شکر کرنا سیکھیے
تحریر، محمد توصیف خالد

ہم ہر آن ،لمحہ بہ لمحہ نعم اللہ سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ سحر کے وقت بیدار ہوتے ہی انعامات و اکرامات کا بحر بےکراں ہمارے لیے مزین و مسخر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ مخمور آنکھوں کو دستیاب صاف و شفاف پانی ، نہار منہ جسمانی ضروریات کو پورا کرنےکے لیے موجود تازہ فطور، رزق حلال کے حصول کے لیے مزین راستہ ، انجان گمان سے آمد_ رزق ، حصول رزق کے بعد مسکن میں بحفاظت واپسی، شدت عمل سے تھکا ماندہ کو نرم و ملائم بستر، فراش پر دراز ہوتے ہی پرسکون نیند ، عند النوم سہانے خوابوں کی دنیا اور موت صغیر کے بعد صبح نور کا پر لطف نظارہ بلاشبہ کسی احسان کبیر سے کم نہیں ہے۔

ہمارا جسم بھی قدرت الہیہ کی شاہکار تخلیق ہے۔ بغیر ستون کے تاروں سے مرصع فلک، پانی پر ٹھہری زمین ، کیلوں کی مانند ٹھونکے گئے پہاڑ،عالم دنیا کو منور کرنے والا دہکتا و چمکتا سورج، راتوں کو ٹھنڈک بخشنے والا چاند، مالک کون و مکاں کی خاص نشانیاں ہیں۔

خلاق عالم کے احسانات کا شکر کرنا تو درکنار ان کا شمار بھی سعی لاحاصل ہے۔ اس بحر نعم میں غوطہ زن ہونے کے بدلے ہم فقط” الحمداللہ ” ہی کہنے پر اکتفا کرلیتے ہیں ، حالاں کہ یہ تو شکر کے مقصود اصلی سے بھی کوسوں دور ہے۔ شکر کا مفہوم تو اس سے کہیں زیادہ وسیع و عمیق ہے۔ رب لم یزل کی عطا کردہ نوازشات و انعامات کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس خالق کی فرمانبرداری میں ان انعامات سے مستفید ہوا جائے اور نافرمانی و کراہت سے پرہیز کیا جائے۔

ہمہ وقت اس مالک کے حضور عاجزی و انکساری کا اظہار کرنا عبودیت کی نشانی ہے۔ فخر و تکبر فرعونیت کی دلیل ہے۔ تمام تر کامیابی و کامرانی کا راز بلاشبہ رب کائنات کے احکامات کی بجاآوری میں مضمر ہے ، وگرنہ کوئ چارہ ہے نہ ہی کوئ چارہ گر۔