مظفرگڑھ کے مسائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔

،،،۔ تحریر۔ از قلم سید علمدار شاہ بخاری

قارئین کرام مظفرگڑھ ضلع دو دریاؤں چناب اور دریائے سندھ کے درمیان میں واقع ہے پسماندگی کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں سرفہرست ہے جس میں آم کھجور کے باغات بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس زرخیز سرزمین سے کپاس چاول گندم گنا اور بڑی تعداد میں سبزیاں بھی اگائی جاتی ہیں مگر بدقسمتی سے مظفرگڑھ کے باسیوں کو بنیادی مسائل کا سامنا ہے جس میں صاف پانی کی فراہمی بھی شامل ہے واضح رہے صاف پانی کی فراہمی کسی بھی صحت مند معاشرے کی اولین ضرورت ہے اب اس نعمت سے بھی انسانی صحت غیر محفوظ ہے قومی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 82 فیصد پانی مضر صحت ہے اور مظفرگڑھ 48 لاکھ سے زائد آبادی والے ضلع میں پینے کیلئے صاف پانی عوام کیلئے خواب بن کر رہ گیا ہے شہر میں لگے ٹوٹے پھوٹے واٹر پلانٹ انتظامیہ کی اعلیٰ کارکردگی کو عیاں کررہے ہیں اور عوام کو آج کے جدید دور میں بھی صاف پانی کی فراہمی کیلئے سفر کرنا پڑتا ہے یا پھر صاف پانی خریدنا پڑتا ہے کیونکہ گھروں میں لگے نلکوں اور واٹر موٹروں سے نکلنے والا پانی انہتائی مضر صحت ہے جس میں بیکٹیریا آر سینک مٹی اور فضلے کی آمیزش پائی جاتی ہے اس کے علاؤہ پانی کڑوا کھارا نمکین اور بد بو دار ہے جسکو اگر تھوڑی دیر کیلئے شیشے کے برتن رکھا جائے تو اسکی رنگت پیلی ہو جاتی ہے اس کے استعمال سے غریب عوام یرقان پھیپھڑوں جگر اور معدہ کے السر پیٹ کے کئی مختلف موذی امراضِ کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے صاف پانی کے کروڑوں روپے کے منصوبے کرپشن اور اقربا پروری لوٹ مار کا شکار ہو کر ناکام ہو گئے اور انکی کی سزا آج بھی غریب عوام خمیازہ کے روپ میں بھگت رہی ہے الیکشن کے دوران ہر آنے والا امیدوار سادہ لوح عوام کو سہانے خوابوں کے سپنے دکھا کر ووٹ لوٹ لیتے ہیں اور کامیابی کے بعد اسلام آباد یا لاہور میں نظر آتے ہیں جسکی زندہ مثال کہ آج بھی بنیادی مسائل بڑی تعداد میں موجود ہیں اسکے علاوہ مظفرگڑھ شہر کو آنیوالے تمام روڈ انہتائی خستہ حالی کا شکار ہو کر تباہ ہو چکے ہیں جن میں ڈیرہ روڈ علی پور روڈ محمود کوٹ اور ملتان روڈ سہرفہرست ہیں یہ خستہ روڈ آئے روز حادثات کا موجب بن رہے ہیں دوسری طرف مظفرگڑھ شہر کے باسی جنرل بس اسٹینڈ سے محروم ہیں سفر کیلئے سواری تک پہنچنے کیلئے کئی کلومیٹر سفر کر کے شہر میں بنے غیر قانونی اڈوں تک پہنچنا پڑتا ہے جسکی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ کروڑوں روپے لاگت سے تعمیر ہونیوالا جنرل بس اسٹینڈ آج اجڑ کر جانوروں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور پھر قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس قدیمی اور تاریخی شہر کے کسان غلہ منڈی کا خواب سجائے آج بھی دوسرے اضلاع میں جاتے ہیں جسکی وجہ سے انکی سال بھر کی محنت گاڑیوں کے کرایوں کی نظر ہو جاتی ہے حیرت کی بات ہے مظفرگڑھ کی سرزمین نے بڑے بڑے سیاسی سورمے پیدا کئے مگر سوائے کھوکھلے نعروں کے عوام کو کچھ نہ دے سکے۔۔۔اور عوام آج بھی نئے پاکستان میں بنیادی سہولیات روز گار انصاف صاف پانی معیاری تعلیم صحت کی سہولیات اور سرکاری دفاتر میں میرٹ کی فراہمی کیلئے آج بھی ترستی ہے ۔۔۔۔۔

تحریر سید علمدار شاہ بخاری چیف ایگزیکٹیو و بانی حالات مظفرگڑھ۔