اسیروں کی صدایئں

{ بکھری سوچیں }
کالم نگار غلام شبیر منہاس

وہ بھی جولائی کا ہی ماہ نامہرباں تھا۔۔آج سے ٹھیک 25 سال پہلے کا ایک ایسا ہی ماہ جولائی۔۔جب انسانیت کو اقوام متحدہ کی امن فوج کے سامنے محض اس لیئے خاک وخوں میں نہلا دیا گیا کہ وہ مسلماں تھے اور انکا جرم ایک الگ اسلامی ریاست تھا۔۔۔۔۔بالکل ایسے ہی جیسے آج مقبوضہ کشمیر والے ہیں۔ ان کی کہانی بالکل مقبوضہ کشمیر والوں سے ملتی ھے۔۔بس ابھی تک وہ وقت نہیں آیا جو ان پہ آیا اور گذر گیا۔۔اللہ کرے قیامت کی وہ گھڑی کشمیریوں پہ کبھی نہ آئے۔۔مگر اس کیلئے محض دعا کافی نہیں۔۔دوا بھی چاییئے ہو گی۔۔۔تقاریر اور ٹیوٹ سے آگے کے سفر کا آغاز کرنا ھوگا۔
اعلان ہوا شہر کے تمام مرد باھر کھلے میدان میں جمع ہوجایئں۔ اعلان کے کچھ ہی دیر بعد فوجی شہر بھر میں پھیل گئے۔۔انھوں نے بسیں روکیں اور ان میں سوار شہر چھوڑنے والے مردوں بوڑھوں اور بچوں کو نیچے اتار لیا۔۔کچھ سپاہی گھروں میں گھس گئے۔۔انھوں نے ماوں کی گود سے بچوں کو چھین لیا۔اور لاٹھی اٹھائے بوڑھوں کو بھی اپنے آگے لگا لیا۔۔۔انھیں ریوڑ کیطرح دھکیلتے اس مخصوص گراونڈ میں لے آئے جہاں مردوں کا پہلے سے ایک جمع غفیر جمع تھا۔ عورتیں اپنے بچوں۔۔مردوں اور بوڑھوں کیلئے چیخ رہی تھیں چلا رہی تھیں اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے سامنے سرب فوج کی اس کارروائی پر رحم کی بھیک مانگ رہی تھیں مگر ان سب کو تسلی دی جارہی۔۔ انھیں بتایا جاتا رھا۔۔کہ گھبرانا نہیں ھے۔۔کسی کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔۔جو شہر سے باہر جانا چاھے گا اسکو جانے دیا جائے گا۔زاروقطار روتی خواتین امن فوج کیطرف بے بسی سے دیکھتی رہیں اور امن فوج انھیں دلاسہ دیتی رہی۔۔شہر محفوظ ہاتھوں میں ھے۔۔کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔
شہر سے باہر یہ میدان جب لوگوں سے بھر گیا۔۔تاحد نظر سر ہی سر۔۔بچوں سے لے کر بوڑھوں تک۔۔سب محو حیرت تھے کہ اب کیا اعلان ھوگاکہ یکایک ایک طرف سے آواز آئی۔۔فائر۔۔تڑخ تڑخ تڑخ۔۔سینکڑوں بندوقوں کے دہانوں سے شعلے نکلے۔۔بارود کی بو اور فائر کی آوازیں یکایک فضا میں بلند ہویئں۔۔مگر انسانی چیخوں کی آواز اتنی بلند تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں چلائی جانے والی گولیوں کی تڑتڑاہٹ بھی دب کر رہ گئی۔ ایک قیامت تھی جو برپا کردی گئی۔ بیٹیوں نے اپنے باپ دادا اور بھایئوں کو۔۔بیویوں نے اپنے سرتاج اور بچوں کو۔۔اپنی آنکھوں کے سامنے خون میں لت پت تڑپتے دیکھا۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط یہ میدان خون۔۔جسموں کے چھیتڑوں۔۔ٹرپتے لاشوں اور نیم مردہ انسانوں کے جسموں سے اٹ چکا تھا۔مگر اس دم توڑتی انسانیت کا امتحان ابھی باقی تھا۔۔۔
یہاں سے فارغ ہو کر افواج نے نیم بے ہوش۔۔روتی تڑپتی اور بین کرتی ان خواتین کیطرف رخ کیا۔اور انکی عصمت دری شروع کردی۔۔عورتوں کا وسیع پیمانے پر ریپ ہوا۔۔ جب خون اور جنسی ہوس کی بھوک مٹی تو اب ان لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا پلان بننا شروع ھوا۔ مشینیں منگوائی گیئں۔ بڑے بڑے گھڑے کھودے گئے اور پانچ پانچ سو سے ھزار ھزار تک آدمیوں کو اٹھا کر ان گھڑوں میں دبانا شروع کیا گیا۔ اس میں یہ بھی نہ دیکھا گیا کہ کچھ انسان ابھی مکمل مرے نہیں تھے۔۔وہ نیم مردہ تھے اور کراہ رھے تھے۔۔ لاشوں کے نیچے دب کر زندہ بچ جانے والے بچوں کو بھی دبا دیا گیا۔ مگر لاشیں زیادہ تھیں اور مشینیں کم۔۔فیصلہ ہوا کہ بس کردیں۔جو لاشیں رہ گیئں ہیں انھیں اسی طرح پڑا رہنے دیا جائے۔۔یہاں سے فارغ ہو کر اقوام متحدہ کے پناہ گزیں کیمپوں کا رخ کیا گیا اور وھاں سے بھی لوگوں کو نکال کر مارا جاتا رھا۔ محض دو دن میں ہچاس ھزار نہتے مسلماں زندہ وجود سے مردہ لاش بنا دیئے گئے۔اور شہر میں کئی روز تک موت کا پہرا رھا۔
