تعلیمی بیٹھک ۔ ایم ایس او کا احسن اقدام۔
{~بکھری سوچیں ~}
کالم نگار غلام شبیر منہاس
کورونا کی اس وباء نے جہاں ھر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ھے وھیں تعلیم جیسے شعبے کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ھے۔ چار ماہ سے سکول ، کالجز ، یونیورسٹیز اور مدارس کو تالے لگے ہوئے ہیں اور ان تالوں میں لگنے والا زنگ دراصل اس نسل کو لگ رھا ھے جن کے قیمتی ترین شب وروز ضائع ہورھے ہیں۔ اس سلسلہ حکومت نے اپنے طور پہ کئی ایک اقدامات کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی کارگر ثابت نہ ھوسکے۔ اس ضمن میں ملک بھر کی تعلیمی جماعتوں اور ملک بھر کے طلباء کیلئے کام کرنے والی طلباء تنظیموں کی تشویش دن بدن بڑھتی جارہی ھے۔ اور جون کے وسط تک یہ طلباء تنظیمیں اپنے اپنے طور پہ مختلف فورمز پہ جاکے دستک اور احتجاج ریکارڈ کرواتی رہی ہیں جو ایک احسن اقدام تھا۔ کیونکہ جس دور میں ھم لوگ جی رھے ہیں وہاں ھر طرف نفسانفسی کا سا عالم ھے۔ دوکاندار کو اپنی دوکان کھولنے، ٹرانسپورٹر کو اپنی گاڑی چلانے کی فکر تو ھے مگر اس نئی نسل جس نے کل اس ملک اور قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنی ھے جو ھمارا مستقبل ہیں بدقسمتی سے انکا بہت کم لوگوں کو خیال ھے کہ ان کا کیا بنے گا۔
اسی فکر کو پروان چڑھانے، انفرادی آوازوں کو اجتماعی آواز بنانے، ایک موثر آواز ارباب اقتدار تک پہنچانے ، اس مسلہ کی حساسیت کو اجاگر کرنے اور آن لائن تعلیمی سسٹم میں طلباء کو درپیش مسائل سامنے لانے کیلئے ملک کی نامور اور صف اول کی طلباء تنظیم ” مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ” نے 18جون 2020ء کے دن اسلام آباد میں ایک ایسی ” تعلیمی بیٹھک ” کا اہتمام کیا جس میں ملک بھر کی طلباء تنظیموں کی مرکزی قیادت شریک ہوئی جو ایک انتہائی احسن اقدام ھے۔ اس طلباء کی نمائندہ گول میز کانفرنس میں ملک بھر کے طلباء کو درپیش مسائل کا بڑی باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور اختتام پر نہ صرف ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا بلکہ ایک ایسی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو اس سلسلہ میں حکومتی نمائندگان سے مذاکرات بھی کرے گی۔
18 جون کی اس طلباء تعلیمی بیٹھک میں ایم ایس او پاکستان کے مرکزی ناظم اعلی بھی موجود تھے انکی تنظیم اور وہ خود میزبانی کے فرائض بھی سرانجام دے رھے تھے۔۔ ان کے علاوہ محسن خان عباسی چیئرمین ختم نبوت یوتھ الائنس ، شہیر سیالوی چیئرمین اسٹیٹ یوتھ پارلیمینٹ، راجہ عمیر رہنماء اسلامی جمیعت طلباء ، عمیر ڈوگر رہنماء اے ٹی آئی ، جنید عارف عباسی رہنماء آئی ایس ایف ، سید بلال حسن رہنماء مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ، امجد رضوی رہنماء یوتھ تحریک لبیک پاکستان ، مولانا عبدالروف صدیقی رہنماء نوجوانان توحید و سنت ، عزیز الرحمن مجاھد رہنماء عافیہ موومنٹ پاکستان ، نثار احمد صدر جماعت اسلامی کشمیر و بلتستان ، عثمان فاروق ستی رہنماء پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، عبید عباسی رہنماء مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ، سردار مظہر ناظم عمومی مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور بلال ربانی نے شرکت کی۔ یہ بلا تفریق مسلک بلاشبہ ایک بڑا اور بھرپور طلباء اجتماع تھا جس کی اچھی خاصی بازگشت سنائی دی۔
