موتی چور کے لڈو
{ راہ حق }رانا اسد منہاس
بچپن سے ہی ایک محاورہ سنتے آئے ہیں کے شادی موتی چور کے لڈو کی طرح ہے جو کھا لے وہ بھی پچھتاتا ہے اور جو نہ کھائے وہ بھی پچھتاتا ہے۔حقیقت بھی یہی ہے آپ میں سے اگر کسی نے موتی چور کے لڈو نہیں کھائے تو ایک دفعہ میرے کہنے پہ ضرور کھائیے گا اس سے فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کو اس محاورہ کی بڑی اچھی طرح سمجھ آئے جائے گی۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہر کسی کو یہ لڈو کھانے چاہییں اس سے زندگی میں ایک نئے تجربے کا اضافہ ہوتا ہے۔کچھ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے آج کافی دنوں بعد آپ کی خدمت میں حاضری ہوئی ہے۔آج کا موضوع کچھ مختلف بھی ہے اور تلخ بھی،کچھ تلخ حقائق ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اگر ان کو نظر انداز کیا جائے اور ان کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے تو میرے خیال میں یہ اپنے منصب سے غداری اور ناانصافی ہو گی۔
اب آتے ہیں ملکی صورتحال کی جانب اور بات کرتے ہیں موجودہ حکومت کی جس کا حال بھی کچھ موتی چور کے لڈوؤں جیسا ہی ہے۔یہ کرسی بھی موتی چور کے لڈوؤں کی مانند ہی ہے جو اسے حاصل کر لیتا ہے وہ بھی پچھتاتا ہے اور جو حاصل نہیں کر پاتا وہ بھی پچھتاتا ہے۔آپ ہماری آج کی تحریر پڑھ کر ضرور حیران ہو رہے ہونگے کیونکہ آج کا آغاز اور موضوع پہلے سے کافی مختلف ہے۔اب آتے ہیں اصل مدعے کی جانب اور حکومت وقت کی بات کرتے ہیں جس کا حساب بھی موتی چور کے لڈوؤں جیسا ہی نظر آ رہا ہے۔جناب عمران خان صاحب کی حکومت کا زاوال و انحتاط کا سفر مسلسل جاری ہے۔عوام ہمیشہ کی طرح بے حال ہے۔غریب مر رہے ہیں اور غریب سے غریب تر کا سفر جاری و ساری ہے۔تاجر بھی پریشان و بے حال ہیں۔مزدور اور کسان بھی غربت کا رونا رو رہے ہیں۔امید کی تمام کرنیں ڈوبتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ہر طرف مہنگائی،بے روزگاری اور غربت کے ڈیرے ہیں۔اگر کوئی چیز سستی ہوتی ہے تو اس کی فراہمی مشکل ہو جاتی ہے۔بااثر طبقہ اس چیز کو سرے سے غیب کر دیتا ہے۔آخرکار حکومت اس پراڈکٹ کی فراہمی یقینی بنانے میں ناکام ہو جاتی ہے اور اس پراڈکٹ کی قیمت میں اضافہ کر دیا جاتا ہے اور وہی پراڈکٹ دوسرے دن مارکیٹ میں موجود ہوتی ہے۔آپ مثال کے طور پر پیٹرول کے بحران کا اندازہ لگا لیں پیٹرول سستا ہوتے ہی مارکیٹ سے غائب ہو گیا اور مہنگا ہوتے ہی ہر طرف پیٹرول کی ندیاں بہنے لگ گئیں۔مطلب وہی کہ حکومت وقت تمام مسائل حل کرنے میں فی الحال ناکام نظر آ رہی ہے۔
پانچ سال پورے ہونے کو ہیں لیکن سوا اپوزیشن پہ راستے تنگ کرنے کے اور کوئی خاطر خواہ نتائج بر آمد نہیں ہو سکے۔رہی سہی قصر کورونا وائرس نے نکال دی ہے جس نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور غوطے کھاتی معیشت کو پھر سے ڈبو دیا ہے۔کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ معیشت پہلے سے بہتر ہوئی ہے تعجب کی بات ہے ان کو کہاں پہ بہتری نظر آ رہی ہے،اگر معیشت بہتر ہوئی ہے تو مہنگائی کی شرح میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟غربت کی شرح مسلسل کیوں بڑھ رہی ہے؟بیروزگاری میں بتدریج کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟کاروباری حضرات پریشان کیوں ہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا کسی کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ہے۔
اس ساری صورتحال کے پیش نطر عوام اپنے منتخب شدہ نمائندوں کا رخ کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نمائندے خود غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اور بے بس،لاچار اور مجبور ہیں۔ان میں سے اکثر جناب کپتان سے نالاں نظر آتے ہیں اور اکثر کی تو مستعفی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔اگر وزیر اعظم پاکستان جناب کپتان سے سوال کریں تو وہ یہ کہہ کر بات ختم کر دیتے ہیں کہ میں نون لیگ و دیگر اپوزیشن جماعتوں کو نہیں چھوڑوں گا،میں لٹکا دوں گا،میں جیلیں بھر دوں گا،میں ملک سے باہر نکال پھینکوں گا وغیرہ وغیرہ۔یعنی کے جناب کپتان صاحب الیکشن سے قبل سے لے کر اب تک صرف ایک ہی بات کر رہے ہیں اور وہ ہے اپوزیشن کی پکڑ دھکڑ اس کے علاوہ نہ ان کو کوئی بات آتی ہے اور نہ وہ کرنا ہی چاہتے ہیں۔کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جناب کپتان صاحب اقتدار میں آ کر پھنس چکے ہیں اب نہ ان کو آگے کوئی راستہ نظر آتا ہے اور نہ پیچھے کا۔اگر کوئی صحافی حکومت وقت کے موؤقف کی تردید کرتا ہے تو اس کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اسے لفافے صحافی کا لقب دے دیا جاتا ہے۔اگر تو حکومت وقت کی غلط پالیسیوں پہ تنقید کرنا جرم ہے تو پھر حکومت وقت سے میری گزراش ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن کے علاوہ تمام نیوذ چینلز کو بند کر دیا جائے۔خدا راہ حالات کو سمجھیں اور غریب کی روٹی کا کچھ کریں۔آپ اپوزیشن کو ضرور رگڑیں،تمام کرپٹ لوگوں کو نشان عبرت بنائیں،جن لوگوں نے پاکستانی قوم کو سالوں سے لوٹا ہے ان سے لوٹا ہوا مال برآمد کریں لیکن خدا کے لیے غریب کے چولہے کا بھی کچھ کریں۔کچھ نظر شفقت اس مزدور طبقے کی طرف بھی فرمائیں جو غربت سے تنگ آکر خودکشیاں رہے ہیں۔عوام آپ سے بیزار ہو چکے ہیں آپ کے پیچھے اس وقت ماسوائے جزباتی سپورٹران کے اور کوئی بھی کھڑا نظر نہیں ٓ رہا۔جن لوگوں نے آپ پہ بھروسہ کر کے آپ کو ووٹ دیا تھا وہ آپ کی راہ تک رہے ہیں اور اس تبدیلی کے منتظر ہیں جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا تھا۔
رانا اسد منہاس