تاریخ کی یہ بدترین نسل کشی اور ظلم و بربریت کی اس کہانی کا تعلق نہ تو 2500 سال پرانا ھے اور نہ ہی یہ عہد جاھلیت کا کوئی واقعہ ھے۔۔ بلکہ یہ موجودہ مہذب دنیا میں محض 25 سال پہلے اسی جولائی کے ماہ میں پیش آنے والا واقعہ ھے۔ اور یہ بھی کہ یہ کوئی افریقہ کے وحشی یا پسماندہ خطے میں بھی نہیں۔۔بلکہ یورپ کے وسط میں موجود قصبہ “سربرینیکا” میں ہوا ھے۔ اور مزید یہ کہ انسانی تاریخ کا یہ بدترین واقعہ جب رونما ہوا تو وہاں اقوام متحدہ کی امن فوج تعینات تھی اور عین انکی ناک کے نیچے یہ شرمناک کھیل کھیلا گیا۔ یہ نوے کی دہائی کا واقعہ ھے جب یوگوسلاویہ ٹوٹا تو بوسنیا کے مسلمانوں نے ریفرنڈم کے زریعےاپنے الگ وطن کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ بوسنیا ہرزیگوینا کے نام سے قائم اس ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ یہ ترکوں کے دور عثمانی میں مسلمان ہوئے تھے اور صدیوں سے یہاں رہ رھے تھے لیکن یہاں موجود سرب الگ ریاست سے ناخوش تھے۔ انھوں نے سربیا کی افواج کی مدد سے بغاوت کی۔ جس کے نتیجہ میں سربیا کی فوج نے بوسنیا کے اس بدقسمت شہر سربرینیکا کے گرد محاصرہ کرلیا۔ یہ محاصرہ کئی سال تک جاری رہا اور مہذب دنیا بالکل اسی طرح تماش بین کا کردار ادا کرتی رہی جس طرح آج مقبوضہ کشمیر میں کررہی ھے۔ پھر اقوام متحدہ نے اپنی امن فوج یہاں اتاری اور اعلان ہوا کہ اب یہ علاقہ محفوظ ھے۔ لیکن یہ اعلان محض ایک جھانسا تھا۔ اور اس اعلان کے کچھ ہی روز بعد سرب افواج نے جنرل ملادچ کی سربراہی میں شہر پر قبضہ کرلیا اور اس کے بعد یہ شرمناک کہانی دہرائی گئی۔جو اوپر بیان کی گئی ھے۔ اس دوران نیٹو افواج بھی خاموش رہیں کیونکہ یہاں مرنے والے مسلمان تھے۔ بعد میں اس اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کوفی عنان کا ایک بیان آیا کہ یہ قتل عام اقوام متحدہ کے چہرے پر ایک بدنما داغ کیطرح ہمیشہ رھے گا۔۔۔اور بس۔۔
جولائی کا مہنیہ جب بھی آتا ھے مجھے بوسنیا کے وہ مظلوم مسلمان یاد آجاتے ہیں جن کی تدفین آج 25 برس بعد بھی جاری ھے۔۔آج بھی جب کوئی چرواہا ان جنگلوں کا رخ کرتا ھے تو اس سے کوئی انسانی ڈھانچہ نظر آجاتا ھے جس کو اٹھا کے وہ مٹی کے ڈھیر میں دبا دیتا ھے۔ جگہ جگہ قطار اندر قطار کھڑے پتھر۔۔اس بات کی تو علامت ہیں کہ یہاں لوگ دفن ہیں۔۔مگر کون کس گڑھے میں دفن ھے یہ کسی کو معلوم نہیں۔
جولائی کا اختتام ہورھا ھے۔۔اگست کے شروع میں عید ھے۔۔اور عید کے عین تیسرے دن مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں کے محاصرہ کو ایک سال پورا ہونے کو ھے۔۔365 دن کے یہ اسیر۔۔او آئی سی۔۔اقوام متحدہ سمیت پوری مہذب دنیا کیطرف دیکھ رھے ہیں۔۔مگر مجھے جو فکر کھائے جارہی ھے وہ یہ کہ مہذب دنیا کہیں پھر سے ایک گراونڈ میں ہجوم کے مرنے کی منتظر تو نہیں ھے۔۔خدا کیلئے ان اسیروں کی درد بھری آہیں اور صدایئں سن لیں۔۔دنیا کے منصفو۔۔سری نگر کے میدانوں کو اجتماعی مقتل گاہ بننے سے پہلے کوئی ٹھوس اقدام کرلو۔۔