دینی مدارس اور عصری اداروں کا مقدمہ
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی
علماء کرام کا مطالبہ ہے کہ مدارس کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ کھولنے کی اجازت دی جائے‘ گزشتہ روز اس حوالے سے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے وفد نے شیخ الحدیث قاری محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے۔۔۔ لاہور میں ملاقات کی، خبروں کے مطابق مدارس کی تنظیمات کے وفد کی جانب سے مدارس کھولنے پر اصرار کیا گیا۔۔۔ تاہم وفاقی وزیر تعلیم نے مدارس کھولنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ غالباً مولانا محمد حنیف جالندھری نے وفاقی وزیر تعلیم سے سوال کیا کہ اگر باقی سرگرمیاں شروع کی جاسکتی ہیں۔۔۔ تو دینی مدارس کیوں نہیں کھولے جاسکتے؟ مدارس کو طے شدہ ایس او پیز کے مطابق کھولنے کی اجازت دی جائے‘ وفاقی وزیر تعلیم نے موقف اختیار کیا کہ مدارس کھولنے کی اجازت دی تو سکولز اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی کھولنا پڑیں گے۔۔۔ اس وقت کورونا کی صورتحال بگڑ رہی ہے… مدارس کھولنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔۔۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ خبر قوم کے لئے بڑی پرمسرت ہے کہ دینی مدارس کے اکابرین قوم کے 30لاکھ دینی۔۔۔ طلباء و طالبات کی تعلیم کے معاملے پر نہ صرف یہ کہ متفکر ہیں۔۔۔ بلکہ انہوں نے اس حوالے سے وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات کرکے دینی مدارس کو کھلوانے کی کوشش بھی کر ڈالی ہے۔
یہ سوال بڑا اہم ہے کہ اگر ایس او پیز کے تحت ٹرین سروس کھل سکتی ہے۔۔۔ ٹرانسپورٹ کو اجازت مل سکتی ہے‘ سرکاری دفاتر کی رونقیں بحال ہوسکتی ہیں۔۔۔ بازار اور مارکیٹیں کھولی جاسکتی ہیں۔۔۔ تو پھر تعلیمی ادارے کھولنے میں کیا قیاحت ہے؟ یقینا کورونا وائرس کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ اب تک جن سینکڑوں لوگوں کو کورونا وائرس کا شکار بنا کر مرنے کا اعلان کیا گیا ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہے کہ جس کو کورونا نے تعلیمی ادارے میں گھس کر اپنا شکار بنایا ہو؟
دیکھنے والی بات یہ بھی ہے کہ کیا حکومت کی ترجیح کبھی ’’تعلیم‘‘ بھی رہی ہے؟ قاری حنیف جالندھری اگر جرات کرکے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود سے دعا قنوت یا ایمان مفصل سن لیتے۔۔۔ تو انہیں خود ہی اندازہ ہو جاتا کہ موصوف دینی مدارس کھولنے کی اہمیت سے کس قدر واقف ہیں۔
سوال تو بنتا ہے کہ عصری تعلیمی ادارے ہوں یا دینی مدارس…ان کو مستقل بند رکھنے سے کیا کورونا وائرس ختم ہو جائے گا؟ آج کل سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کی مولا جٹ والی دھمکیاں عروج پر ہیں… پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن سکولوں کو کھولنے کی بات کرتی ہے تو موصوف سکول کھولنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں… دینا شروع کر دیتے ہیں..۔ یقینا نجی تعلیمی اداروں کے لئے بھی کورونا وائرس کی وباء ڈبل عذاب بن چکی ہے‘ ایک تو وباء اور دوسرا مالی نقصان‘ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی دو قسم کے ہیں۔… ایک تو ’’بیکن‘‘ مارکہ کہ ’’نوٹ‘‘ جن کی مجبوری نہیں رہے…چاہے سکول‘ ایک سال بھی بند رہیں۔.. ان کی بلا جانے؟
اور دوسرا وہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے کہ جو تعلیمی لحاظ سے بہتر ہونے کے باوجود اگر بچوں سے ریگولر فیسیں آتی رہیں تو مناسب انداز میں اپنے اساتذہ اور دیگر سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی کے ساتھ چلتے رہتے ہیں…۔ ایسے تعلیمی ادارے اکثریت میں ہیں‘ اب جب ’’کورونا‘‘ آیا تو سکول بند کر دئیے گئے… پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان پر جب اپنے سٹاف کی تنخواہوں اور بلڈنگوں کے کرایوں کا بوجھ پڑا تو انہیں لگ پتہ گیا… دینی مدارس کہ جن کو نہ حکومت فنڈز دیتی ہے اور نہ ہی دینی مدارس کے اساتذہ کی تنخواہیں ادا کرتی ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے اس مرتبہ صاحب خیر اور مخیر حضرات کی طرف سے انہیں ملنے والے چندے اور عطیات بھی تقریباً نا ہونے کے برابر ہیں‘ لیکن پھر بھی دینی مدارس کے اکابرین نے حکومت سے فنڈز نہیں مانگے‘ بلکہ مدارس کھولنے کی اجازت مانگی… اور وہ بھی ایس او پیز کے تحت… مگر وزیر تعلیم نے جو عذر پیش فرمایا اسے عذر گناہ‘ بدتر از گناہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے‘ کہا گیا کہ اگر مدارس کھولنے کی اجازت دی گئی تو پھر سکولز اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی کھولنے کی اجازت دینا پڑے گی۔
’’سبحان اللہ‘‘ ارے بھائی…سکولوں اور دینی مدارس کا نصاب تعلیم یکسر مختلف ہے‘ تم نے زندگی میں کبھی یہ بات سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹی والوں کو تو نہیں کہی… کہ اگر تمہارا یہ مطالبہ مانا گیا تو دینی مدارس والوں کا بھی مطالبہ ماننا پڑے گا‘ دینی مدارس معاشرے کے لئے روحانی آکسیجن کا اہتمام کرتے ہیں۔.. دینی مدارس محض تعلیمی ادارے ہی نہیں…بلکہ مثالی تربیت گاہیں بھی ہیں‘ دینی مدارس میں انسان کو انسانیت سکھائی جاتی ہے… قوم کے بچوں کو قرآن کا حافظ‘ قاری‘ عالم اور مفتی بنا کر ملک کا مفید شہری بنایا جاتا ہے‘ تم سکولوں کو دینی مدارس کے ساتھ نتھی کرکے دینی مدارس کی تعلیم کا گلا نہیں گھونٹ سکتے‘ کورونا وائرس حقیقت ہے‘ مگر دینی مدارس میں قال اللہ و قال الرسول کی گونجنے والی صدائیں اس سے بڑی حقیقت ہیں۔








