہوگا
مگر یہاں کوئی دو رائے نہیں کے انداز میں گفتار میں للکار میں عوامی طرز سیاست کی حد تک امیر عباس خان میں نجف عباس مرحوم کی جھلک نظر آتی ہے وولٹیج بھی پورے ہیں
مگر وہیں الیکشن دوہزار اٹھارہ سے اب تک کے ان کے کیے گئے سیاسی فیصلوں میں نا پختگی غیردمہ داری اور سیاسی نابالغ پن بھی واضح نظر آتا ہے
تووہیں فیصلہ سازی کی اہلیت کا فقدان بھی
کبھی تحصیل نظامت کے امیدوار تو کبھی ایم این اے کے
امیدوار تو کبھی ایم پی اے کے امیدوار ابھی تک انہیں خود نہیں پتہ کے انہیں کرنا کیا ہے یا شائد پھر ان کے مشیروں نے انہیں الجھا رکھا ہے
عہد و پیمان افتخار خان سے باندھتے ہیں
تو سٹیج پہ مولانا آصف معاویہ سیال کے ساتھ نظر آتے ہیں پھر اپنوں کا ہی دباو برداشت نہیں کرسکتے اور یو ٹرن لے لیتے ہیں
اور اب خبرگرم ہے کے انہیں نیا لولی پاپ دینے کی تیاری جاری ہے این اے ایک سو چودہ سے
ایک سابق ایم پی اے اور ایک موجودہ ایم پی اے جو ان کے قریبی عزیز بھی ہیں کی خواہش ہے کے امیر عباس
اگلا الیکشن این اے ایک سو چودہ سے لڑیں یہ انہیں
سپورٹ کرنے پہ آمادہ نظر آتے ہیں
یہ وہی عزیز ہیں جنہوں نے دوہزار اٹھارہ میں امیر عباس کو این اے ایک سو چودہ میں الیکشن نا لڑنے پر مجبور کیا اور این اے ایک سو سولہ میں دھکا دیا
مگر اب ان کے اندر برادری ازم بھی جاگ گیا ہے تو وہیں اچانک امیر عباس کیلیے ان کے دل میں ہمدردی بھی
جاگ اٹھی ہے دراصل وہ پھر سے امیر عباس کے ساتھ سیاسی کھیل کھیلنا چاہتے کیونکہ انہیں اپنی سیاسی بقا اب اسی میں نظر آتی ہے کے ایک دفعہ پھر امیر عباس کو سیاست کے کنویں میں دھکا دیا جائے
وہ کیوں اور کیسے یہ کہانی پھر سہی
گر ایسا ممکن ہوتا ہے تو امیر عباس کے سیاسی حریفوں کا راستہ صاف جبکہ امیر عباس خان کی سیاست کا پتہ صاف ہوجائے گا
گر پی پی ایک سو تئیس کی حد تک دیکھا جائے تو
موجودہ ایم پی اے جنہیں عوام نے بڑی چاہت سے ووٹ دئیے مگر اب مایوس نظر آتے ہیں ان کی مقبولیت کا گراف نیچے آرہا ہے
جبکہ ان کے مدمقابل سابق ایم پی اے کی مقبولیت میں کمی نظر نہیں آتی اور نا ان کے ووٹ بینک میں اب تک کوئی بڑی نقب لگتی نظر آرہی ہے
تاہم اگلے الیکشن سے قبل کچھ بھی کہنا قبل ازوقت مگر اتنا ضرور ہے
کے گر امیر عباس مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اپنے موجودہ پینل بلوچ گروپ کے ساتھ رہتے ہیں
تو جہاں وہ اپنے اور اپنے والد کے سیاسی حریفوں کیلیے بھی بڑا خطرہ بن سکتے ہیں تو بروقت اور درست فیصلوں سے شائد اقتدار کی دیوی بھی ان پہ فریفتہ ہوجائے
اور اقتدار کی دیوی ان پہ مہربان ہوتی ہے
اور وہ طاقت کے ایوان تک جا پہنچتے ہیں تو پھر اس کا فیصلہ ہوگا کے آیا حلقہ کو نجف عباس خان کا متبادل ملا یا نہیں فی الحال تو نجف عباس کا متبادل امیر عباس کجا جھنگ بھر میں کہیں نظر نہیں آتا
اور خاکسار اکثر کہا کرتا ہے جھنگ کی دھرتی میں کسے ماں دوجھا نجف خان نئ جمنڑا لہذاہ امیر عباس کو ابھی سے نجف عباس خان کہنا ہنوز دلی دور است کے مترادف ہے
بہرحال عوام میں ان کی چاہت ابھی موجود تو لوگوں کو ابھی تک ان کے مرحوم والد کے احسانات اور ترقیاتی کام نہیں بھولے لہذاہ وہ مزید ایک الیکشن میں
نجف عباس خان کے ترقیاتی کاموں اور ان کی عوامی خدمت کو کیش کرسکتے ہیں مگر یہ ان کیلیے آخری موقع ہوگا اس کیلیے انہیں ہر قدم پھونک پھونک کے رکھنا ہوگا اس کیلیے
انہیں ایک ہاتھ عوام کی نبض پہ تو گوڈا علاقائی ترقی کے دشمن اور روائتی سیاستدانوں کے سینے پہ رکھنا ہوگا
والسلام دعاوں کا طلبگار
فرحان اعجاز المعروف خانہ بدوش