ان کا موقف یہ تھا کہ آئن لائن کلاسسز کا اجراء کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچا گیا کہ جو طلباء کشمیر ، فاٹا اور بلتستان جیسوں علاقوں میں رہ رھے ہیں جہاں نیٹ کی سہولت ہی موجود نہیں انکا متبادل کیا ہوگا۔۔وہ نوجوان کلاسسز کسطرح اٹینڈ کریں گے اور امتحان کی کیا صورت ممکن ھو گی۔ اس پہ بعد میں سینیٹ کے منعقدہ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے سینیٹر جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے بھی اظہار خیال کیا ھے۔ کہ آدھے ملک میں نیٹ کی سہولت ہی نہیں تو پھر آن لائن کلاسسز کا اجراء کسطرح ممکن ھے۔ اسی طرح جب یونیورسٹیز بند ہیں تو پھر مختلف مد میں فیسیسز کس لیئے لی جا رہی ہیں جس طرح کہ لائبریری فیس بدستور لی جارہی ھے۔ اس پہ بھی نظر ثانی کی جائے۔ اس گول میز کانفرنس کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ جب دیگر تمام شعبہ جات ایس او پی کے تحت کھولے جارھے ہیں تو انہی ایس او پیز کے تحت تعلیمی اداروں کو بھی اوپن کردیا جائے۔ اس پہ بھی وفاقی وزیر تعلیم نے صوبوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں جو ایک اچھا اقدام ھے۔ اسی طرح مدارس کے 35 لاکھ طلباء کا مستقبل بھی خطرے میں ھے۔ ان کے نہ تو امتحانات ھوسکے ہیں اور نہ ہی نئی کلاسسز اور داخلے ممکن ھوئے ہیں۔ تو اتنی بڑی تعداد میں طلباء جب فارغ ہوں گے تو انکا کیا متقبل ھوگا۔ اس پہ بھی نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح حالیہ لاک ڈاون کیوجہ سے چونکہ یونیورسٹیز کے اخراجات کم ھوگئے ہیں اس لیئے طلباء سے بھی محض ٹیوشن فیس وصول کی جائے۔ بہت سے طلباء ایسے بھی ہیں جن کی مالی حالت پہلے ہی کمزور تھی موجودہ حالات میں وہ معاشی طور پہ مذید کمزور ھوگئے ہیں انکو بلاسود قرضہ جات کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے کل جب یہ لوگ عملی زندگیوں میں جایئں گے تو یہ قرض واپس لوٹا دیں گے۔ ساتھ ہی اس طلباء کے نمائندہ اجتماع نے اپنا یہ موقف اور مطالبہ بھی دہرایا کہ قادیانی کو پاکستان کے ھر شعبہ زندگی میں موجود کلیدی سیٹوں سے ہٹایا جائے۔ انھیں کوئی فیصلہ جات پاور نہ دی جائے بالخصوص تعلیمی سیٹ اپ میں انکو بالکل بھی نہ لگایا جائے کیونکہ ھم دیکھ رھے ہیں کہ نواز شریف دور سے ھر دوماہ بعد کوئی نہ کوئی ایسا ایشو سامنے آجاتا ھے جس میں خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس اور ختم نبوت پہ ضرب لگانے کی کوشش کی جاتی ھے۔ اس تناظر میں بھی اگر دیکھا جائے تو کل قومی اسمبلی نے ایک متفقہ قراداد پاس کردی ھے کہ آئیندہ ھر ادارہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک لکھے تو ساتھ خاتم النبین ضرور لکھا جائے۔ یہ بھی بلاشبہ ایک احسن اقدام ھے۔ اگر اس اجلاس کو بنظر غور دیکھا جائے اور اس کے مطالبات کو پڑھا جائے تو یہ ایک انتہائی مناسب اور بروقت اقدام دکھائی دیتا ھے۔ اور اس پہ مسلم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ھے جس نے خاموشی کو توڑا اور اپنی آواز کو موثر بناتے ہوئے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کے ایک مثبت اقدام کیا اور بہتری کی عمارت میں اپنی طرف سے پہلی اینٹ نصب کی۔










