نیا پاکستان نہیں/پرانا عمران خان چاہیے
تحریر:امجدعلی خان ڈھول احمد پور سیال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا منشور تھا کہ ملک کے اندر ایسا نظام لایا جاے گا جس سے عام آدمی بھی مستفید ہوگا،معاشرتی و معاشی انصاف بھی فراہم کیا جاے گا۔۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ واقع تحریک انصاف اپنے منشور پر عمل کر رہی ہے؟؟؟
سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت مافیاز اور مفاد پرستوں سے بلیک میل ہو رہی ہے۔۔حکومت کی رٹ نظر نہیں آ رہی۔۔ایک ماہ ہونے کو پٹرول کے بحران کو کنٹرول نہیں ہو رہا۔
۔گندم کے رواں سیزن میں سرکاری ریٹ سے چار سو روپے ریٹ پلس مارکیٹ چلی گیئ ایک پانچ سو روپے کمانے والا مزدور کیسے دو وقت کی روٹی کو پورا کر سکے گا۔۔چینی ریٹ کنٹرول نہیں ہو رہا حکومت ستر روپے کا نوٹیفیکشن جبکہ اوپن مارکیٹ میں صارفین کو اسی روپے مل رہی ہے ان تمام مصنوعی بحرانوں کو کنٹرول کرنے میں انتظامیہ کیوں یقینی نہیں بنا رہی؟؟
۔۔لگتا ایسے ہے کہ پارٹی کے اندر اپنے لوگ ہی حکومت کو کمزور کرنے میں تلے ہوے ہیں۔۔۔فواد چوہدری کہتا ہے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو وزارت سے نکلوایا تھا پھر اسد عمر آ کر جہانگیر ترین کو نکلوا دیا ہے۔۔تحریک انصاف کے رہنما کیسی باتیں کر رہے ہیں کہیں گھر کو آگ اپنے چراغوں سے تو نہیں لگنے والی۔
۔۔خان صاحب عوام نے ن لیگ اور پی پی سے جان چھڑا کر آپکو سپورٹ کیا ہے آپ نے جو قبل از حکومت وعدے کیے تھے ان پر عمل پیرا ہوں۔۔عوام کا یہی مطالبہ ہے کہ اقتدار سے پہلے والا یعنی پرانا عمران خان چاہیے۔۔۔








