مرد درویش سید منور حسن کی رحلت
{~منیارہ نور~}
کالم نگار مسعود ہاشمی
حق گوئی و بے باکی جن کا شعار تھا، وہ سید منور حسن بھی رخصت ہوئے، وہ اگست1941ء کو دہلی میں سید اخلاق حسین کے گھر پیدا ہوئے، ان کے والد قیام پاکستان کے وقت ایم بی ہائی سکول دہلی کے ہیڈ ماسٹر تھے …1947 ء میں ”پاکستان ” کو وجود ملا تو دہلی کے اس معزز خاندان نے بھارت کے سیکولر ازم پر اسلامی پاکستان کو ترجیح دیتے ہوئے ہجرت کا فیصلہ کرلیا، یوں سید منور حسن اپنے خاندان سمیت ہجرت کی صعوبتیں جھیلتے پہلے لاہور اور پھر کراچی میں آباد ہوا، کہا جاتا ہے کہ جون1960 ء میں آپ اسلامی جمعیت طلباء میں شامل ہوئے اور پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا… بلکہ آگے ہی بڑھتے چلے گئے … مطلب یہ کہ تقریباً اب سے ساٹھ برس برس قبل ہی جناب ”سید” کو یقین ہوگیا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا راز، کسی سیکولر ازم، سوشلزم، کیپٹل ازم یا لبرل ازم میں نہیں, بلکہ ”اسلامی انقلاب” میں مضمر ہے … چنانچہ1960 ء سے لے کر آخری سانسوں تک سید منور حسن پاکستان میں پرامن اسلامی انقلاب لانے کیلئے کوشاں رہے …وہ1977 ء کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے جمیل الدین عالی کے مقابلے میں ریکارڈ ووٹ لے کر قومی اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے … وہ 2009 ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر منتخب ہوئے تو اس خاکسار کو انہیں اسلام آباد کی مختلف تقریبات میں قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا، وہ واقعی بے باکی، کی حد تک حق گو انسان تھے، وہ جتنی سشتہ اردو بولتے تھے … اتنا ہی سادہ مزاج رکھتے تھے… وہ عجب مرد آزاد تھے… کہ جماعت اسلامی پاکستان کا امیر ہونے کے باوجود مصلحت پسندی سے ناواقف رہے یا پھر شاید وہ مصلحت پسندی کو بزدلی خیال کرتے ہوں … بعض دفعہ وہ ایسا موقف اختیار کرلیتے کہ جس ”موقف” پر مصلحت کی چادر ڈالنا ضروری ہوتا، لیکن ان کے نزدیک چونکہ وہ موقف درست … پھر دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے وہ اپنے موقف میں تبدیلی لانا گوارا نہ کرتے… میں جماعت اسلامی کی میڈیا ٹیم کے مخصوص انداز کی وجہ سے اسلام آباد اور کراچی میں صحافتی سرگرمیوں کی ادائیگی کے باوجود جماعت اسلامی پاکستان کے امراء سے دور رہتا ہوں ، لیکن2009 ء سے لے کر 2014 ء تک سید منور حسن چونکہ جماعت اسلامی کے امیر رہے… اس دوران جو میں انہیں سمجھ پایا اس کی گواہی دینا لازم ہے ، وہ واقعی ،
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
میں زہر ہلاہل کو کہہ نہ سکا کند
کی عملی تفسیر تھے … وہ عرب و عجم کے مشہور زمانہ مجاہد اسامہ بن لادن کو کیا سمجھتے تھے؟ اس کا اظہار وہ ایک جلسے عام میں کرتے ہیں… جس کا وڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے … اپنے خطاب میں وہ کہتے ہیں کہ ”اسامہ بن لادن بلاشبہ ایک شخص کا نام بھی تھا… کہ جس کو لوگ جانتے پہچانتے بھی تھے… لیکن اسامہ بن لادن ایک رویئے کا نام ہے ، جدوجہد کے پیکر کا نام ہے، استعمار کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے، سامراج کا پنجہ مروڑنے کا نام ہے، اسامہ بن لادن آزادی و خودمختاری کا نام ہے … اسامہ بن لادن کلمہ طیبہ کی سربلندی کا نام ہے، اسامہ بن لادن کو ہلاک، قتل نہیں کیا جاسکتا اور شہیدکے ہر قطرہ خون سے سینکڑوں اسامہ بن لادن پیدا ہوں گے” چند دن قبل وزیراعظم عمران