تحصیل احمد پور سیال کے پندرہ روزہ ایسں ایچ اوز اور ہر شاخ کے الو
پروفیسر نوم چومسکی معروف امریکی دانشور ہے یہ امریکہ کے ان گنتی کے چند دانشوروں میں شامل ہیں جو اپنی بے باکی کے حوالے سے مشہور ہیں یہ بیرونی دنیا میں امریکی مداخلت کے سب سے بڑے نقاد رہے ہیں یہ عراق سے افغانستان تک امریکی مداخلت کے صف اول کے نقاد ہیں دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا براعظم ہوگا جہاں پروفیسر نوم چومسکی نہ پینچے ہوں
میری پروفیسر نوم چومسکی سے دو بار ملاقات ہوئی ایک پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس اسلامی جمعیت طلباء کے کتاب میلہ اور سیمینار پر اور دوسری الحمراء میں الحمراء میں یہ ورلڈ پیس کونسل کے سیمینار میں شرکت کے لیئے آئے تھے ڈاکٹر عبدالقدیر پروفیسر منور حسن مجیب الرحمٰن شامی حامد میر جسٹس ریٹائرڈ نسیم حسن شاہ ارشاد حقانی جیسے دانشوروں میں امریکہ سے یہ بھی مدعو تھے اپنی باری پر یہ خطاب کے لیئے آئے بیس منٹ کے مفصل خطاب میں ایک فقرے کو کوئی تین سے چار بار دہراتے ہوئے ان کی آواز غیر معمولی حد تک بلند ہو جاتی کہ انصاف کی فراہمی کے surrender کرجانا شکست نہیں فتح ہو تی ہے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ختم ہونے سے آپ خود محفوظ ہوتے جائیں گے دوران خطاب پروفیسر نوم چومسکی کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کے تقریباً تمام براعظموں میں جا چکے ہیں انہیں کہیں بھی انصاف کو یقینی بنانے والے گمنام نہیں ملے پروفیسر نوم چومسکی کے یہ الفاظ بھی وقت کے ساتھ ساتھ دیگر یادوں کے ساتھ محو ہوگئے تاہم گزشتہ ایک سال سے کم عرصہ میں تحصیل احمد پور سیال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں ہونے والی صورتحال نے پروفیسر نوم چومسکی بھی یاد دلا دیئے اور ان کے الفاظ بھی اس دورانیہ میں تحصیل احمد پور سیال کے دونوں تھانہ احمد پور سیال اور تھانہ گڑھ مہاراجہ کے تقریبآ درجن بھر ایس ایچ اوز تبدیل ہو چکے ہیں تھانہ احمد پور سیال کی ہی بات کر لیں یہاں مہر ظفر پتھورانہ ایس ایچ او تھے اہم مقدمات کی تفتیش کے ماہر ایس ایچ او تھے تاہم ایک ڈیرے کے منشی اور ایک دوسرے فرنٹ مین کو مطمئن نہ کر سکے اچانک چوریوں کا سلسلہ شروع ہوا مہر صاحب کو لائن حاضر کر دیا گیا مہر یوسف کمیانہ ایس ایچ او تعینات ہوئے خوب شادیانے بجے کہ اب مخالفین کی شامت آئے گی ایک اہم شخصیت نے تھانے میں ایس ایچ او کے کمرے میں مبینہ طور پر کہا تھا کہ وہ ایک معاہدہ کے تحت لائن سے سٹیشن پر آئے کہ مکمل تابعداری کریں گے کسی حد تک ایسا ہوا بھی تاہم سیاسی شخصیات کی حکم عدولی پر مبینہ طور پر پھر لائن کا حصہ بن گئے عثمان لاشاری صاحب جیسے دبنگ آفیسرز سترہ روز سے زیادہ یہان نہ گزار سکے مہر نواز نول صاحب کیسے اچانک تھانہ احمد پور سیال سے موچیوالہ جا پہنچے کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ارباب احمد سمیجہ جیسے اچھے آفیسر بھی بھی اسی قسمت کے حقدار ٹھہرتے دکھائی دے رہے ہیں تھانہ گڑھ مہارجہ میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے امجد بھریڑی سے لے کر محی الدین صاحب تک نصف درجن سے زائد ایس ایچ اوز تبدیل ہو چکے ہیں تاہم گزشتہ روز تبدیل ہونے والے پولیس کا سب سے بڑا میڈل حاصل کرنے والے ایس ایچ او رانا عمر دراز کی تبدیلی نے بہت سارے سوالات کو جنم دینے کے ساتھ اس حقیقت پر بھی مہر ثبت کر دی ہے کہ انصاف کی راہ سے رکاوٹیں ختم کرنے کی بجائے رکاوٹیں لگائی جارہی ہیں ایک اہم شخصیت کے دست راست پر ایف آئی آر ایک اہم شخصیت کا رات گئے تھانہ گڑھ مہاراجہ سے ملزم نہ چھڑوا سکنا تھانہ احمد پور سیال میں منشیوں اور فرنٹ مینوں کے کہنے پر افسران کے تبادلے بہت ساری کہانی تو ظاہر کرہی رہے ہیں تاہم یہاں سیاسی بصیرت کا فقدان بھی واضح ہےجہاں افسران کی تعیناتی کے حوالے سے ذاتی بصیرت کی بجائے منشیون اور فرنٹ مینون کی بصیرت کو ترجیح دی جائے تو پھر اس کے نتائج کچھ یوں ہی نکلیں گے کہ افسران کی آمد پر بھی طبل اور فوری اسٹیشن چھوڑنے پر بھی طبل
منتخب اراکین اسمبلی کو یہاں زاتی بصیرت استعمال کرنا ہوگی اچھے آفیسرز کو زاتی پسند یا ناپسند سے قطع نظر تعینات کرنا ہوگا ان کے ان کے اچھے فیصلے چاہے وہ خلاف توقع ہی کیوں نہ ہوں خوش دلی سے قبول کرنے ہونگے افسران کو انصاف کی فراہمی کے لیئے مجبور کرنا ہوگا اگر ایسا نہیں ہوگا انصاف کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جائیں گی فرنٹ مینوں کے کہنے پر انصاف کا جنازہ نکالا جائے گا تو پھر اقتدار کا لمبائی کم سے کم ہوتی جائے گی پروفیسر نوم چومسکی جیسے دانشوروں کے مشورے پر عمل کرنا ہوگا کیونکہ یہاں تو ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے
اگر اپنے سیاسی گلستاں کو محفوظ کرنا ہے تو ان بہت سارے الوؤں سے بچنا پڑے گا
علی امجد چوہدری صدر نیشنل یونین آف جرنلسٹس ضلع جھنگ واٹس ایپ 03036559570









