اٹھارہ ہزاری (نامہ نگار) تعلیمی اداروں کی بندش بھی طلباء کو باہر نکلنے سے نہ روک سکی, کھیل کود کے میدان آباد ہوگئے, ایس او پیز جوتے کی نوک پر رکھ . تفصیلات کے مطابق کرونا کے خدشات کے باعث حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے پندرہ ستمبر تک بند رکھے ہوئے ہیں تاکہ بچے اس وبا سے محفوظ رہیں لیکن بچوں کو پابندیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے انہوں نے کھیل کے میدانوں کو رخ کر لیا ہے جہاں وہ کرونا ایس او پیز کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے مختلف کھیل کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں, بچوں کے والدین بھی اس صورتحال سے کافی پریشان نظر آتے ہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس او پیز کے تحت سکولز کو جلد اوپن کیا جائے تاکہ سارا وقت کھیل کود میں ضائع کرنے والے بچوں کا تعلیمی حرج کم ہو اور وہ اپنی پڑھائی کی جانب توجہ دیں,
اٹھارہ ہزاری ( نامہ نگار) لاہور پولیس کی جانب سے اساتذہ پر تشدد قابل مذمت, اپنے مطالبات کے حق میں ہر امن احتجاج پر تشدد کیا گیا, حکومت نےچھ ماہ سے تنخواہیں روکی ہوئی ہیں , پیف پارٹنرز تفصیلات کے مطابق پیف پارٹنر ایسوسی ایشن کے تحصیل عہدیدران خضر حیات انجم, ملک محمد صدیق, عمر میو نے میڈیا گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والےپیف پارٹنر سکول مالکان اور اساتذہ پر گزشتہ روز لاہور میں پولیس تشدد قابل مذمت ہے نااہل حکومت نے چار لاکھ سے زائد اساتذہ کے گھروں میں فاقے کر رکھے ہیں, پیف سکولز کے اساتذہ پچھلے چھ ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے پریشان ہیں, اکثر سکول کرائے کی عمارتوں میں ہیں جن کا کرایہ ادا نہیں ہوسکا, نااہل وزیر تعلیم خود مختار ادارہ کو اپنی نااہلی کی بھینٹ چڑھا رہا ہے, آب جب اپنے حق لے لیے پرامن احتجاج کیا جارہا تھا تو اساتذہ پر لاٹھیاں برسوا کر بزدار سرکار نے یزیدیت کی مثال قائم کی ہے انہوں نے وزیر اعظم عمران اورآرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار کیے گئے اساتذہ کو فوری رہا کیا جائے اور ان کے واجبات ادا کئے جائیں تاکہ اساتذہ کی تنخواہیں ادا کی جاسکیں..