خان قومی اسمبلی میں تقریر کررہے تھے ، دوران تقریر انہوں نے اسامہ بن لادن کے ساتھ شہید کا لفظ استعمال کیا تو ن لیگ کے خواجہ آصف سیالکوٹی ایسے تلملائے کہ جیسے… ان کے اندر بش اور کلنٹن کی روح حلول کرگئی ہو … مجھے یقین ہے کہ اگر ”سید زادہ” زندہ ہوتا تو وہ خواجہ سیالکوٹی سے ضرور پوچھتا کہ کیا ”شہید” کی متبرک اصطلاح بھی اتفاق فونڈری کی بھٹی میں تیار ہوتی ہے… کہ شریفوں کو قیمت ادا کیے بغیر جسے اسامہ بن لادن کے نام کے ساتھ لگایا نہیں جاسکتا؟نیرنگئی زمانہ دیکھئے … جس کے لندن میں پناہ گزین قائد پر اسامہ بن لادن سے پیسے لے کر ہڑپ کرنے کے الزامات لگتے رہے… اب اسے اسامہ بن لادن کو شہید کہنے پر اعتراض ہے … دھت تیرے کی ۔
اس کو کہتے ہیں قسمت کی ناکامیاں
پہلے کشتی گئی پھر کنارا گیا
یہاں پھر سید منور حسن یاد آئے… جو اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”میں یہاں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ جہاد کو گالی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، شہادت کے حوالے سے واقعات رونما ہوتے ہیں ان پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے … لیکن مسلمانوں کا ہتھیار جہاد فی سبیل اللہ ہے … قتال فی سبیل اللہ ہے، نبی اکرمۖ نے ہمیں دعا سکھائی ہے کہ اے اللہ ہمیں سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت نصیب فرما … ہم سعادت کی زندگی بسر کریں گے جب جہاد کا رخ کریں گے” میں نے سوشل میڈیا پر وائرل سید منور حسن کا جب یہ وڈیو کلپ سنا تو دل تھام کر رہ گیا… وہ واقعی ، قرون اولیٰ کے ستارے تھے… کہ جو کہکشاں ہوگئے، وہ ”منور” بھی تھے اور ”حسن” بھی اس لئے سردار بھی سچ بولنا اپنے لئے سعادت سمجھتے تھے … انہیں کے دستر خوان پر پلنے والے بعض ”بے چاروں” نے انٹرویو کے دوران انہیں ”شہید” اور ”مارے” جانے کی اصطلاحات میں پھنسانے کی کوشش کی … منور حسن تو بچ نکلے مگر وہ ”بے چارے” نوٹوں کی دلدل میں خود ضرور پھنس گئے، کہا جاتا ہے کہ جس نے جماعت اسلامی میں ”لچک” دیکھنی ہو تو لیاقت بلوچ کو دیکھ لے … اور جس نے سخت گیری دیکھنی ہو تو وہ سید منور حسن کو دیکھ لے ، ”لچک” کے متلاشیوں کولیاقت بلوچ مبارک ہوں… لیکن سید منور حسن کی باسعادت زندگی بتلا رہی ہے وہ ”سیکولر سخت گیر” تھے، نہ ان میں لبرل ”لچک” تھی ، بلکہ وہ فلسفہ قرآنی اشداء علی الکفار اور رحماء بینھم کی عملی تفسیر تھے، ”کورونا” سے بھاگنے والے مٹی کے یہ بت، کیا جانیں جہاد و قتال اور شہادت کی لذت کو؟ وہ سید منور حسن ہی تھے ، مگر افسوس کہ وہ بھی رخصت ہوئے … سوال مگر یہ ہے کہ زندگی میں ان کے موقف کے دفاع سے گھبرانے والے کیا ان کے مرنے کے بعد ان کے نظریات کو آگے لے کر چل پائیں گے؟ وہ نفس مطمئینہ تھے … لحد میں اترے اور جنت کی خوشبو سے معطر ہوئے ، سیکولر اور لبرل لادینیت کے جوہڑوں میں غوطے کھانے والے یاد رکھیں … کامیابی اللہ اور اس کے رسولۖ کے طریقوں پر عمل پیرا ہونے میں ہی ہے… تم ترقی کی سیڑھیاں چڑھتےچڑھتے آسمانوں کو چھولو، یا سورج اور چاند پر محلات تعمیر کرلو …اگر خاتم الانبیائۖ کی تعلیمات اور احکامات کے منکر ہو… تو تم سے بڑا ناکام، بدقسمت اور بیوقوف کوئی اور نہیں ہوسکتا، سید منور حسن قائداعظم کا اصل ”پاکستان” تھے، سید منور حسن اسلامی نظریات کے کوہ ہمالیہ اور مینار پاکستان تھے، شاعر سے معذرت کے ساتھ
اب کوئی پوچھے تو کہنا کہ ”سید” تو گیا
اور یہ بھی کہنا کہ اب بھی نہ جاتا لوگو!








