جانے دیں خان صاحب۔

{ بکھری سوچیں }کالم نگار غلام شبیر منہاس

عمران خان میری طرح ان گنت لوگوں کی امیدوں کا محور و مرکز ھے۔ مگر حکومت میں آنے کے بعد خان کو یقینی طور پہ احساس ہوا ہوگا کہ یہ نہ پھولوں کی سیج ھے۔۔نہ یہاں کن فیکون والا کوئی عنصر ھے اور نہ ہی وزیراعظم ٹارزن ھے۔ یہاں آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑتا ھے۔۔پٹرول کی قیمتیں بھی راتوں رات بڑھانا پڑتی ہیں۔۔غیر منتخب لوگوں کو بھی ساتھ رکھنا پڑتا ھے۔۔دوہری شہرہت والوں کو کابینہ میں بھی کھپانا پڑتا ھے۔۔بجلی کے بل میں 35 روپے سے بڑھا کر 100 روپیہ پی ٹی وی کیلئے جگا ٹیکس لگانا پڑتا ھے۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی کاموں کیلئے گرانٹ دینا پڑتی ھے۔ وزیر اعظم ہاوس یونیورسٹی نہیں بن سکتا اور گورنر ہاوس کی دیواریں گرانا بھی ممکن نہیں اور اسکو عوام کی سیرگاہ بنانا بھی ناممکن ھے۔ آپ چاہ کے بھی شوگر مافیا۔۔آٹا مافیا کے خلاف کچھ نہیں کرسکتے اور میڈیسن کی قیمتیں بھی بحرحال بڑھانا پڑتی ہیں۔۔
یہ ایک حقیقت ھے اور اسکو جتنا جلد ھم سب تسلیم کرلیں بہتر ھے۔۔جو بھی آئے گا اس کو انہی پرخار راستوں سے گذرنا ہوگا۔۔کیونکہ ڈی چوک میں اکٹھ کرنا۔۔ اور ملک چلانا یہ دو بالکل الگ الگ چیزیں ہیں۔۔
اسی طرح یہ بھی ایک سچائی ھے کہ اندھا انتقام اور اس میدان میں ضرورت سے زیادہ لگائی جانے والی توانائی بھی آپکے اعصاب اور پرفارمنس پہ اثرانداز ہوتی ھے۔۔
آپ نے دوسال میں اپوزیشن کو بہت گھسیٹا۔۔NAB نے جس طرح لوگوں کو ٹریٹ کیا اگر اسکا بنظر غور مشاہدہ کریں تو اس ادارے نے ان لوگوں کےقد کاٹھ میں اضافہ کیا اور آپکی حکومت کو ڈی ویلیو کیا۔۔نیب نے دراصل آپ سے انتقام لیا ھے۔۔آج تک نیب کوئی ایک کیس ثابت نہیں کرسکا۔۔شاہد خاقان عباسی سے احسن اقبال تک جس بھونڈے انداز میں کیس بنائے گئے وہ اس ادارے سے زیادہ آپکی حکومت کیلئے سوالیہ نشان ہیں۔۔خواجہ برادران کو ایک سال تک پابند سلاسل رکھا اور آج سپریم کورٹ نے تفصیلی فیصلہ میں لکھا کہ اس طرح کا کیس انسانیت کی تذلیل کی بدترین مثال ھے۔۔ان کا پیراگون سٹی سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ھے۔اور یہ کیس سراسر بددیانتی پہ مبنی ھے۔۔۔اسی طرح کے ریمارکس احسن اقبال کیس میں بھی آچکے ہیں۔۔کیا نیب یہ سب کچھ آپ کی منشاء پہ کررہی ھے۔۔؟ اگر نہیں ۔۔۔تو سر آپ وزیراعظم ہیں۔ بلایئں چیئرمین نیب کو اور پوچھیں مسٹر وٹ از دس۔۔۔
خان صاحب یہ سسٹم بڑا ظالم ھے۔۔ یہاں جس نے ایٹمی پاکستان کی بنیاد رکھی وہ تختہ دار پہ جھولا۔۔جس نے تمام تر دباو کے باوجود اسکو جاری رکھا وہ ہوا میں ٹکڑے ٹکڑے ھوا اور جس نے ایٹمی دھماکے کئیے وہ دنیا کیلئے تماشہ بنا ہوا ھے۔۔اب بس کیجئے اور ان امور پہ توجہ دیجئے جن کیلئے آپکو مینڈنٹ ملا ھے۔ دوسال بیت گئے ہیں۔ وقت کم اور کام زیادہ ھے۔۔آپ چیلنج سے نبرد آزما ہوں یہ لوگ خود ہی اپنی موت آپ مر جایئنگے۔۔
باقی فرشتہ کوئی بھی نہیں۔۔وہ بھی جو اپوزیشن میں ہیں۔۔اور وہ بھی جو آپکے دایئں بایئں ہیں۔۔بس فرق اتنا ھے کہ اس وقت۔۔وقت۔۔آپکے ساتھ ھے۔۔مگر جب وقت کروٹ بدلے گا تو فارن فنڈنگ۔۔بی آرٹی۔۔اثاثہ جات۔۔۔سیتا وائٹ۔۔ بنی گالہ زمین کے این او سی اور ریگولایئز۔۔ہیلی کاپٹر اور دوہری شہریت وغیرہ میں سے کسی ایک کیس کو پکڑ کے یہ ظالم سسٹم آپکو ایسا گھسیٹےگا کہ رھے نام اللہ کا۔۔
اس لیئے اب بس کریں۔۔جانے دیں۔۔اور اپنے اھداف کو فوکس کریں۔۔ان اھداف کو۔۔جو آپ کنٹینر پہ کھڑے ھو کے کہتے تھے اور عوام تالیاں بجاتی تھی۔۔
اللہ تعالی آپکا حامی و ناصر ہو۔۔امین۔
غلام شبیر منھاس۔